Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183956
Published : 26/10/2016 21:45

قمری سال کا آغاز محرم سے کیوں شروع ہوتا ہے جبکہ اس مہینے میں امام حسین (ع) کی شہادت واقع ہوئی ہے؟

بنی امیہ کا یہ اعتقاد تھا کہ عاشور ا کے دن عید منائیں ، اس لئے چونکہ اس دن شیعہ عزادری کے طور پر ماتم اور نوحہ خوانی کرتے تھے اور زینت کر نے سے اجتناب کرتے تھے ، اس لئے اموی اس دن سجاوٹ کر کے اور مہمان نوازی کی مجلسیں منعقد کر کے جشن مناتے تھے۔


ولایت پورٹل:
قمری سال کا اغاز بہت ہی قدیم زمانہ ، یعنی اسلام سے پہلے ، محرم کے مہینہ میں ہوتاتھا اور اس کا اسلام و مسلمانوں سے کوئی ربط نہیں ہے ،واضح الفاظ میں،جب نیا دین( اسلام ) جزیرة العرب پر حاکم ہوا، سال کے آغاز کے بارے میں جو کلنڈر عربستان کی سر زمین پر عربوں میں رائج تھا ، اسلام نے اسی کو قبول کیا۔(1)
دین مقدس اسلام نے جو تبدیلی کلنڈر میں ایجاد کی وہ صرف یہ تھی کہ سنہ عام الفیل کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے مدینہ ہجرت کر نے کی تاریخ میں تبدیل کر کے سنہ ہجری قرار دیا۔(2)
مسعودی نے اس سلسلہ میں لکھا ہے :«عرب سال کے پہلے مہینہ کو ربیع جانتے تھے اور ربیع کا اول وقت بھی ماہ ایلول(یہ عبرانی کلنڈر کا مہینہ ہے جو اس وقت ترکی اور روم میں استعمال ہوتا ہے) کے گزرنے کے تین دن بعد بارش برسنے کے ساتھـ ہوتا تھا، اور اول صیف بھی ماہ ربیع الثانی تھا کہ اس کا وقت ، ماہ آذار سے پانچ دن گزرنے کے بعد (اوائل بہار) تھا»۔(3)
لیکن شمسی مہینہ خواہ قبل از اسلام یا بعد از اسلام عربوں میں بہت کم رائج تھا ، کہ کہا جاتا ہے کہ صرف تجارت و زراعت کے لئے مجبوراً اس سے استفادہ کرتے تھے۔(4)
اس لحاظ سے عربوں میں قمری سال کے ماہ محرم میں تبدیل ہو نا بہت قدیم زمانہ سےتھا اور جب امام حسین علیہ السلام اس مہینہ میں شہید کئےگئے تو قدرتی طور پر کوئی بھی شخص سال کے پہلے مہینہ کو بدل کر کسی دوسرے مہینہ میں منتقل نہیں کرسکتا تھا، اس کے علاوہ عربوں میں ایرانیوں کے مانند یہ مرسوم نہیں تھا کہ تحویل سال کے موقع پر جشن و عید منائیں ، یعنی ان میں سال کا آغاز بالکل عادی صورت میں ہوتاتھا اس دن کسی قسم کی تقریبات منعقد نہیں ہوتی تھیں۔
البتہ جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ بنی امیہ نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد عاشور کو اپنے لئے عید کا دن قرار دیا اور اس دن جشن منانے لگے،اور اس روز خوشی منانے،جشن و سرور کی محافل منعقد کرنے کے سلسلے میں بہت سی روایتوں کو جعل (گھڑا) کیا ،مگر  افسوس کہ بہت سے مسلمان ان سے متاثر ہو کر اس دن کو خیر وبر کت کا دن جانتے ہیں اور شادی بیاہ کی تقریبات کواسی دن منعقد کرتے ہیں۔(5)
اس سلسلہ میں زکریا قزوینی نے لکھا ہے :«بنی امیہ کا یہ اعتقاد تھا کہ عاشور ا کے دن عید منائیں ، اس لئے چونکہ اس دن شیعہ عزادری کے طور پر ماتم اور نوحہ خوانی کرتے تھے اور زینت کر نے سے اجتناب کرتے تھے ، اس لئے اموی اس دن سجاوٹ کر کے اور مہمان نوازی کی مجلسیں منعقد کر کے جشن مناتے تھے۔(6)
زرندی حنفی بھی لکھتے ہیں :«اس مہینہ (صفر) کا پہلا دن  بھی بنی امیہ کے لئے عید تھا،کیونکہ اس دن حسین (رضی اللہ عنہ) کا سر دمشق میں پہنچا تھا»۔(7)
البتہ اس مسئلہ کا سال کے پہلے مہینہ سے کوئی ربط نہیں ہے اور اگر وہ امام حسین علیہ السلام کو کسی اور دن بھی شہید کرتے،بعید نہیں ہے کہ اسی دن کو عید اور شادمانی کا دن اعلان کر تے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، قم، منشورات شریف رضی ،چاپ اول ،ج٨،ص٤٦٠-
2۔سابق حوالہ
3۔ مسعودی ، معروج الذہب ،ج٢، ص١٩٢ ،بہ نقل از جواد علی ،المفصل فی تاریخ العرب ،ج٨،ص٤٤١-
4۔ المفصل فی تاریخ العرب ، ج٨،ص٤٤٦-
5۔ مزید معلو مات کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے: بیرونی مکہ ، ابو ریحان ،آثار الباقیہ ،طبع اروپا،ص٣٢٩،آدم متز، الحضارۃ الاسلامیۃ فی القران الرابع الہجری ،بیروت ١٣٨٧ہ ق، ج ١،ص١٣٧، شیخ عباس قمی ، الکنی والالقاب ، نجف اشرف، ١٣٩٠ ہ ق،ج١،ص٤٣١- ابن حجر ہیثمی ،الصواعق المحرقۃ ،مصر،ص١٨١- ابن تیمیہ ،اقتضاء الصرط المستقیم ،ریاض ، مکتبۃ الریاض الحدیثۃ ،ص٣٠١- مقریزی ،الخطط والاثار ،مصر، تاریخ نشر ١٢٧٠،ہ – ق ،ج١،ص٤٩٠-
6۔ قزوینی ،زکریا، عجائب المخلوقات ،بیروت، دار القاموس الحدیث، ج١، ص١١٥-



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25