Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183923
Published : 24/10/2016 17:26

کربلا کے بعد سیاسی،سماجی حالات پر رہبر انقلاب کا تبصرہ:

واقعہ کربلا کے بعد،سیاسی و سماجی حالات(۳)

آپ حضرات مکہ و مدینہ کی شب نشینی کی بہت سی داستانیں سنتے ہیں، یہ چیزیں صرف پست لوگوں ہی کے درمیان رائج نہیں تھیں بلکہ معاشرہ کے ہر طبقہ کے لوگوں کے درمیان پائی جاتی تھیں، ایک بدبخت و بھوکا بھکاری، جسے الشعب مشہور طمع پرور اور مسخرا شاعر، کوفہ کے بازار کے معمولی لوگ مذکورہ کنیز اور انہیں جیسے دوسرے لوگ اور ایسے ہی دیگر افراد،حتی کہ قریش کے مشہور شہزادے اور شہزادیاں بھی تھیں (میں ان کے نام نہیں بیان کروںگا) وہ بھی اس فحشاء و برائی سے مستثنیٰ نہیں تھیں

ولایت پورٹل:
کربلا کے بعد، سیاسی اور سماجی حالات کے متعلق رہبر انقلاب یہ تبصرہ ہم نے تفصیل کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے،لہذا تفصیل کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر جاکر مطالعہ کرسکتے ہیں:

واقعہ کربلا کے بعد،سیاسی و سماجی حالات(۱)

واقعہ کربلا کے بعد،سیاسی و سماجی حالات(۲)

میں نے کتاب «الاغانی» کے مطالعہ کے دوران ایک نہایت ہی لطیف بات محسوس کی ہے اوروہ یہ کہ تقریباً 70ہجری 82ہجری 90ہجری اور 100ہجری میں یا اس کے پچاس ساٹھ سال بعد عظیم گلوکار اور گانے والے اور دنیائے اسلام کے عیش ونوش اورشراب وکباب کے دلدادہ یا مدینہ کے تھے یا مکہ کے تھے اور جب بھی شام میں خلیفہ رقص و سرور کا مشتاق ہوتا تھا اور کسی گلوکار اور گانے والے کو بلاتا تھا تو کسی کو مدینہ و مکہ بھیجتا تھا اور وہ کسی مشہور گویّے اور موسیقی کار کو شام لے جاتے تھے، مکہ و مدینہ میں بدترین یاوہ گو اور ہرزہ سرا شعراء تھے،(وہ مقدس جگہ) جہاں رسول(ص) پر وحی نازل ہوتی تھی، جہاں اسلام نے جنم لیا تھا، اب وہ فحشاء و برائی اور فساد کا مرکز بن گیا تھا۔ بہتر ہے کہ ایسی چیزوں کے آثار مکہ و مدینہ میں تلاش کئے جائیں، افسوس ہے کہ جو مصادر و مدارک ہمارے پاس ہیں ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی اور یہ حقیقت ہے کہ یہ خرابیاں تھیں، میں اس زمانہ کے رائج فحشا ء وفساد کا ایک نمونہ پیش کرتاہوں:مکہ میں ایک شاعر تھا، جس کا نام عمر بن ابی ربیعہ تھا، یہ ہرزہ گو اور پھکڑ قسم کے شعراء میں سے تھا البتہ فن شاعری وصنعت شعری میں مہارت رکھتا تھا مر گیا، اب عمر بن ابی ربیعہ کی یہ داستان اور یہ کہ وہ مکہ کیا کرتا تھا یہ اس زمانہ کی المناک تاریخ کی ایک مختلف الجہت فصل ہے، ہم نے مکہ، طواف اور رمیِ جمرات کے بارے میں کتاب «مُغنی» میں پڑھا ہے:
                                فَوَاللّٰہِ مَا اَدْرِی وَاِنْ کُنْتَ دَارِیاً              بِسَبْع رَمَیْنَ الْجَمَرَ اَمْ بِثَمَانٍ
یہ شعر ایسی مقدس جگہوں سے مربوط اور ایسی ہی جگہوں کی پیداوار ہے۔ رمی کے بارے میں وہ کہتا ہے:
                             بَدَأَ لِیْ مِنْھَا مِعْصَمٌ حِیْنَ جَمَرْتُ               وَکَفٌّ خَضِیْبٌ زیْنَتْ بِبِنَانٍ (۱)
یہ عمر بن ابی ربیعہ جب مرا تو (راوی کا بیان ہے کہ) مدینہ میں آہ ووا ویلا کا شورتھا عمومی سوگ تھا، لوگ رو رہے تھے، میں جہاں بھی گیا یہی دیکھا کہ جوان اور مرد و عورت کھڑے ہوئے عمر بن ابی ربیعہ کی موت پر افسوس کررہے ہیں، اسی دوران میں نے ایک چھوٹی سی کنیز کو دیکھا کہ کسی کام سے جارہی ہے، جیسے اس کے ہاتھ میں بالٹی ہے، پانی لینے جارہی ہے وہ بھی عمر بن ابی ربیعہ پر گریہ و زاری کررہی ہے۔ اس کی موت کا غم منا رہی ہے، کچھ لوگوں کے ساتھ ایک جوان کے پاس پہنچا لوگوں نے اس سے معلوم کیا کہ اس قدر کیوں رو رہے ہو؟ اس نے کہا: اس لئے کہ اس کے مرنے سے ہم اچھے شاعر سے محروم ہوگئے، کسی نے کہا،غم نہ کرو مدینہ میں ایسا ہی دوسرا شاعر «خالد بن مخزومی» موجود ہے جو علمائے شام کی طرف سے ایک عرصہ تک مدینہ میں حاکم رہ چکاہے،یہ بھی عمر بن ابی ربیعہ کی مانند ہرزہ گو اور بیہودہ گو شاعر تھاکہ جس نے یہ شعر کہا تھااور اس نے اس شاعر کے اشعار پڑھنا شروع کئے، کنیز نے کچھ توجہ سے اس کے وہ اشعار سنے (وہ اشعار اور ان کے خصوصیات «الاغانی» میں نقل ہوئے ہیں) اور پھر آنسو پونچھ لئے اور کہا:«اَلْحَمْدُ لِلّٰہ الّذِیْ لَمْ یَخِلَّ حَرَمَه» خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے حرم کو (اچھے شاعر سے) خالی نہیں رکھا، اگر ایک مرگیا تو دوسرا موجود ہے، یہ تھا مدینہ کے لوگوں کا اخلاق۔
آپ حضرات مکہ و مدینہ کی شب نشینی کی بہت سی داستانیں سنتے ہیں، یہ چیزیں صرف پست لوگوں ہی کے درمیان رائج نہیں تھیں بلکہ معاشرہ کے ہر طبقہ کے لوگوں کے درمیان پائی جاتی تھیں، ایک بدبخت و بھوکا بھکاری، جسے الشعب مشہور طمع پرور اور مسخرا شاعر، کوفہ کے بازار کے معمولی لوگ مذکورہ کنیز اور انہیں جیسے دوسرے لوگ اور ایسے ہی دیگر افراد،حتی کہ قریش کے مشہور شہزادے اور شہزادیاں بھی تھیں (میں ان کے نام نہیں بیان کروںگا) وہ بھی اس فحشاء و برائی سے مستثنیٰ نہیں تھیں، اسی خالد بن مخزومی کی امارت کے زمانہ میں عائشہ بنت طلحہ آئی، طواف کرنے لگی، یہ اس سے محبت کرتا تھا، اذان کا وقت ہوگیا تو عائشہ نے اس سے کہا مؤذن سے کہہ دو کہ اس وقت تک اذان نہ دینا جب تک میرا طواف ختم نہ ہوجائے،اس نے مؤذن سے کہہ دیا کہ عصر کی اذان نہ دینا، لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہاکہ تم ایک طواف کرنے والی عورت کی خاطر لوگوں کی نماز میں تاخیر کررہے ہو؟! اس نے کہا: خدا کی قسم اگر اس کا طواف کل صبح تک جاری رہتا تو میں اس وقت تک اذان نہ دینے دیتا،(ذرا غورتو کیجئے کہ) یہ تھی اس زمانہ کی حالت۔
(19؍اگست1985عیسوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مغنی اللبیب، ص۲۰، میں رمی جمرات کے دوران اس کے حنائی پنجہ کو دیکھ کر ایسا مبہوت ہوا کہ خدا کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ میں نے سات کنکری ماری ہیں یا آٹھ ۔
     
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18