Wed - 2018 June 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183941
Published : 25/10/2016 20:38

خلیفہ سوم کا دور اور شیعہ

امیرالمؤمنین(ع) نے ارشاد فرمایا:اگر حاضرین کی وجود کے سبب اور ناصروں کے وجود کے سبب حجت تمام نہ ہوئی ہوتی، اور اللہ تعالی نے علماء سے یہ عہد نہ لیا ہوتا کہ خبردار کسی مظلوموں کی بھوک پر اور ظلم سے اپنا پیٹ بھرنے والوں کے عمل پر خاموش نہ بیٹھنا،تو میں آج بھی خلافت کے اونٹ کی رسی کو اسی کی گردن پر ڈال کر چھوڑ دیتا اور اس کے آخر کو اس کے پہلے والے ہی کے ظرف سے سیراب کرتا ، اور تمہیں معلوم ہوجاتا کہ تمہاری اس دنیا کی اوقات ابوطالب کے بیٹے کی نظر میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔

ولایت پورٹل:
اسی موضوع سے متعلق پہلے  مضامین  کے لئے کلک کیجئے!
خلیفہ اول کے دور میں شیعوں کے حالات

خلیفہ دوم کے دور میں شیعوں کے حالات

عمر کے بعد خلیفۂ ثانی کے ذریعہ منتخب چھ رکنی شوریٰ نے عثمان کو خلیفہ بنادیا،اور عثمان بارہ سال تک زمام خلافت اپنے ہاتھوں میں لئے رہے، ان کی خلافت کے دوران کچھ ایسے امور انجام پائے جو نہ صرف سنت پیغمبر(ص)بلکہ سابق کے دونوں خلفاء کی روش کے بھی خلاف تھے چنانچہ مسلمانوں میں ان کے خلاف غم و غصہ پھیل گیا،انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو حکومتی عہدوں پر فائز کیا اور بیت المال سے بذل و بخشش کرکے خوب اقرباء پروری کی، جناب ابوذر کو مدینہ سے شام اور پھر ربذہ جلا وطن کردیا، حکم بن عاص جسے خود پیغمبر اکرم(ص) نے مدینہ بدر کیا تھااعزاز و اکرام کے ساتھ واپس مدینہ بلا کر اس سے محبت آمیز برتاؤ  رکھا،ولید بن عقبہ کو  کوفہ کا گورنر بنادیا اور جب اس نے نشہ کے عالم میں صبح کی نماز با جماعت دو کے بجائے چار رکعت پڑھا دی تب بھی اسے معزول نہ کیا عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ نامناسب اور تشدد آمیز برتاؤ کیا اسی کے مثل متعدد واقعات دامن تاریخ میں محفوظ ہیں۔(۱)

ایسے واقعات سے مسلمانوں کی بے چینی اور غم و غصہ میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا، ایسے پر آشوب ماحول میں امیر المومنین(ع) کے اصحاب جو اپنی آنکھوں سے خلافت و قیادت کے زبردست انحراف کے نتیجہ میں رونما ہونے والے تلخ واقعات کا مشاہدہ کررہے تھے خاموش رہ کر اسلام کی بربادی کے تماشائی نہیں بن سکتے تھے چنانچہ انہوں نے پیغمبر(ص)کے حقیقی جانشین اور امت مسلمہ کی قیادت و رہبری سے متعلق لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کیا، چنانچہ ایک دن جناب ابوذر نے مسجد پیغمبر(ص) میں تقریر کی جس میں اہل بیت پیغمبر(ص)کے فضائل و کمالات کا تذکرہ کیا اور اس کے بعد کہا:«علی بن ابی طالب محمد(ص) کے وصی اور علم نبی کے وارث ہیں، اے لوگو تم اپنے پیغمبر(ص)کے بعد بھی متحیر و سرگردان ہوگئے، جسے خدانے مقدم کیا تھا اگر تم لوگ بھی اسی کو دوسروں پر مقدم رکھتے اور اپنے نبی کے اہل بیت(ع)کی ولایت اور وراثت کا اقرار کرتے تو بہترین مادی و معنوی زندگی بسر کررہے ہوتے لیکن چونکہ تم لوگوں نے خدا کے حکم کے خلاف عمل کیا ہے لہٰذا اپنے کرتوت کا نتیجہ بھگتو»۔ (۲)
امیر المومنین(ع)کے اصحاب و اعوان کو عثمان کے انتخاب کے ابتدائی ایام میں ہی ان انحرافات کا احساس ہوگیا تھا، چنانچہ یعقوبی تحریر کرتے ہیں کہ «خلافت عثمان کے بالکل ابتدائی ایام میں لوگوں نے مسجد النبی میں مقداد بن اسود کو دیکھا جو انتہائی تاسف اور غم و اندوہ کے عالم میں فرمارہے تھے:«مجھے قریش پر تعجب ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کے اہل بیت سے قیادت کو جدا کردیا حالانکہ مؤمن اول ، دین خدا کا سب سے زیادہ عالم اور لوگوں میں صراط مستقیم کا سب سے بہتر جاننے والا یعنی ابن عم پیغمبر ان کے درمیان موجود ہے، یہ لوگ اس مسئلہ میں امت کی خیر و صلاح کے خواہاں نہیں تھے بلکہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی»۔(۳)
عثمان کے بعد مسلمانوں نے امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کے دست مبارک پر خلیفۂ پیغمبر(ص) اور قائد کے عنوان سے بیعت کی اس طرح پچیس سال کے بعد آپ کو خلافت و امامت ملی حالانکہ خدا و رسول(ص) کی جانب سے آپ (ع)ہی کو امامت و خلافت کے لئے منصوب کیا گیا تھا لیکن اس پچیس سالہ دور میں بعض لوگوں کی غفلت و بے توجہی اور بعض افراد کی سازشوں کے نتیجہ میں آپ اپنے حق یعنی امت مسلمہ کی قیادت و رہبری سے  محروم رہے خود آپ(ع)نے بھی اسلام و مسلمین کی مصالح کی خاطر زور آزمائی اور طاقت کا سہارا لینے سے پرہیز کیا اور صرف مناسب مواقع پر اظہار حقیقت کرتے رہے پچیس سال کے بعد آپ(ع)کو آپ(ع)کا جائز اور مسلمہ حق ملا۔(۴) مگر افسوس اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور اس عرصہ میں حکومت و رہبری کے سلسلہ میں بہت سے شبہات اور انحرافات اپنی جڑیں مضبوط کرچکے تھے بہت سے امکانات اور مواقع ہاتھ سے نکل چکے تھے۔
ایسے حالات میں صحیح قیادت یعنی صرف اور صرف کتاب و سنت کی بنیاد پر حکومت کرنا بہت دشوار محسوس ہوتا تھا لیکن چونکہ امیر المؤمنین حضرت علی(ع)کا نصب العین رضائے خدا اور اسلام و مسلمین کی مصلحت کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا لہٰذا آپ نے بیعت قبول کرنا اور امامت و خلافت کی ذمہ داری سنبھالنا اپنے لئے ضروری سمجھا،چنانچہ آپ(ع)کا ارشاد گرامی ہے:«لولا حضور الحاضر و قیام الحجة بوجود الناصر و ما اخذا اللہ علی العلماء الاّ یقار و اعلیٰ کظة ظالم و لا سغب مظلوم لا لقیت حبلھا علی غاربھا و آخرھا بکآس اوّلھا و لا لفیتم دنیاکم ھذہ ازھد عندی من عفطة عنز»۔(۵)
لیکن اس مرحلہ پر بھی ایک جانب غفلت و جہالت اور دوسری جانب مکرو شیطنت نے عصمت و حکمت کے تناور درخت کو قیادت و رہبری کے میدان میں امت مسلمہ پر بھرپور طریقہ سے سایہ فگن ہونے نہ دیا،ابتداء سے ہی پے در پے داخلی جنگوں میں امت مسلمہ کو الجھائے رکھا اور آخرکار شہادت کے ذریعہ مولائے کائنات(ع) کی شمع حیات گل کرکے آپ(ع) کی بے نظیر اور لاثانی قیادت سے اسلامی معاشرہ کو محروم کردیاگیا،ان تلخ حوادث کے بارے میں آپ(ع) خود ارشاد فرماتے ہیں:«فلما نھضت بالامر نکثت طائفة و مرقت اخریٰ و قسط آخرون»۔
ناکثین سے مراد اصحاب جمل و مارقین نہروان کے خوارج اور قاسطین سے مراد معاویہ اور اس کے ہمنوا ہیں۔
بلاشبہ دنیاداری ہی ان فتنوں کا اصل سبب تھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ(ع) ارشاد فرماتے ہیں:جیسے کہ ان لوگوں نے خدا کا یہ کلام سنا ہی نہیں،«تِلْکَ الدَّارُ اَلْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَایُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَافَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِینَ»۔(۶)پھر ؔآپ(ع) فرماتے ہیں:کیوں نہیں!انہوں نے اس کلام الٰہی کو سنا ہے لیکن ان کی آنکھوں میں تو دنیا رچی بسی ہے اور دنیا نے ان کے دلوں پر قبضہ کررکھا ہے،«و لکنھم حلیت الدنیا فی اعینھم و راقھم زبرجھا»۔(۷)
آپ(ع)کی خلافت و حکومت کے دوران اگرچہ شیعوں کو اپنے عقائد کے اظہار کی مکمل آزادی تھی اور انہیں حکومتی افراد یا غیروں سے تقیہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وہ تقیہ کرتے تھے لیکن اس دور کے پر آشوب واقعات اور حالات نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ شیعہ اپنے عقائد و نظریات کی تبلیغ و ترویج بھر پور طریقہ سے کرپاتے البتہ امیر المؤمنین حضرت علی(ع) نے موقع سے مکمل استفادہ کیا اور نہ صرف یہ کہ اپنے عصمتی کردار کے ذریعہ اسلام کا حقیقی چہرہ انسانوں کے سامنے پیش کیا بلکہ بے شمار بلند و بالا معارف سے بھی بشریت کو روشناس کرایا آج یہی خطبات نہ صرف عالم اسلام کی بیش قیمت دینی و علمی میراث ہیں بلکہ بشری تہذیب و تمدن کا بیش بہا سرمایہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۷۰، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۳۵، تاریخ الخلفاء ص۱۵۷ـ
۲۔تاریخ یعقوبی، ج۱۲، ص۶۷ـ ۶۸ـ
۳۔تاریخ یعقوبی،ج۱۲،ص۵۷ـ
۴۔اس سلسلہ میں خود امیر المومنین(ع)فرما تے ہیں«الآن رجع الحق الیٰ اہله ونقله الی منتقله»نهج البلاغة، خطبہ۲ ،اگر چہ سید رضی(ره)کا قول کہ اما م(ع) نے صفین سے واپسی کے بعد یہ جملہ ارشاد فرما یا ہے لیکن ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ یہ کلام اس موقع سے کوئی منا سبت نہیں رکھتا اس لئے کہ جنگ صفین میں تو عمر وبن عاص کی عیاری اور خوارج کی سادہ لوحی سے معاملہ لوگوں پر مشتبہ ہو گیا تھا اور اہل کو اس کا حق نہیں مل سکا تھا اور سید رضی(ره) کو جو کچھ جیسے ملا انہوں نے اسی طرح نقل کر دیا شاید اس مطلب کے نقل کرنے میں راویوں سے اشتباہ ہوا ہے،شرح نهج البلاغة ابن ابی الحدید،ج۱،ص۴۷ـ   
۵۔نهج البلاغة، خطبہ شقشقیةـ
۶۔سورة القصص:۸۳ـ
۷۔ نهج البلاغة،خطبہ شقشقیةـ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 June 20