Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183922
Published : 24/10/2016 16:52

خلیفہ اول کے دور میں شیعوں کے حالات

حضرت علی(ع) کے ماننے والوں نے بھی مختلف اوقات میں ابوبکر سے گفتگو کے دوران صاف الفاظ میں حضرت علی(ع) کی بلا فصل امامت وخلافت کے بارے میں اپنے عقیدہ کااظہار کیاہے،چنانچہ جن لوگوں نے ابوبکر کے سامنے حضرت علی(ع) کی امامت کے بارے میں دلائل پیش کئے،شیخ صدوق(رہ) نے ایسے بارہ لوگوں کے نام ذکر کئے ہیں۔

ولایت پورٹل:شیعیت کی سیاسی اور اجتماعی تاریخ کا پہلا دور رسول اکرم(ص) کی وفات سے شروع ہوکر امیر المومنین(ع) کی شہادت تک جاری رہا اس مرحلہ کے آغاز سے ہی امامت وخلافت کا مسئلہ دنیائے اسلام کے اہم ترین سیاسی اور دینی مسائل کے عنوان سے ابھر کر سامنے آیا اور اس سلسلہ میں جو اختلافات رونما ہوئے ان کی بنا پر شیعہ ایک ایسے اسلامی فرقے کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا جو امامت کے لئے پیغمبر اکرم(ص) کی نص اور آپ(ص) کی طرف سے منصوب کئے جانے کے قائل تھا،جبکہ دوسری جانب جو مہاجرین وانصار خلیفہ رسول(ص) کے انتخاب کے لئے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے تھے ان لوگوں نے آپسی اختلافات اور بحث وتکرارکے بعد ابوبکر کو رسول خدا(ص) کے خلیفہ تسلیم کر لیا اور اسلامی حکومت کے حاکم کی حیثیت سے ان کی بیعت کرلی،اس طرح ابوبکر نے مسلمانوں کے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی یہ سلسلہ دو سال سات مہینے تک جاری رہا۔
اس مرحلہ کی ابتداء میں ہی حضرت علی(ع)اور آپ کی امامت تسلیم کرنے والوں نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کردیا اور مناسب مواقع پر اپنے  عقیدہ کی وضاحت بھی کرتے رہے ابن قتیبہ کے مطابق ابوبکر کے حکم سے حضرت علی(ع) کو حاضر کیا گیا اور آپ سے ابوبکر کی بیعت کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو آپ نے ان سے فرمایا:«انااحق بھذا الامر منکم،لاابایعکم وانتم اولیٰ بالبیعة لی»۔(۱)«میں اس امر کے لئے تم سے زیادہ حقدار ہوں ،میں تمہاری بیعت نہیں کر سکتا بلکہ تم لوگوں کو میری بیعت کرنا چاہئے»۔
اس موقع پر عمر اور ابوعبیدہ جرّاح نے حضرت علی(ع) سے کچھ باتیں کہیں اور ابوبکر کی بیعت کرنے کے لئے زور ڈالا لیکن امام(ع) نے دوبارہ ان کے سامنے یہی فرمایا کہ وہ اور اہل بیت پیغمبر(ص) ہی خلافت وامامت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں ،چنانچہ آپ نے فرمایا:«فواللہ یا معشر المھاجرین لنحن احق الناس به لانا اھل البیت ونحن احق بھذا الامر منکم ماکان فینا القاری لکتاب اللہ،الفقیه فی دین اللہ العالم بسنن رسول اللّٰہ، المضطلع بامر الرعیة،المدافع عنھم الامور السیّئة ،القاسم بینھم بالسویّة واللّٰہ،انه لفینا،فلا تتبعوا الھویٰ فتضلوا عن سبیل اللّٰہ فتزدادوا من الحق بعداً»۔(۲)
«خدا کی قسم اے جماعت مہاجرین! ہم خلافت وقیادت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں ،کیونکہ ہم اہل بیت ہیں اور ہم اس امر کے لئے تم سے زیادہ حقدار ہیں جب تک ہمارے درمیان کتاب خدا کا قاری، دین الہٰی کا فقیہ،رسول کی سنتوں کا عالم،لوگوں کی رہبری پر قادر اور نامناسب حالات میں ان کا مدافع،ان کے درمیان بیت المال کو برابری سے تقسیم کرنے والا موجود ہو،خدا کی قسم ہم اہل بیت(ع) کے درمیان ہی ایسا شخص موجود ہے،لہٰذا اپنی ہویٰ وہوس کی پیروی نہ کرنا ورنہ خدا کے راستہ سے بھٹک جاؤ گے تو حق سے دور ہوجاؤ گے»۔
حضرت علی(ع) کے ماننے والوں نے بھی مختلف اوقات میں ابوبکر سے گفتگو کے دوران صاف الفاظ میں حضرت علی(ع) کی بلا فصل امامت وخلافت کے بارے میں اپنے عقیدہ کااظہار کیاہے،چنانچہ جن لوگوں نے ابوبکر کے سامنے حضرت علی(ع) کی امامت کے بارے میں دلائل پیش کئے،شیخ صدوق(رہ) نے ایسے بارہ لوگوں کے نام ذکر کئے ہیں۔(۳)آپ کی عبارت سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ دلائل پیش کرنے والوں کی تعداد صرف بارہ نہیں تھی کیونکہ ان کا نام ذکر کرنے کے بعدشیخ صدوق (رہ) نے لفظ «وغیرھم» کا اضافہ بھی کیا ہے،آخر میں زید بن وہب کی تقریر کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں:«فقام جماعة بعدہ فتکلموا بنحو ھذا»،اس کے بعد ایک جماعت کھڑی ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اسی انداز سے گفتگو کی۔
ان لوگوں نے پہلے آپس میں مشورہ کیا،بعض کا خیال یہ تھا کہ جب ابوبکر منبر پر جائیں تو انھیں منبرسے نیچے اتار لیاجائے،لیکن بعض حضرات کویہ رائے پسند نہیں آئی اور آخرکار انہوں نے یہ طے کیا کہ اسی سلسلے میں امیر المومنین(ع) سے مشورہ کیا جائے آپ نے ان لوگوں کو خلیفہ کے ساتھ سخت عملی اقدام سے منع فرمایا کہ فی الحال ایسا کام مصلحت کے خلاف ہے،جیساکہ خود آپ سے بھی زبردستی بیعت لینے کی کوشش کی گئی تھی،لہٰذا آپ نے ان لوگوں سے یہی فرمایا کہ صبر وبردباری سے کام لیں لیکن مسجد میں جاکر اسی سلسلہ میں جوکچھ پیغمبر اکرم(ص) سے سنا ہے اس سے لوگوں کو باخبر کرتے ر ہیں تاکہ ان کے اوپر خداوندعالم کی حجت تمام ہوجائے۔
ان لوگوں نے امام(ص) کے مشورہ پر عمل کیا اورمسجد میں داخل ہوئے اور یکے بعد دیگرے اٹھتے رہے اور ابوبکر سے مناظرہ کرتے رہے،کیونکہ اس مقام پر ان کی تفصیلی گفتگو کا تذکرہ ممکن نہیں ہے صرف اہم نکات کو پیش کیا جارہا ہے:
۱۔خالد بن سعید:پیغمبر اکرم(ص) کا فرمان ہے:«ان علیا امیرکم من بعدی وخلیفتی فیکم ان اهلبیتی ھم الوارثون امری والقائمون بامر امتی»،بیشک علی(ع) میرے بعد تمہارے امیر اور تمہارے درمیان میرے خلیفہ ہیں ،صرف میرے اہل بیت(ع) ہی میرے امر کے وارث ہیں اور یہی حضرات امت کے امور کو قائم کرنے والے ہیں۔
۲۔ابوذر غفاری(رض):پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے:«الامر لعلی بعدی ثم الحسن والحسین ثم فی اھل بیتی من ولد الحسین»، یہ امر(امامت) میرے بعد علی(ع) کے لئے ہے پھر حسن(ع)اور پھر حسین(ع) کے لئے اور پھر حسین(ع) کی اولاد سے میرے اہل بیت(ع) میں باقی رہے گا۔
۳۔سلمان فارسی:«ترکتم امر النبی وتناسیتم وصیته،فعما قلیل یصفوا الیکم الامر حین تزوروا القبور»،تم لوگوں نے رسول خد اکے امر(حکم)کو چھوڑ دیا اور ان کی وصیت کو بھلا بیٹھے،عنقریب ہی وہ تمہارے سامنے اس امر کی وضاحت ہو جائے گی جب تم قبروں کی زیارت کروگے۔
۴۔مقداد بن اسود:«قد علمت ان ھذا الامر لعلی علیه السلام وھو صاحبه بعد رسول اللّٰہ»تمہیں بخوبی معلوم ہے کہ یہ امر(امامت)علی(ع) کا حق ہے اور رسول خدا(ص) کے بعد وہی اس کے اہل ہیں۔
۵۔بریدہ اسلمی:«اما تذکر اذا امرنا رسول اللہ و سلمنا علی علی بامرۃ المؤمنین»،اے ابوبکر کیا تمہیں وہ موقع یاد نہیں کہ رسول(ص)نے ہمیں حکم دیا تھا اور ہم نے علی(ع) کو امیر المومنین کہہ کر سلام کیا تھا۔
۶۔عبد اللہ بن مسعود :«علی بن ابی طالب(ع)صاحب ھذا الامر بعد نبیکم فاعطوہ ما جعلہ اللہ لہ و لا ترتد واعلیٰ اعقابکم فتنقلبوا خاسرین»۔
نبی کے بعد اس امر کے حقدار علی بن ابی طالب ہیں لہٰذا علی کو وہ حق دے دو جو اللہ نے علی ؑکے لئے قرار دیا ہے اور پلٹ کر مرتد نہ ہوجاؤ۔
۷۔ عمار یاسر:«یا ابابکر لا تجعل لنفسک حقا جعل اللہ عزوجل لغیرک»۔
اے ابوبکر اسے اپنا حق قرار نہ دو یہ حق خدا نے تمہارے علاوہ کسی اور کے لئے قرار دیا ہے۔
۸۔ خزیمہ بن ثابت:«انی سمعت رسول اللہ یقول اھل بیتی یفرقون بین الحق و الباطل و ھم الائمة الذین یقتدیٰ بھم»۔
۹۔ ابو الہیثم بن تیہان:«قال النبی ؐاعلموا ان اھل بیتی نجوم اھل الارض فقد موھم و لا تقدموھم»۔
نبی (ص)نے فرمایا میرے اہل بیت اہل زمین کے ستارے ہیں انہیں کو مقدم رکھو خودان پر مقدم نہ ہو۔
۱۰۔سہل بن حنیف:«انی سمعت رسول اللہ(ص)قال:امامکم من بعدی علی بن ابی طالب و ھو انصح الناس لامتی»۔
میں نے رسول خداؐسے سنا ہے کہ آپ(ص)نے فرمایا:میرے بعد تمہارے امام علی ابن ابی طالب ہیں اور وہ میری امت کے سب سے بہتر ناصح ہیں۔
۱۱۔ابو ایوب انصاری:«قد سمعتم کما سمعنا فی مقام بعد مقام من نبی اللہ انه (علی) اولیٰ بہ منکم»۔
مختلف مواقع پر تم نے بھی نبی سے وہی سنا ہے جو ہم نے سنا کہ وہ (علی(ع) اس امر کے لئے تم سے اولیٰ ہیں۔
۱۲۔زید بن وہب اوردیگر افراد نے بھی اسی قسم کی گفتگو کی۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الامامة والسیاسة،ج۱،ص۱۸۔
۲۔حوالہ سابق،ص ۱۹۔  
۳۔ان حضرات کے نام یہ ہیں:خالدبن سعید بن عاص،مقداد بن اسود، عمار یاسر،ابوذر غفاری،سلمان فارسی،عبد اللہ بن مسعود،بریدہ اسلمی(مہاجرین)خزیمہ بن ثابت،سہل بن حنیف،ابو ایوب انصاری، ابو الہیثم بن تیہان اورزید بن وہب(انصار)
۴۔ الخصال شیخ صدوق،ابواب اثنا عشر، حدیث۴ ۔
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21