Wed - 2018 June 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183950
Published : 26/10/2016 18:26

امام سجاد(ع) کی اسیری کے متعلق رہبر انقلاب کا تجزیہ:

اسیری کے دوران امام زین العابدین(ع)کا کردار(۲)

سوال یہ ہوتا ہے کہ امام زین العابدین(ع) نے اسیری سے رہائی کے بعد نرم رویہ کیوں اختیار کیا اور انقلابی و تند و تیز کاموں کو دعاؤں اور نرم روی کے پردہ میں کیوں چھپایا اور اسیری کے دوران تند و تیز اور سخت و شدید رویہ اختیار کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دور استثنائی دور تھا، یہاں امام زین العابدین(ع) کو امام ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں الٰہی و اسلامی حکومت کے لئے زمینہ ہموار کرنا ہے ،عاشور کے دن بہائے گئے خون کی ترجمانی بھی کرنی ہے،کیوں کہ امام(ع) خون کربلا کے ترجمان ہیں،درحقیقت یہاں امام زین العابدین(ع) خود نہیں ہیں بلکہ کوفہ و شام میں اس انقلابی جوان کے دہن میں امام حسین(ع) کی خاموش زبان جلوہ گر ہوگئی ۔


ولایت پورٹل:یہ تبصرہ، پہلے سے متصل ہے،پورے تبصرے کے لئے کلک کیجئے!

اسیری کے دوران امام زین العابدین(ع) کا کردار(۱)

بیماری و اسیری کی حالت میں امام زین العابدین(ع) اپنے کردار و گفتار سے بڑے سورماؤں کی مانند شجاعت و بہادری کی مثال قائم کرتے ہیں،اس وقت امام(ع) کی حالت آئندہ کی اصلی زندگی سے بالکل مختلف ہے، اصلی زندگی کے دوران امام زین العابدین(ع) طے شدہ منصوبہ کے تحت سکون وآرام کے ساتھ بنیادی کام انجام دے رہے ہیں،کبھی ایک مجلس میں عبدالملک بن مروان کے ساتھ بھی بیٹھتے ہیں اور اس کے ساتھ عام اور نرم رویہ سے پیش آتے ہیں لیکن آپ حضرات اس عہد (دوران اسیری)میں امام زین العابدین(ع) کو پرجوش انقلابی کی صورت میں دیکھتے ہیں کہ جو معمولی سی سختی بھی برداشت نہیں کرتا ہے اور سب کے سامنے اپنے طاقتور اور مقتدر دشمن کو منھ توڑ جواب دیتا ہے۔
کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد جیسے خونخوار وحشی کے سامنے( کہ جس کی تلوار سے خون ٹپک رہاتھا اور جو فرزند رسول(ص) کے قتل کے جام غرورسے مست اورظاہری فتح کے نشہ میں چور ہے) اس طرح تقریر کرتے ہیں کہ وہ آپ کے قتل کا حکم دیتا ہے اور اگر جناب زینب(س) نہ ہوتیں، کہ وہ امام زین العابدین(ع) سے لپٹ گئیں اور فرمایا:
میں انہیں قتل نہیں ہونے دوں گی، دربار والوں نے دیکھا کہ پہلے ایک عورت کو قتل کرنا پڑے گا اور دوسری طرف انہیں اسیر کے عنوان سے شام لے جانا بھی ضروری ہے اگر یہ چیز نہ ہوتی تو عبیداللہ بن زیاد، امام زین العابدین(ع) کے قتل کا بھی مرتکب ہوجاتا۔
کوفہ کے بازارمیں، اپنی پھوپھی اور اپنی بہن جناب سکینہ(س) کے ہم آواز ہوکر تقریر کرتے ہیں حقائق کو آشکار کرتے ہیں اور لوگوں میں انقلاب کی روح پھونکتے ہیں۔
شام میں،یزید کے دربار کے اندر اور اسی طرح مسجد میں بڑے مجمع کے سامنے حقائق کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں، آپ(ع) کے یہ خطبے اور یہ تقریریں خلافت کے لئے اہل بیت(ع) کی حقانیت، موجودہ حکومت و حاکم کے جرائم ومظالم کے اظہار و انکشاف اور ناواقف و غافل لوگوں کے لئے سخت تنبیہ پر مشتمل ہیں۔
یہاں اس خطبہ کی تشریح اور اس کے عمیق نکات سے پردہ اٹھانے کا موقع نہیں ہے کیوں کہ یہ ایک مستقل کام ہے لیکن جو بھی اس خطبہ کی شرح کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس کے ایک ایک لفظ کی تحقیق اور تحلیل تجزیہ کرے اور اسی بنیاد پر کام کرے، یہ تھی امام زین العابدین(ع) کے مجاہدانہ اسیری کے دورکی صورتحال۔
سوال یہ ہوتا ہے کہ امام زین العابدین(ع) نے اسیری سے رہائی کے بعد نرم رویہ کیوں اختیار کیا اور تقیہ کی طرف کیوں نہیں مائل ہوئے اور انقلابی و تند و تیز کاموں کو دعاؤں اور نرم روی کے پردہ میں کیوں چھپایا اور اسیری کے دوران تند و تیز اور سخت و شدید رویہ اختیار کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دور استثنائی دور تھا، یہاں امام زین العابدین(ع) کو امام ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں الٰہی و اسلامی حکومت کے لئے زمینہ ہموار کرنا ہے عاشور کے دن بہائے گئے خون کی ترجمانی بھی کرنی ہے،کیوں کہ امام(ع) خون کربلا کے ترجمان ہیں،درحقیقت یہاں امام زین العابدین(ع) خود نہیں ہیں بلکہ کوفہ و شام میں اس انقلابی جوان کے دہن میں امام حسین(ع) کی خاموش زبان کو جلوہ گر ہونا چاہئے۔ اگر اس موقع پر امام زین العابدین(ع) تند و تیز اور صاف و صریح طور پر مسائل بیان نہ کریں تو پھر آئندہ اس انقلاب اور اسلامی حکومت کی تشکیل کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی کیونکہ آئندہ آپ(ع) کے سارے کام کی بنیاد، خونِ حسین بن علی(ع) پر ہی استوار ہوگی جیسا کہ آئندہ تشیع کے سارے انقلاب و قیام کی بنیاد بھی خون حسین بن علی(ع) ہی ہے،اس کے لئے امام(ع) سب سے پہلے تو لوگوں کو خبردار کریں پھر اس خبردار کرنے کے اپنی اصولی عمیق و دقیق دراز مدت مخالفتوں کا آغاز کرسکتے ہیں اور یہ دھمکی اورتنبیہ تند و تیز لہجہ میں ہی کی جاسکتی تھی،اس سفر میں امام زین العابدین(ع) کا کردار جناب زینب(ع) کا کردار تھا یعنی انقلاب امام حسین(ع) کا پیغام پہنچانے والے کا کردار اگر لوگ جان لیں کہ امام حسین(ع) قتل کردئیے گئے کیوں قتل کردئیے گئے کس طرح قتل کردئیے گئے تو یہ اسلام اور اہل بیت(ع) کی ایک قسم کی تبلیغ ہوگی اور اگر لوگ ان باتوں کو نہ جانیں تو اس کی دوسری نوعیت ہوگی، بنابریں تمام لوگوں کو اس سے روشناس کرانے اور اس سے آگاہ کرانے کے لئے سماجی سطح پر سارا سرمایہ خرچ کرنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو اس کام کو انجام دینا چاہئے،لہٰذا امام زین العابدین(ع)، جناب زینب(س) وسکینہ(س) وفاطمہ صغریٰ(س) کی مانند اور ایک ایک اسیر کی طرح (اپنی اپنی طاقت کے مطابق ایک پیغام رساں ہیں) ان تمام قویٰ کو یکجا ہونا چاہئے تاکہ عالم غربت میں بہائے گئے خونِ امام حسین(ع) کو تمام اسلامی علاقوں میں لے جائیں یعنی کربلا سے شروع کریں اور مدینہ لے جائیں جب امام زین العابدین(ع) مدینہ پہنچیں تو لوگوں کی جستجو کرنے والی آنکھوں اور ان کی زبان سے ہونے والے سوالوں کے جواب دے سکیں اور حقائق کو بیان کرسکیں اور یہ اولین اقدام ہے لہٰذا یہ امام زین العابدین(ع) کی زندگی کا دور، استثنائی دور ہے اس کے بعد کے دور کا آغاز اس وقت ہوگا جب امام زین العابدین(ع) مدینہ میں ایک محترم شہری کی مانند زندگی بسرکرنے لگیں گے، رسول(ص) کے گھر اور نبی(ص) کے حرم سے امام زین العابدین(ع) نے اپنے کام کا آغاز کیا، چوتھے امام(ع) کے منصوبہ کی وضاحت و تشریح کے لئے آپ(ع) کے زمانہ کے حالات و کوائف کی تحقیق و تجزیہ کی ضرورت ہے۔(۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
۱۔ پاسدار اسلام، ص۶۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 June 20