Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183933
Published : 25/10/2016 17:28

خلیفہ دوم کے دور میں شیعوں کے حالات

امیرالمؤمنین(ع) نے ارشاد فرمایا:اگر حاضرین کی وجود کے سبب اور ناصروں کے وجود کے سبب حجت تمام نہ ہوئی ہوتی، اور اللہ تعالی نے علماء سے یہ عہد نہ لیا ہوتا کہ خبردار کسی مظلوموں کی بھوک پر اور ظلم سے اپنا پیٹ بھرنے والوں کے عمل پر خاموش نہ بیٹھنا،تو میں آج بھی خلافت کے اونٹ کی رسی کو اسی کی گردن پر ڈال کر چھوڑ دیتا اور اس کے آخر کو اس کے پہلے والے ہی کے ظرف سے سیراب کرتا ، اور تمہیں معلوم ہوجاتا کہ تمہاری اس دنیا کی اوقات ابوطالب کے بیٹے کی نظر میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔

ولایت پورٹل:
اس سے پہلے  مضمون پڑھنے کے لئے کلک کیجئے!

خلیفہ اول کے دور میں شیعوں کے حالات
 دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ابوبکر نے عمر کو اپنا جانشین نامزد کردیا، ابن قتیبہ کے قول کے مطابق ابوبکر نے اپنا وصیت نامہ آمادہ کرایا جس میں عمر کو اپنا جانشین معین کیا ابوبکر بولتے جاتے اور عثمان بن عفان وصیت نامہ تحریر کرتے جاتے،وصیت نامہ مکمل ہوا تو خلیفہ اول نے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا،لوگ جمع ہوگئے تو خلیفہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:«اے لوگوں! جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میں عنقریب دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں اور تمہیں ایسے قائد و رہبر کی ضرورت ہے جو تمہارے امور کو سنبھال سکے نماز جماعت قائم کرسکے تمہارے دشمنوں سے جنگ کرے اگر تم لوگ کہو تو میں خود فیصلہ کرکے کسی شخص کو منتخب کردوں !لوگوں نے خلیفہ کی رائے سے اتفاق کا اظہار کیا،جب لوگ پراکندہ ہوگئے تو خلیفہ نے عمر کوطلب کیا اور خواہش کی کہ میرا وصیت نامہ لوگوں کو پڑھ کر سنا دو، ایک شخص نے عمر سے دریافت کیا کہ وصیت نامہ میں کیالکھا ہے؟عمر نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کیا تحریر ہے، اس شخص نے جواب دیا لیکن مجھے معلوم ہے روز اول تم نے ابوبکر کو خلیفہ بنوایا تھا اب انہوں نے تمہیں نامزد کردیا ہے»۔(۱)
عمر کی خلافت کا سلسلہ دس سال تک جاری رہا اس دوران شیعوں کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی رونما نہ ہوئی،امیر المومنین(ع)کی مصلحت آمیز خاموشی کے باعث آپ کے چاہنے والے شیعوں نے بھی دربار خلافت کے ساتھ ٹکراؤ مول نہ لیا،ارباب اقتدار نے بھی اپنے مصالح کی خاطر امیر المومنین(ع)یا آپ کے شیعوں کے ساتھ شدت پسندانہ کار روائیوں سے نہ صرف گریز کیا بلکہ علمی و سیاسی مشکلات میں امیر المومنین حضرت علی(ع) سے مشورہ لئے گئے اور آپ کے مشوروں اور نصائح کا احترام کیا گیا، مشکل کشا کی بارگاہ میں خلافت نے اتنی بارجبہہ سائی کی کہ خود خلیفۂ وقت نے اپنی زبان سے ستر مرتبہ«لولا علی لھلک عمر»جیسا تاریخی جملہ اداکیا ہے بلکہ یہ بھی فرمایا:«اللھم لا تبقنی لمعظلة لیس لھا ابن ابی طالب(ع)»۔(۲)نہج البلاغہ میں بھی یہ تاریخی حقیقت موجود ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ جنگ کے موقع پر عمر نے جنگی امور سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور امیر المومنین(ع)کو بھی اس کا رکن مقرر کیا تھا، اس کمیٹی کے اراکین نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا اور عمر نے حضرت علی(ع)کی رائے کو ہی اختیار کیا۔(۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الامامة والسیاسة، ج۱، ص۲۴ـ ۲۵
۲۔الغدیر،ج۳ ،ص ۷۹، تاریخ الخلفاء، ص۱۷۰ـ۱۷۱؛ شرح نهج البلاغة ابن ابی الحدید، ج۱ ،ص۱۶، خطبہ دوم ۔   
۳۔نهج البلاغة،خطبہ۱۴۶ـ   
نوٹ: یہ مضمون ابھی جاری ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25