Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183915
Published : 23/10/2016 19:38

کربلا کے بعد سیاسی،سماجی حالات پر رہبر انقلاب کا تبصرہ:

واقعہ کربلا کے بعد،سیاسی و سماجی حالات(۲)

اگرچہ 65-64ہجری میں توابین کی تحریک نے عراق کی فضا میں تازہ ہوا پیدا کی، (ظاہراً توابین کی شہادت 65 ہجری میں ہوئی ہے) لیکن ان سب کی شہادت سے عراق و کوفہ میں اور زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا اور اموی نظام کے مخالف (یعنی مختار اور مصعب بن زبیر) جبھی سے ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوئے تھے اور مکہ میں عبداللہ بن زبیر، اہل بیت(ع) کے چاہنے والے مختار کو برداشت نہ کرسکا اور مختار مصعب کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔


ولایت پورٹل:اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہم پہلے پیش کرچکے ہیں،اس کے لئے ذیل پر کلک کیجئے:

واقعہ کربلا کے بعد،سیاسی و سماجی حالات(۱)

حرّہ کا واقعہ ٹھیک 63ہجری میں پیش آیا، اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ 62ہجری میں بنی امیہ میں سے ایک کم تجربہ جوان مدینہ کا حاکم بنا، اس نے سوچا کہ مدینہ کے شیعوں کے دل جیتنے کے لئے بہتر ہے کہ شیعوں کی ایک جماعت کو یزید سے ملاقات کے لئے دعوت دی جائے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، مسلمانوں میں سے چند سربرآوردہ اشخاص کچھ اصحاب رسول(ص) اور مدینہ کے بعض بزرگوں کو(جو غالباً یہ لوگ امام زین العابدین(ع) کے معتقدین میں سے تھے)دعوت دی کہ شام چلے جائیں اور یزید سے مانوس ہوجائیں تاکہ اختلاف کم ہوجائیں،یہ لوگ شام گئے، یزید سے ملاقات کی، چند دن اس کے مہمان رہے، ان کی خاطر تواضع بھی ہوئی، یزید کی طرف سے ہر ایک کو اچھا خاصا پیسہ بھی (ایک لاکھ، یا پچاس ہزار درہم تک) ملا اور یہ لوگ مدینہ واپس آئے۔

جیسے ہی یہ لوگ مدینہ پہنچے تو انہوں نے (دربارِ یزید میں واقع ہونے والی ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے) یزید پر تنقید کرنا شروع کردی، معاملہ بالکل الٹاہوگیا، انہوں نے لوگوں کے سامنے یزید کی تعریف کرنے کے بجائے اس کے مظالم بیان کئے اور کہا:یزید کیسے خلیفہ ہوسکتا ہے جب کہ وہ شراب پیتا ہے،کتوں سے کھیلتا ہے، فسق و فجور کا ارتکاب کرتا ہے اورہم نے اسے خلافت سے الگ کردیا ہے۔

مدینہ کی ایک شخصیت اور نمایاں چہرہ، عبداللہ بن حنظلہ(۱)یزید کے خلاف اٹھنے والوں یزید کو خلع خلافت کرنے والوں اور لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے والوں میں پیش پیش تھے۔

یہ ساری چیزیں اس بات کا موجب ہوئیں کہ ردِّعمل کے طور پر یزید بھی کچھ کرے چنانچہ اس نے بنی امیہ کے ایک پیر فرتوت (بوڑھے کھوسٹ)مسلم بن عقبہ کی سرکردگی میں مدینہ کی طرف ایک گروہ روانہ کیا اور اس سے کہا: مدینہ کے لوگوں کی زبان بند کردینا، مسلم بن عقبہ مدینہ آیا اور لوگوں کی مقاومت اور قیام کو کمزور کرنے کے لئے چند روز تک اس نے مدینہ کو محاصرہ میں رکھا،اس کے بعد شہر میں درآیا اورایسا ظلم وستم کیا،ایسا قتل عام مچایااور ایسے ایسے جنایات کا مرتکب ہوا کہ جو تاریخ اسلام میں کم نظیر ہے۔

اس نے ایسا ظلم و زیادتی اور قتل عام کیا کہ اس کے بعد لوگوں نے اس کا نام «مسرف»۔(۲)رکھ دیا اور اسے مسرف بن عقبہ کہنے لگے،واقعۂ حرّہ کے بہت سے ماجرے ہیں میں سب کو تفصیل سے نہیں بیان کرنا چاہتا،البتہ یہ ضرور کہوںگا کہ یہ واقعہ اہل بیت(ع) کے شیعوں اور پیرؤں کو دہشت زدہ اور مرعوب کرنے کا بڑا ذریعہ تھا خصوصاً اہل مدینہ کے لئے، کچھ لوگ وہاں سے بھاگ گئے، بعض کو قتل کردیا گیا اور بعض دوستانِ اہل بیت(ع)، جیسے عبداللہ بن حنظلہ  وغیرہ کو شہید کردیا گیا اور ان کی جگہ پُر کرنے والا کوئی نہ رہا، اس المناک واقعہ کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ حکومتِ وقت ان تحریکوں کو بے رحمی سے کچلتی ہے اور کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

اس حادثہ کے بعد جوواقعہ شیعوں کو کمزور کرنے اوران کا سرکچلنے کا باعث ہوا وہ کوفہ میں جناب مختار کی شہادت اورعالم اسلام پر عبدالملک بن مروان کا تسلط ہے۔

یزید کے بعدبرسراقتدار ہونے والے خلفاء میں سے ایک معاویہ بن یزید تھا جو تین ماہ سے زیادہ حکومت نہیں کرسکا،اس کے بعد مروان بن حکم تخت حکومت پر بیٹھا، دو سال تک اس نے حکومت کی، اس کے بعد عبدالملک خلیفہ ہوا،عبدالملک نے پورے عالم اسلام کواپنے قبضہ میں کرلیا اورخوف وہراس پیدا کرنے والی اور دہشت زدہ کردینے والی حکومت بنانے میں کامیاب ہوا۔

عبدالملک کی حکومت کا تسلط اس بات پر موقوف تھا کہ اس کے رقیب و حریف ختم ہوجائیں، مختار جو کہ تشیع کا مظہر تھے وہ عبدالملک کے اقتدار سے پہلے ہی مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شہید ہوچکے تھے لیکن عبدالملک مختار کی تحریک کے باقیات اور دوسری شیعی تحریکوں کو معدوم کرنا چاہتا تھا اور اس نے ایسا ہی کیا بھی،درحقیقت شیعہ عراق میں خصوصاً اس زمانہ کے شیعی مرکز کوفہ میں رکود و سکوت کا شکار ہوئے۔

اگرچہ 65-64ہجری میں توابین کی تحریک نے عراق کی فضا میں تازہ ہوا پیدا کی، (ظاہراً توابین کی شہادت 65  ہجری میں ہوئی ہے) لیکن ان سب کی شہادت سے عراق و کوفہ میں اور زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا اور اموی نظام کے مخالف (یعنی مختار اور مصعب بن زبیر) جبھی سے ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوئے تھے اور مکہ میں عبداللہ بن زبیر، اہل بیت(ع) کے چاہنے والے مختار کو برداشت نہ کرسکا اور مختار مصعب کے ہاتھوں شہید ہوگئے تو ایک بار پھر خوف و ہراس میں اضافہ ہوگیا، عبدالملک بن مروان کے برسراقتدار آنے کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعدپوری طاقت وقدرت کے ساتھ سارا عالم اسلام بنی امیہ کے زیرنگیں آگیا اور عبدالملک نے اکیس سال تک بڑے طمطراق کے ساتھ حکومت کی۔ (18؍مئی 1986عیسوی)۔

بہر صورت ان حادثوں کا سلسلہ واقعۂ عاشورہ سے شروع ہوا اور جاری رہا، مثلاً واقعۂ حرّہ رونما ہوا،عراق میں توابین۔(۳) کی تحریک کو کچلا گیا، مختار کو شہید کیا گیا، ابراہیم بن مالک اشتر نخعی اور  دوسرے شیعہ بزرگوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ اس گروہ کی شہادت کے بعد، آزادی کی تحریکوں کو خواہ مدینہ میں ہوخواہ کوفہ میں(تشیع کے یہی دو اصلی مرکز تھے) کچل دیا گیا اور عالم اسلام میں شیعوں کے لئے شدید گھٹن کا ماحول بن گیا اور ائمہ(ع) کے پیرو نہایت ہی غربت و بے کسی کے عالم میں رہ گئے۔(پاسدار اسلام،ص۸)

اس خوف ودہشت کے ساتھ ایک چیز اور وجود میں آگئی اور وہ یہ تھی کہ عالم اسلام میں لوگ فکری انحطاط کا شکار ہوگئے،اس فکری انحطاط کا سبب گذشتہ بیس برسوں میں تعلیمات دین سے بے توجہی تھی،  40ہجری کے بعد رسول(ص) کے زمانۂ وصال کے بعد دین کی تعلیم ایمان کی عظمت، آیتوں کی تفسیر اور حقائق بیانی کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا کہ لوگوں کے دل عقیدہ اور ایمانی سرمایہ سے بالکل خالی ہوچکے تھے،اس زمانہ کے لوگوں کی زندگی کا جب کوئی شخص دقت کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے تو جو کچھ تواریخ اور متعدد روایات میں آیا ہے اس سے ان کی زندگی کے حقائق سامنے آجاتے ہیں، البتہ وہ علماء، قُرّاء اورمحدثین تھے جن کے بارے میں تھوڑی دیر بعد عرض کروںگا،لیکن عام لوگوں کے ایمان اور عقیدہ میں کافی کمزوری آگئی تھی، نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ دربار خلافت کے بعض کارندے نبوت پر بھی سوالیہ نشان لگانے لگے تھے، بہت سی کتابوں میں لکھا ہے کہ جن پست و دَنی لوگوں کو بنی امیہ نے عہدے دئیے تھے ان میں سے ایک خالد بن عبداللہ قسری بھی تھا وہ:«کَانَ یَفْضُلُ خِلَافَۃَ عَلیٰ النَّبُوَۃِ»،خلافت کو نبوت سے افضل قرار دیتا تھا، اور اس پر دلیل بھی قائم کرتا تھا اور کہتا تھا:«أَخَلِیْفَتُکَ فِی اَھْلِکَ اَحَبُّ اِلَیْکَ وَآثَرُ عِنْدَکَ اَمْ رَسُوْلُک»۔(۴)

یعنی آپ اپنے خاندان کے جس شخص کو خلیفہ مقرر کرتے ہیں وہ آپ کے زیادہ نزدیک ہوتا ہے یا وہ شخص زیادہ قریب ہوتا ہے جس کو ایک پیغام پہنچانے کے لئے کہیں بھیجا ہے۔

واضح ہے کہ آپ سے وہ شخص زیادہ قریب ہے جو آپ کے گھر کا ہے اور جس کو آپ نے خلیفہ بنایا ہے تو خدا کا خلیفہ (دیکھئے اس شخص نے رسول(ص) کا خلیفہ نہیں کہا) رسول خدا(ص) سے افضل ہے۔

یہ جملے خالد بن عبداللہ قسری کہتا تھا،دوسرے بھی کہتے تھے، میں(مؤلف) نے بنی امیہ کے دربار کے شعراء کے کلام کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ عبدالملک کے زمانہ سے اشعار میں خلیفۃ اللہ کی اس قدر تکرار ہوئی ہے کہ انسان خلیفۂ رسولؐ کو بھول جائے،یہ سلسلہ بنی عباس کے عہد تک جاری رہا۔

                 بَنِیْ اُمَیَّۃَ ھَبُوا طَالَ نَومُکُمْ                     اِنَّ الْخَلِیْفَۃَ یَعْقُوْبُ بْنِ دَاؤُدَ

            ضَاعَتْ خِلَافَتُکُمْ یَا قَوْمِ فَالْتَمِسُوْا            خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ بَیْنَ الزِّقِ وَالْعَودِ(۵)

یہاں تک کہ جب کوئی شاعر خلیفہ کی ہجو کرتا تھا تب بھی اسے «خَلِیفَۃُ اللّٰہ» ہی کہتا تھا اور اس زمانہ کے مشہور شعراء جیسے جَریر، فرزدق، کثیر وغیرہ جب خلیفہ کی مدح کرتے تھے تو اسے خلیفۃ اللّٰہ ہی کہتے تھے، خلیفۂ رسول اللہ نہیں کہتے تھے،یہ ایک نمونہ ہے اسی طرح لوگوں کے عقائد یہاں تک کہ دینی مبانی (دین کی بنیادی چیزوں) میں ضعف آگیا تھا، لوگوں کے  اخلاق بھی بہت خراب ہوگئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

۱۔حنظلہ وہی جوان ہیں جو شب زفاف کی صبح کوبغیر غسل جنابت کئے رسول(ص) کی فوج سے ملحق ہوئے اور جنگ احد میں درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ملائکہ نے انہیں غسل دیا یہی وجہ ہے کہ وہ غسیل الملائکہ کے نام سے مشہور ہیں۔

۲۔اسراف کرنے والا ،کسی کام میں حد سے گذر جانے والا۔

 ۳۔توابین کی تحریک واقعۂ کربلا کا اولین ردعمل تھا جو کوفہ میں ظاہر ہوا، امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد بعض شیعہ آپس میں ایک دوسرے سے باز پرس کرتے اور سرزنش کرتے تھے کہ امام(ع) کی دعوت پر کیوں لبیک نہیں کہا اور ان کی مدد کے لئے کیوں نہیں گئے، انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اس گناہ کو کوئی چیز پاک نہیں کرسکتی مگر یہ کہ ابوعبداللہ الحسین کے قاتلوں اور دشمنوں سے ان کے خون کا انتقام لیا جائے، لہٰذا وہ کوفہ میں آئے پانچ شیعہ بزرگوں نے گفتگو کی اور سلیمان بن صرد خزاعی کو اپنا رہبر منتخب کیا اور اسلحہ کے ساتھ کھلّم کھلّا اپنی تحریک کا آغاز کیا۔

سن  65ہجری شب جمعہ 25 ربیع الثانی کویہ توّابین امام حسین(ع) کے مرقد کی زیارت کے لئے آئے اور اس قدر روئے اور گڑگڑائے کہ جس کی مثال آج تک دیکھنے میں نہیں آئی، پھر قبر منور سے وداع ہوکر حاکم شام سے جنگ کے لئے شام کی طرف روانہ ہوئے، بنی امیہ کی فوج سے جنگ کی اور سب نے جام شہادت نوش کیا،توابین کی تحریک میں دلچسپ بات یہ ہے کہ باوجودیکہ یہ کوفہ میں تھے لیکن شام گئے اور حکومت سے لڑے تاکہ یہ ثابت کریں کہ قاتل امام حسین(ع) کوئی ایک فرد یا چند اشخاص میں منحصرنہیں ہیں بلکہ پورا نظام حکومت ہے جس نے امام حسین(ع) کو شہید کیا ہے۔(مؤلف)

۴۔ اخبار الطوال، ص۳۴۶ ۔

۵۔طبقات الشعراء، ص۳،«بنی امیہ بہت سو چکے ،اب اٹھو! یعقوب بن دائوو خلیفہ ہوگیا اور تمہاری خلافت برباد ہوگئی جائو جامِ شراب وکباب اورسوزو ساز (چنگ ورُباب)میں خلیفہ کو تلاش کرو»۔

نوٹ : یہ تبصرہ جاری ہے۔
از:۲۵۰ سالہ انسان ،رہبر انقلاب کے افکار پر مشتمل کتاب


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16