Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183912
Published : 23/10/2016 17:2

کیا شیعہ مذہب ایرانیوں کی بدولت وجود میں آیا؟

بعض مصنفین نے شیعیت کو ایرانیوں کے ذہن وخیال کی پیداوار قراردیا ہے یہ نظریہ بعض مستشرقین ذریعہ سامنے آیا اور اسے چندمتعصب اہل سنت نیز بعض قوم پرست ایرانی دانشمندوں کی حمایت بھی حاصل ہے،اس نظریہ کے غلط ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ شیعوں کے بارہ امام سب کے سب نسلی اعتبار سے عرب تھے شیعوں کے بہت سارے علماء کا تعلق عرب خاندانوں سے تھا جیسے آل اعین،آل عطیہ،بنی دراح،شیخ مفید(رہ)،سید مرتضیٰ(رہ)،محقق حلی(رہ)،علامہ حلی(رہ)،ابن طاوؤس(رہ)،ابن ادریس(رہ)،فاضل مقداد(رہ)،شہید اوّل(رہ)،شہید ثانی(رہ) وغیرہ،جبکہ سنیوں کے چاروں اماموں میں سے کوئی ایک بھی عرب نہیں تھا بلکہ عربوں کے موالی تھے،اسی طرح صحاح ستہ کے مولفین،اور دیگرکثیر متکلمین،محدثین اور برجستہ فقہاء بھی عرب نہیں تھے۔

ولایت پورٹل:
بعض مصنفین نے شیعیت کو ایرانیوں کے ذہن وخیال کی پیداوار قراردیا ہے یہ نظریہ بعض مستشرقین ذریعہ سامنے آیا اور اسے چندمتعصب اہل سنت نیز بعض قوم پرست ایرانی دانشمندوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔(۱)
ان لوگوں نے اپنے مفروضہ نظریہ کی وضاحت میں جو باتیں بیان کی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں:
الف:مسئلہ امامت میں وصایت ووراثت کا عقیدہ جو شیعہ مذہب کا بنیادی عقیدہ ہے یہ عربوں کے درمیان  نہیں پایا جاتاتھا لیکن ایرانیوں کے درمیان رائج تھا اورایران کے شہنشاہی نظام کی بنیاد یہی طریقۂ کار تھا۔
ب:ایرانیوں کے یہاں شیعہ اماموں کے حد درجہ احترام کے پس پشت قومی جذبہ کارفرما ہے کیونکہ امام حسین(ع)کی شادی یزدگرد سوم کی بیٹی کے ساتھ ہوئی تھی اور شیعوں کے امام ان ہی کی نسل سے ہیں اس بنا پر ائمہ(ع)کو ایران سے نسبت حاصل ہے۔
ج:اسلامی فوج کے ہاتھوں شکست اور ایران کے مغلوب ہوجانے کے بعد احساس ذلت کے باعث ایرانیوں کے دل میں عرب مسلمانوں سے کینہ پیدا ہوگیا لہٰذا وہ ان سے انتقام کی فکر میں لگے رہے اور اپنے اس مقصد کو انہوں نے امامت کے بارے میں شیعوں کے مخصوص عقائد ایجاد کرکے حاصل کرلیا،شیعہ اور سنی عقائد کے اختلاف کا سر چشمہ مسئلہ امامت ہی ہے۔
اس نظریہ کی تنقید کے طور پر چند باتوں کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے:
۱۔امامت میں وصایت کا تذکرہ پیغمبر اکرم(ص)کی احادیث میں موجود ہے(۲)جیسا کہ اس سے پہلے بھی گذر چکا ہے حضرت علی(ع) کے اقوال میں بھی یہ تذکرہ موجود ہے۔اسی بنا پر یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی منابع ومآخذ سے ماخوذ ہے ایران کے شہنشاہی نظام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
۲۔جغرافیائی اعتبار سے ابتدائے اسلام میں شیعوں کے اہم علاقے حجاز،عراق اور یمن تھے نہ کہ ایران اور حضرت علی(ع) کے زمانہ میں آپ کے زیادہ تر شیعوں کا تعلق عرب کی سرزمین سے تھا جس طرح کہ جنگ جمل،صفین اور نہروان میں آپ کے اکثر فوجی عرب کے ہی باشندے تھے۔
۳۔تاریخی اسناد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب ایرانیوں نے اسلام قبول کیا تو چونکہ اس وقت سنی مذہب اور سیاست کا چرچا تھا لہٰذا وہ بھی سنی ہی ہوگئے،اس کے بعد ہی ان کے درمیان آہستہ آہستہ شیعہ مذہب رائج ہوا جس کے مختلف وجوہات ہیں،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عراق یا حجاز جیسے عرب علاقوں سے جوشیعہ ایران پہنچے تھے وہی افرادنے ایران میں شیعہ مذہب کی ترویج کا باعث ہوئے چنانچہ یاقوت حموی نے معجم البلدان میں تحریر کیا ہے:اس شہر کو حجاج بن یوسف کے دور میں طلحہ بن احوص نے آباد کیا تھا ،اس سے پہلے یہ سات گاؤں تھے جو کمندان کے نام سے مشہور تھے،اس کی تفصیل یہ ہے کہ عبد الرحمان بن محمد بن اشعث بن قیس جو  حجاج کی طرف سے سیستان کا والی تھا اس نے حجاج کے خلاف شورش کردی جب وہ حجاج سے شکست کھاکر کابل کی طرف فرار کر گیا تو سعد بن مالک بن عامراشعری کے بیٹے جو اس کی فوج میں شامل تھے،وہ قم کے علاقہ میں آئے اور کمندان نامی سات دیہاتوں پر ان کا تسلط قائم ہوگیا،دھیرے دھیرے ان کے چچازاد طھائی بھی ان کے پاس پہنچ گئے،پھر اس کا نام کمندان سے تبدیل ہوکر «قم» ہوگیا،ان بھائیوں میں سے ایک عبد اللہ بن سعد بھی تھے اور وہ مذہب امامیہ کے ماننے والے تھے اور ان کی اولاد کوفہ میں تھی وہ بھی کوفہ منتقل ہوگئے یہی حضرات قم میں شیعیت کی نشر واشاعت کا سبب ہوئے۔(۳)
محمد ابوزہرہ نے اس بارے میں یہ کہا ہے کہ:ایرانیوں نے عربوں کے ہاتھوں شیعیت قبول کی اور وہ شیعیت کے موجد ہرگز نہیں ہیں بہت سارے علمائے اسلام جو تشیع کی طرف مائل تھے وہ اموی اور عباسی خلفاء کے خوف سے فارس خراسان اور اسلامی مملکت کے دوسرے علاقوں میں جاکر آباد ہوگئے اور ان ہی کی وجہ سے شیعیت کو رواج حاصل ہوابنی امیہ کی حکومت کے زوال سے قبل ان علاقوں میں شیعیت رائج ہوچکی تھی۔(۴)
۴۔اس نظریہ کے غلط ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ شیعوں کے بارہ امام سب کے سب نسلی اعتبار سے عرب تھے شیعوں کے بہت سارے علماء کا تعلق عرب خاندانوں سے تھا جیسے آل اعین،آل عطیہ،بنی دراح،شیخ مفید(رہ)،سید مرتضیٰ(رہ)،محقق حلی(رہ)،علامہ حلی(رہ)،ابن طاوؤس(رہ)،ابن ادریس(رہ)،فاضل مقداد(رہ)،شہید اوّل(رہ)،شہید ثانی(رہ) وغیرہ،جبکہ  سنیوں کے چاروں اماموں میں سے کوئی ایک بھی عرب نہیں تھا بلکہ عربوں کے موالی تھے،اسی طرح صحاح ستہ کے مولفین،اور دیگرکثیر متکلمین،محدثین اور برجستہ فقہاء بھی عرب نہیں تھے۔(۵)
۵۔اس نظریہ کا لازمہ یہ ہے کہ ایرانی حضرات امام زین العابدین،کی والدہ گرامی جناب شہر بانو کا احترام دوسرے آئمہ(ع) کی ماؤں سے زیادہ کرتے جو ایرانی نہیں تھیں جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ شاید امام زمانہ(عج) کی والدہ گرامی جناب نرجس خاتون کا احترام ان سے بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان کاتعلق روم سے ہے اس کے علاوہ امام حسین(ع)اور امیر المومنین(ع) کے بارے میں اس نظریہ بالکل بے بنیاد ہے کہ جناب شہر بانو کی نسبت سے صرف نسل امام حسین(ع) سے ائمہ(ع)کا احترام ثابت کیا جا سکتا ہے۔
اگر ایرانی صرف اس لئے اپنے ائمہ(ع)کا احترام کرتے ہیں کہ ساسانی خاندان سے ان کی رشتہ داری ہے تو انہیں بنی امیہ کے خاندان کو بھی اسی احترام کی نظر سے دیکھنا چاہیئے تھا کیونکہ ولیدبن عبدالملک کے زمانہ میں قتیبہ بن مسلم کی ایک جنگ میں یزدگرد کی ایک نواسی«شاہ آفرید» قید ہوگئی تھی جس سے ولید نے شادی کرلی تھی اور اس سے یزید بن ولید پیدا ہوا تھا جو «یزید ناقص» کے نام سے مشہور ہے اس طرح یزید بن ولید کا شجرۂ نسب بھی ساسانی خاندان سے ملتا ہے۔
ساسانی خاندان کی طرف یزید بن ولید کی نسبت امام زین العابدین(ع) کی نسبت سے کہیں زیادہ محکم  ہے کیونکہ بعض مورخین نے شہر بانو بنت یزدگرد سے امام حسین(ع) کی شادی کے بارے میں اختلاف کیا ہے لیکن کیس مورخ نے ولیدبن عبد الملک کی شادی کے بارے میں کسی شک کا کوئی اظہار نہیں کیا ہے۔(۶)
۶۔اثناعشری شیعوں کے عقائد دوسرے مسائل کی طرح مسئلہ امامت میں بھی کتاب وسنت نبوی یااحادیث ائمہ(ع)اور واضح عقلی دلائل سے ماخوذ ہیں اور اگر انصاف سے کام لیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ تشیع ہی اصل اسلام ہے،اس صورت میں یہ کہنا کہ ایرانیوں نے مسلمانوں سے انتقام کی خاطر شیعیت کو ایجاد کیا ہے یہ شیعیت پر بہت بڑی تہمت ہے۔
۷۔تاریخی اسناد شاہد ہیں کہ ایرانیوں نے اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور اس میں خوف مجبوری یادہشت کاکوئی دخل نہیں تھا ایرانیوں کے اسلام قبول کرنے اور اسلامی فوج کے سامنے جھکنے کا سبب یہ تھا کہ ایرانی ایک جانب تو اسلامی عقائد و تعلیمات کی حقانیت سے متاثر ہو رہے تھے اور دوسری جانب وہ ساسانی بادشاہوں کے مظالم سے عاجز آچکے تھے یابہ الفاظ دیگر ایک طرف تو عدالت ومساوات پر استوار اسلامی احکام وقوانین اور دوسری جانب ساسانیوں کے طبقانی نظام مظالم کی بنیاد پر ایرانیوں نے اسلام قبول کیا اوراسی لئے انہوں نے اسلامی فوج کا مقابلہ نہیں کیا مگر یہ صورتحال نہ ہوتی توایران کو اتنی  آسانی سے فتح کرنا ممکن نہیں تھا مزید یہ کہ اسلامی فوج کے ہاتھوں ایران کی شکست کے بعد بھی ایرانی اسلام قبول کرنے کے بارے میں آزاد تھے اور جزیہ دے کر زتشتی مذہب پر باقی رہ سکتے تھے جس طرح دیگر مذاہب کے ماننے والے اسلامی حکومت میں اسی انداز سے رہتے تھے اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں تھے،اڈوارڈ براون اس بارے میں تحریر کرتا ہے:
اسلام نے زرتشتی مذہب پر کس طرح غلبہ حاصل کیا اس بارے میں تحقیق کرنا اس سے کہیں مشکل ہے کہ عربوں نے ساسانیوں کی سر زمین پر کس طرح غلبہ حاصل کیا تھا،ممکن ہے کوئی یہ تصور کرے کہ اسلامی مجاہدین اپنے مفتوحہ ممالک اور اقوام کو دوراستوں میں سے ایک راستہ کے انتخاب پر مجبور کرتے تھے،ایک قرآن دوسرے تلوار،لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے کیونکہ دہریہ،یہودی اور عیسائی اپنے مذاہب پر باقی تھے اور صرف جزیہ(ٹیکس) دینے پر مجبور تھے اور یہ طریقۂ کار بالکل عادلانہ تھا کیونکہ خلفاء کے غیر مسلم عوام جنگوں میں شرکت اور خمس وزکات سے معاف تھے جبکہ پیغمبر اکرمؐ کی امت پر یہ چیزیں فرض ہیں۔(۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مشرق شناس:کانٹ گوبینو،اڈوارڈ براون،اہلسنت علماء میں سے:احمد امین مصری اپنی کتاب فجرالاسلام میں اور ایرانی لیبرل دانشمندوں میں ڈاکٹر پرویز صانعی مولف کتاب«قانون اور شخصیت»کا نام لیا جاسکتا ہے ملاحظہ فرمایئے خدمات متقابل اسلام وایران،ج ا،ص ۱۲۸۔۱۳۱۔
۲۔آیۂ «انذار»کے بار ے میں حدیث یوم الدارکتب تاریخ وحدیث میں مشہور ہے۔
۳۔معجم البلدان،ج۴،ص۳۹۴ ،کلمہ قم۔
۴۔بحوث فی الملل والنحل،ج۶،ص۱۴۵۔۱۴۶،اعیان الشیعہ،ج۱،ص۲۶،الشیعہ و التشیع،ص ۶۴۔۷۱۔     
۵۔اعیان الشیعہ،ج ۱،ص ۳۲،نشاۃ التشیع، ص۴۷۔۹۷۔
۶۔خدمات متقابل اسلام وایران،ج۱،ص۱۴۱۔۱۴۳۔
۷۔تاریخ ادبیات عرب ایران،ج ۱،ص۲۹۷،ایرانیوں کے شیعہ ہونے کے دیگر اسباب اور اس سلسہ میں غلط نظریات کے حالات کے تنقید ی مطالعہ  کے لئے :خدمات متقابل اسلام وایران،ج۱،ص۱۲۸۔۱۵۴ ملاحظہ فرمایئں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18