Thursday - 2018 Oct. 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183967
Published : 27/10/2016 19:26

اموی دور میں شیعہ(۱)

چنانچہ امام(ع) نے صلح کو قبول کرلیا مگر اس شرط کے ساتھ کہ صلح کے شرائط امام حسن(ع) کی جانب سے طے کئے جائیں گے،شرائط میں یہ باتیں بھی شامل تھیں کہ معاویہ اور اس کے حواشی کی جانب سے امیر المؤمنین(ع) پر سب و شتم کا سلسلہ ختم ہوگا،امام حسن(ع)کے اصحاب اور شیعوں کو پریشان نہ کیا جائے گا اور بیت المال سے ان کے حقوق انہیں ادا کئے جائیں گے۔


ولایت پورٹل:
معاویہ بن ابی سفیان کے ہاتھوں  سن  41 ہجری میں اموی حکومت کا آغاز ہوا اور سن 132 ہجری  میں مروان حمار کی حکومت پر اختتام کو پہنچا ، اس عرصہ میں شیعوں کو بہت سخت اور دشوار گذار حالات میں زندگی گذارنا پڑی اگر چہ نشیب و فراز آتے رہے لیکن اس عرصہ میں اکثر مواقع پر شدائد و مشکلات اور مصائب و آلام اپنے عروج پر تھے۔
مجموعی طور پر اموی دور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ۱۔ واقعہ کربلا سے پہلے ۔۲۔ واقعہ کربلا کے بعد ۔
یہ تقسیم اس لحاظ سے کی گئی ہے کہ قیام امام حسین (ع)نے مسلمانوں کے افکار و نظریات اورجذبات و احساسات کو زبردست طریقہ سے متاثر کیا جس کے نتیجہ میں اموی حکومت کو سخت حالات سے دوچار ہونا پڑا۔
اختصار کے ساتھ دونوں ادوار میں شیعوں کے حالات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔    
واقعہ کربلا سے پہلے:
امیر المؤمنین حضرت علی(ع)کی شہادت کے بعد امام حسن مجتبیٰ منصب امامت پر فائز ہوئے، معاویہ نے سازش کرکے آپ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث بن قیس کے ذریعہ سن 50 ہجری میں آپ کو زہر دلوادیا جس سے آپ کی شہادت واقع ہوگئی اس طرح آپ کی مدت امامت دس سال تھی لیکن ظاہری خلافت آپ کے دست مبارک میں چند ماہ سے زائد نہ رہی۔(۱)
معاویہ بن ابی سفیان نے جانشین پیغمبر(ص) اور امام المسلمین کی حیثیت سے آپ ؑکی بیعت نہ کی بلکہ آپ(ع) کے خلاف بغاوت کردی چونکہ لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم تھے اور عقائدی و فکری لحاظ سے مختلف رجحانات پائے جاتے تھے دوسری جانب معاویہ نے بھی اپنی عیاری و مکاری کے سہارے آپ کی بیعت کرنے والوں کے درمیان اختلاف و انتشار پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جس کے نتیجہ میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ نفاق اور حب دنیا کے باعث انہیں بیعت کرنے والوں میں سے بہت سے افراد خود اپنے ہاتھوں امام حسن(ع) کو معاویہ کے حوالہ کرنے کا عزم مصمم کر بیٹھے،ایسے حالات میں امام حسن(ع) نے مصلحت کے باعث یہی بہتر سمجھا کہ معاویہ کی جانب سے صلح کی پیشکش کو قبول کرلیا جائے، چنانچہ امام(ع) نے صلح کو قبول کرلیا مگر اس شرط کے ساتھ کہ صلح کے شرائط امام حسن(ع) کی جانب سے طے کئے جائیں گے،شرائط میں یہ باتیں بھی شامل تھیں کہ معاویہ اور اس کے حواشی کی جانب سے امیر المؤمنین(ع) پر سب و شتم کا سلسلہ ختم ہوگا،امام حسن(ع)کے اصحاب اور شیعوں کو پریشان نہ کیا جائے گا اور بیت المال سے ان کے حقوق انہیں ادا کئے جائیں گے۔
معاویہ نے ان شرائط کوتسلیم تو کرلیا مگر ان پر عمل نہیں کیا، جس وقت معاویہ نخیلہ۔(۲)پہنچا تو اس نے لوگوں کے درمیان تقریر کی جس میں واضح الفاظ میں اعلان کیا:«تمہارے ساتھ میری جنگ اس لئے نہیں تھی کہ تم لوگ نماز پڑھو، روزے رکھو، حج بجالاؤ،زکوٰۃ ادا کرو یہ کام تو تم لوگ خود ہی انجام دیتے ہو، تمہارے ساتھ میری جنگ تم پر حکمرانی حاصل کرنے کے لئے ہے اور تم لوگوں کی خواہش کے برخلاف خداوند عالم نے مجھے حکمرانی عطا کردی ہے اچھی طرح جان لو کہ حسن بن علی(ع)کے ساتھ میں نے جو شرائط طے  کئے تھے ان پر عمل نہیں کروں گا۔(۳)
معاہدۂ صلح کے بعد امام حسن مجتبیٰ مدینہ تشریف لے آئے اور آخر عمر تک وہیں قیام فرمایا اور حسب حال مناسب انداز میں شیعوں کی ہدایت و رہبری فرماتے رہے،جس حد تک سیاسی حالات اجازت دیتے آپ کے شیعہ علمی و دینی مسائل میں آپ (ع)کے علم و فضل سے استفادہ کرتے لیکن سیاسی نقطۂ نظر سے عالم اسلام بہت سخت اور مشکل حالات سے دوچار تھا یہاں تک کہ خاندان علی(ع) سے کسی بھی قسم کے دوستانہ روابط معاویہ اور اموی حکومت کی نگاہ میں ناقابل معافی جرم تھا ۔
ابن ابی الحدید نے ابو الحسن مدائنی سے کتاب«الاحداث» سے نقل کیا ہے کہ معاویہ نے مسلمانوں کی زمام اقتدار ہاتھ میں لینے کے بعد اسلامی مملکت کے مختلف شہروں میں موجود حکومتی عہدیداروں کے نام ایک سرکاری فرمان روانہ کیا جس میں انہیں حکم دیا گیا تھا کہ شیعوں کے ساتھ شدت سے پیش آیا جائے اور ان کے ساتھ خشونت آمیز برتاؤ کیا جائے، رجسٹر سے ان کے نام نکال دیئے جائیں اور بیت المال سے ان کو حقوق بند کردیا جائیں اور جو شخص بھی علی ابن ابی طالب(ع) سے محبت کا اظہار کرے اسے سزا دی جائے، معاویہ کے اس فرمان کے بعد شیعوں خصوصاً کوفہ کے شیعوں پر زندگی گذارنا بہت دشوار ہوگیا تھا، معاویہ کے جاسوسوں اور ہرکاروں کے خوف سے ہر طرف بے اطمینانی اور بدامنی کی فضا طاری تھی، یہاں تک کہ لوگ اپنے خدمتگذاروں پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔
معاویہ نے شیعیان علی(ع) پر سختی اور فضائل علی ابن ابی طالب پر پابندی کے ساتھ دوسری جانب یہ حکم صادر کیا کہ عثمان کے فضائل و مناقب کی خوب تشہیر کی جائے اور عثمان کے طرفداروں کے ساتھ نہایت محبت و احترام کا برتاؤ کیا جائے،اس سے بڑھ کر معاویہ نے حکم دیا کہ فضائل علی بن ابی طالب(ع)کے مقابلہ میں دیگر اصحاب خصوصاً خلفاء ثلاثہ کی شان میں فضائل جعل کرکے ان کی ترویج کی جائے تاکہ علی(ع) کی بلندو بالا شخصیت کا قد کم کیا جاسکے، اس فرمان کے نتیجہ میں اسلامی معاشرہ میں جھوٹی روایتیں بہت زیادہ رواج پاگئیں۔
معاویہ کے بعد بھی جعلی حدیثوں کا کاروبار چلتا رہا، ابن عرفہ معروف بہ لفطویہ جن کا شمار اکابر محدثین میں ہوتا ہے کا قول ہے کہ:«صحابہ کے فضائل میں زیادہ تر جھوٹی حدیثیں بنی امیہ کے دور میں جعل کی گئی ہیں در اصل بنی امیہ اس طرح بنی ہاشم انتقام لینا چاہتے تھے»۔(۴)
حضرت علی (ع) نے پہلے ہی اس پلید اور ناگوار صورتحال کے بارے میں خبر دے دی تھی، چنانچہ آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:«اما انه سیظهر علیکم بعدی رجل رحب البلعوم،مندحق البطن ۔۔۔الا و انه سیامرکم بسبّي و البرائة مني»۔(۵)
آگاہ ہو جاؤ کہ عنقریب تم پر ایک شخص مسلط ہوگا جس کا حلق کشادہ اور پیٹ بڑا ہوگا ۔۔۔۔۔وہ عنقریب تمہیں مجھے گالیاں دینے کا اور مجھ سے بیزاری کا حکم دے گا۔
اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد کون ہے،کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد زیاد بن ابیہ ہے بعض کہتے ہیں کہ مراد حجاج بن یوسف ثقفی ہے اور بعض حضرات ان خصوصیات کو معاویہ پر منطبق کرتے ہیں۔
ابن ابی الحدید کی نظر میں یہی قول صحیح ہے چنانچہ انہوں نے اس مقام پر سب و شتم علی ابن طالب(ع) اور آپ (ع)سے بیزاری کے متعلق معاویہ کے مؤکد حکم کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے اسی ضمن میں ابن ابی الحدید نے ان محدثین اور راویوں کا بھی ذکر کیا ہے جنہیں معاویہ نے حضرت علی(ع) کی مذمت میں احادیث جعل کرنے کے لئے اجیر بنا رکھا تھا ایسے ہی دین فروش راویوں میں سمرۃ بن جندب بھی ہے۔(۶)معاویہ نے سمرۃ بن جندب کو ایک لاکھ درہم مرحمت کئے تاکہ وہ یہ کہدے کہ یہ آیت:«و من الناس من یعجبک  قولہ فی الحیاۃ الدنیا۔۔۔»امیر المؤمنین(ع)کی شان میں اور آیت:«و من الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللّٰہ» ابن ملجم مرادی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
 خلاصۂ کلام یہ کہ سن 60 ہجری تک جاری رہنے والے معاویہ کے اقتدار کے دوران شیعیان علی(ع)سخت ترین حالات میں زندگی بسر کررہے تھے اور معاویہ کے حکم سے اس کے اہل کار شیعوں پر بدترین مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے،اسی دور میں شیعوں کی حجر بن عدی، عمرو بن الحمق الخزاعی،رشید ہجری،عبداللہ الحضرمی جیسی نامور شخصیتیں معاویہ کے حکم سے شہید کی گئیں۔(۷)ان حالات کے باوجود کفن بردوش اور جاں بکف شیعوں نے ہر طرح کے شدائد و مصائب کا سامنا کیا لیکن علی بن ابی طالب(ع)کی ولایت و امامت اور آپ(ع)کے اہل خانہ کے حقوق سے دفاع میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور راہ حق میں جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہ کیا بلکہ شدت شوق کے ساتھ شہادت کا فاخرانہ لباس زیب تن کرتے رہے۔
معاویہ نے امام حسن (ع) کے ساتھ صلح نامہ میں یہ عہد کرنے کے باوجود کہ وہ کسی کو اپنا جانشین نہیں بنائے گا،اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین بنادیا اور لوگوں سے اس کے لئے بیعت بھی لے لی،اگرچہ ابتدائی ایام میں عالم اسلام کی نامور شخصیات کی جانب سے اس کام کی مخالفت بھی ہوئی لیکن معاویہ نے ایسی مخالفتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ خوف اور لالچ کے ذریعہ اپنا مقصود حاصل کرلیا۔
سن 50 ہجری میں امام حسن(ع) کی شہادت کے بعد امامت کی ذمہ داری امام حسین(ع)کے کاندھوں پر آگئی،چونکہ معاہدۂ صلح کے مطابق آپ(ع) امام حسن(ع)کی روش کے پابند تھے اور اسی لئے آپ ؑنے قیام نہیں فرمایا لیکن مناسب مواقع پر آپ (ع) صورتحال کا اظہار کرتے رہے نیز معاویہ اور اس کے کارندوں کے مظالم اور مفاسد کو بھی لوگوں سے واضح طور پر بیان فرماتے رہتے،معاویہ نے جب ایک خط لکھ کر آپ ؑکو اپنی مخالفت سے باز رہنے کو کہا تو آپ (ع)نے سخت الفاظ میں جواب دیا اور مندرجہ ذیل امور پر معاویہ کی شدید ملامت و مذمت فرمائی۔
۱۔تو حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کا قاتل ہے جو سب کے سب عابد و زاہد اور بدعتوں کے مخالف تھے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیا کرتے تھے۔
۲۔تونے ہی عمرو بن الحمق کو قتل کیا ہے جو جلیل القدر صحابی تھے اور کثرت عبادت سے جن کا بدن نحیف و لاغر ہوگیا تھا۔
۳۔تونے زیاد ابن ابیہ (جیسے ولد الحرام)(۸) کو اپنا بھائی بناکر اسے مسلمانوں کی جان و مال پر مسلط کردیا۔
۴۔عبد اللہ بن یحییٰ حضرمی کو صرف اس جرم کی بناء پر شہید کردیا کہ وہ دین و مذہب علی ابن ابی طالب(ع) کے ماننے والے تھے، کیا علی ابن ابی طالب(ع)کا دین پیغمبر اکرم(ص)کے دین سے الگ کوئی دین ہے وہی دین پیغمبر(ص)جس کے نام پر تو لوگوں پر حکومت کررہا ہے۔
۵۔اپنے بیٹے یزید کو جو شراب نوش اور سگ باز ہے مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کرلیا ہے۔
۶۔مجھے مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی سے ڈرا رہا ہے میری نگاہ میں مسلمانوں کے لئے تیری حکومت سے بدتر اور کوئی فتنہ نہیں ہے اور میری نظر میں تیرے خلاف جہاد سے بہتر کوئی کام نہیں ہے۔(۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔یعقوبی نے دو ماہ اور ایک قول کے مطابق چار ماہ نقل کیا ہے، تاریخ یعقوبی ج۲، ص۱۲۱،لیکن سیوطی کے قول کے مطابق آپ(ع) کی خلافت ظاہری کی مدت پانچ سے چھ ماہ تھی، تاریخ الخلفاء،ص۱۹۲۔
۲۔نخیلہ : کوفہ سے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے،معجم البلدان، ج۵، ص۲۷۸۔
۳۔ارشاد شیخ مفید،ج۲، ص۱۴،صلح امام حسن (ع)کے تاریخی و عملی تجزیہ کے لئے شیخ راضی آل یاسین کی کتاب «صلح الحسن»ملاحظہ فرمائیں ۔
۴۔ابن ابی الحدید،شرح نهج البلاغة،ج ۱۱، ص۴۴ـ۴۶ـ
۵۔نھج البلاغة خطبہ ،۵۷ـ
۶۔شرح نهج البلاغة،چہارجلدی،ج۱، ص۳۵۵ ۔۳۶۱، شرح خطبہ ۵۶۔
۷۔حیات الامام الحسین(ع) ج۲،ص۱۶۷ـ ۱۷۵ملاحظہ فرمائیں ـ
۸۔زیاد ابوسفیان کے ناجائز نطفہ سے پیدا ہواتھا ، اس کی ماں بنی عجلان کی ایک کنیز تھی جس سے ابوسفیان کے ناجائز روابط کے نتیجہ میں زیاد کی پیدائش ہوئی تھی،حالانکہ اسلام کا قانون یہ ہے کہ بیٹا قانونی باپ سے ہی ملحق ہوسکتا ہے نہ کہ زانی سے۔ اس سلسلہ میں تاریخ یعقوبی،ج۲، ص۱۲۷ملاحظہ فرمائیں۔
۹۔الامامة و السیاسة،ج۱،ص۱۵۵ـ۱۵۷ـ   


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Oct. 18