Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183972
Published : 27/10/2016 20:25

مولانا محمد حسین آزاد اور ان کی خدمات

مولانا آزاد کی ان کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ،مقالات ، رسائل،حواشی تھے جو متعدد بار زیور طبع سے آراستہ ہوکر صاحبان علم و ادب کے مجمع سے داد و تحسین حاصل کرتے رہے، ان کے مقالات میں جانورستان،سیاک، نماک اور فلسفہ الھیات کو ایک خاص امتیاز کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔


ولایت پورٹل:
شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد اپنے زمانے کے ایک معروف ادیب تھے،وہ ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے،جنہیں علم و ادب ، خدمت خلق اور علم دوستی اجداد سے ورثہ میں ملی تھیں،ان کا شجرہ صحابی رسول خدا(ص) جناب سلمان فارسی سے ملتا تھا، ان کا خاندان ایران کے شہر ہمدان سے جاکر کشمیر میں آباد ہوا اور پھر اس کے بعد شاہ عالم کے دور میں دہلی میں مقیم ہوگیا
ولادت:
مولانا آزاد کی ولادت با سعادت بروز عید غدیر سن ۱۲۴۵ ہجری مطابق ماہ جون سن ۱۸۳۰ عیسوی کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی،آپ کے والد مولانا محمد باقر ایک بزرگ عالم اور خطیب تھے۔
مولانا آزاد کو اللہ نے بہت سی اولاد ذکور عنایت فرمائی لیکن بقضائے الہی سب مولانا کی حیات ہی میں دار فانی کو کوچ کرگئیں،صرف ایک بیٹا کہ جس کا نام محمد ابراہیم تھا یہ آپ کی وفات کے تقریباً ۱۰ برس کے بعد فوت ہوا۔
قلمی آثار:
تاریخ علماء ہند میں ایسے بہت سے جیالے مل جائیں گے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تحصیل علم اور طلباء پروری میں گذار دی،انہیں ہستیوں میں سے ایک مولانا آزاد تھے،مولانا آزاد نے اپنی پر برکت زندگی میں بہت کی کتابیں تحریر فرمائیں جن میں سے مندرجہ ذیل کتب متعدد بار چاپ ہوئیں:
۱۔آب حیات(اردو شاعری پر تنقید)۔
۲۔دربار اکبری
۳۔نیرنگ خیال(مجموعہ انشاء)۔
۴۔سخندان فارس(ادبیات فارسی پر مشتمل مفصل کتاب)۔
۵۔نگارستان فارس(تذکرہ شعراء فارسی)۔
۶۔تذکرہ علماء ہند
۷۔دیوان ذوق۔
۸۔سنین اسلام،خلاصہ تاریخ اسلام۔
۹۔نصیحت کے پھول۔
۱۰۔قصص ہند۔
۱۱۔ نظم آزاد(منظوم مجموعہ)۔
۱۲۔جامع القواعد(ادبیات فارسی)
۱۳۔لغت آزاد۔
۱۴۔قند فارسی۔
۱۵۔آموزگار فارسی۔
۱۶۔سیر ایران(سفرنامہ)۔
۱۷۔خمکدہ آزاد(بیاض اشعار)۔
۱۸۔درام اکبر۔
۱۹۔مکتوبات آزاد۔
۲۰۔مقالات آزاد۔
۲۱۔کتاب اردو(یہ اردو کورس پر مشتمل ۶ جلدوں کا مجموعہ تھا کہ جو تقریباً ۵۰ برس تک مدارس میں پرھایا جاتا رہا)۔
۲۲۔آموزش فارسی(یہ کتاب تقریباً ۲۵ برس تک مدارس اسلامیہ کے نصاب میں داخل رہی)۔
۲۳۔شہزادہ ابراہیم۔
۲۴۔حکایات آزاد۔
۲۵۔سفرنامہ ایشیا
مولانا آزاد کی ان کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ،مقالات ، رسائل،حواشی تھے جو متعدد بار زیور طبع سے آراستہ ہوکر صاحبان علم و ادب کے مجمع سے داد و تحسین حاصل کرتے رہے، ان کے مقالات میں جانورستان،سیاک، نماک اور فلسفہ الھیات کو ایک خاص امتیاز کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
وفات:
بے پناہ علمی اور ادبی خدمت کرنے کے بعد یہ عظیم شخصیت سن ۱۳۲۸ ہجری،مطابق ۱۹۱۰ عیسوی میں اس دنیا سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئی،اگرچہ آپ اب اس دنیا میں تو نہیں ہیں لیکن آپ کا علمی اور ادبی چشمہ آج بھی آب حیات سے تشنگان معرفت کو سیراب کررہا ہے۔
منبع: مطلع انوار در احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19