Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183963
Published : 27/10/2016 17:25

کتاب سلیم بن قیس ہلالی

یہ کتاب ائمہ معصومین (ع) کے کلام پر مشتمل ہے اس کی اہمیت اور عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ صادق آل محمد حضرت امام صادق(ع) اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:«ہمارے شیعوں میں سے جس کے پاس بھی کتاب سلیم بن قیس ہلالی نہ ہو،گویا اس کے پاس ہماری ولایت اور امامت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہے، اور ہمارے اسباب اوراسرار سے وہ شخص واقف نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:
کتابُ سُلَیْم بْن قِیْس، شیخ ابوصادق سلیم بن قیس ہلالی عامری کوفی کی کتاب ہے،کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب شیعوں کی پہلی قلمی اثر تھی جسے امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے دور حکومت میں لکھی گئی، یہ کتاب اہل بیت(ع) کے فضائل، امام شناسی اور رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کے حوادث کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث پر مشتمل ہے،اس کتاب کو سلیم بن قیس کی طرف منسوب کرنے اور نہ کرنے میں شیعہ علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے،فارسی میں اس کا ترجمہ«اسرار آل محمد(ص)» کے نام سے ہوا ہے۔
مؤلف:
شیخ ابوصادق، سُلَیم بن قیس ہلالی عامری کوفی، امیرالمؤمنین حضرت علی(ع)، امام حسن(ع)، امام حسین(ع)، امام زین العابدین اور امام باقر(ع) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔
سُلیم، ہجرت سے دو سال پہلے پیدا ہوئے یوں پیغمبر اکرم(ع) کی رحلت کے وقت ان کی عمر 12 سال تھی، 16 سال کی عمر میں مدینہ چلا گیا اور وہاں کے ابتدائی ایام میں ناگوار حوادث سے دوچار ہوئے۔
آپ سنہ 76 ہجری کو ایران کے شہر«نوبندجان» میں 78 سال کی عمر میں وفات پائی،اور اسی شہر میں مدفون ہیں۔
کتاب کی اہمیت:
یہ کتاب ائمہ معصومین (ع) کے کلام پر مشتمل ہے اس کی اہمیت اور عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ صادق آل محمد حضرت امام صادق(ع) اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:«ہمارے شیعوں میں سے جس کے پاس بھی کتاب سلیم بن قیس ہلالی نہ ہو،گویا اس کے پاس ہماری ولایت اور امامت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہے، اور ہمارے اسباب اوراسرار سے وہ شخص واقف نہیں ہے۔
بعض اس قلمی اثر کو «کتاب السقیفۃ» کے نام سے معرفی کرتے ہیں، اس کے علاوہ اس کتاب کو «اسرار آل محمد(ص)»،«کتاب فِتَن»،«کتاب وفاۃ النبی(ص)» اور «کتاب امامت» سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس کتاب کی تألیف کا مقصد:
مدینہ آنے کے بعد،سلیم کچھ ایسے حوادث سے روبرو ہوئے جس سے ہر مسلمان کو دکھ ہوتا ہے اور یہی حوادث کسی حد تک اس کتاب کے لکھنے کا سبب بنے، اس نے مشاہدہ کیا کہ اہل بیت(ع) جو دین اسلام کے حقیقی محافظ اور خدا کی طرف سے اس دین کی سرپرستی کیلئے منتخب ہوئے تھے،ایک ٹولے نے،انہیں پیغمبر اسلام(ص) کی رحلت کے بعد بے دخل کر دیا اور«حدیث ثقلین» میں پیغمبر اکرم(ص) کی طرف سے قرآن و عترت میں جدایی نہ ڈالنے کی سفارش کو بالکل ہی بھلا دیا،ان حالات کو دیکھنے کے بعد سلیم کے ضمیر نے انہیں وادار کیا کہ وہ اس ضمن میں اپنی کوششوں کو بروئے لائے اور رسول خدا(ص) کی صحیح سیرت اور صحیح اسلامی تاریخ کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک پہونچائیں۔
موت کے وقت سلیم بن قیس نے اپنی کتاب ابان بن ابی عیاش کے حوالے کرتے ہوئے اس بارے میں یوں کہا ہے:«میرے پاس کچھ ایسے مکتوب ہیں جنہیں میں نے معتبر افراد سے سنا اور اپنے ہاتھوں سے لکھا ہوں، اس میں ایسی احادیث ہیں، میں نہیں چاہتا یہ احادیث اس زمانے کے لوگوں پر آشکار ہوں کیونکہ یہ لوگ ان احادیث کا انکار کرینگے اور انہیں عجوبہ سمجھیں گے جبکہ یہ تمام حقیقت پر مبنی ہیں اور جن سے میں نے سنا ہے وہ سب کے سب اہل حق، اہل فقہ، اہل صدق اور اہل صلاح ہیں حن میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) سے لے کر سلمان، ابوذر اور مقداد جیسی بزرگ ہستیاں شامل ہیں۔
اس کتاب کے ترجمہ:

اردو زبان میں اس کا ترجمہ،شیخ ملک محمد شریف بن شیرمحمد شاہ رسولوی ملتانی نے سن 1375 قمری میں کیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25