Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183986
Published : 29/10/2016 17:1

مولانا آفتاب حسین دہلوی کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر

مولانا خطابت میں بھی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے جب آپ منبر پر جاتے تو مسلمانوں کے علاوہ اہل ہنود بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے،لہذا آپ نے دہلی میں تشیع کی بڑی خدمت انجام دیں اور آپ کچھ عرصہ دہلی شہر کے امام جمعہ بھی رہے،لہذا آپ کا شمار دہلی کے ممتاز علماء میں ہوتا تھا۔


ولایت پورٹل:
مولانا سید آفتاب حسین ابن سید غازی الدین حسن پیتن ہیڑی ضلع بجنور پوپی کے ایک رئیس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، ان کی ولادت سن ۱۲۸۰ ہجری مطابق ۱۸۶۳ عیسوی میں ہوئی،آپ نے اپنی تعلیم کے ابتدائی مراحل میرانپور اور مدرسہ منصبیہ میرٹھ میں طئے کئے اور مولوی سے فاضل تک کے تمام امتحانات لاہور سے دئیے،تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد لاہور کے ایک کالج میں فقہ کی تدریس کرنے میں مشغول ہوگئے،مولانا نہایت ہی ذہین اور ہوشیار انسان تھے نیز کتابوں سے ان کا شغف بہت زیادہ تھا اسی لئے ان کی زندگی کا کثیر وقت مطالعہ میں گذرا۔
آپ کی خدمات:
مولانا خطابت میں بھی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے جب آپ منبر پر جاتے تو مسلمانوں کے علاوہ اہل ہنود بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے،لہذا آپ نے دہلی میں تشیع کی بڑی خدمت انجام دیں اور آپ کچھ عرصہ دہلی شہر کے امام جمعہ بھی رہے،لہذا آپ کا شمار دہلی کے ممتاز علماء میں ہوتا تھا۔
اسی طرح انہوں نے نواب حامد علی خان کی اعانت سے دہلی میں ایک دینی مدرسہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور اس کے علاوہ شیعۃ الصفا نامی فاؤنڈیشن بھی قائم کیا۔
اولاد:

اللہ تعالی نے مولانا آفتاب دہلوی کو دو بیٹوں سے نوازا ،۱۔ مولانا سید محمد دہلوی کہ جنہیں بر صغیر میں اصولی خطابت کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔۲۔سید حسن جنہوں نے کالج میں پڑھائی مکمل کرکے لاہور کے ایکسچینج میں ملازمت اختیار کی اور سن ۱۹۶۶ عیسوی کو وہیں انتقال کیا۔
شاگرد:
ویسے تو مولانا آفتاب دہلوی نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی لیکن ان میں سے مشہور نام یہ ہیں:
۱۔حکیم حاجی مقبول احمد کہ جو پہلے سنی المذہب تھے ،لیکن مولانا کی رفاقت نے انہیں در اہلبیت(ع) سے آشنا کیا۔
۲۔احمد کبیر کہ جو شاہ آباد ضلع کرنال(موجودہ ہریانہ) کے ایک عابد اور زاہد منش انسان تھے۔
وفات:
مولانا آفتاب نے اپنی پوری زندگی،مذہب حقہ کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں صرف کی آخر کار ۱۳۲۱ ہجری،مطابق ۱۹۰۴ عیسوی میں شہر دہلی میں انتقال فرمایا،اور درگاہ پنچہ شریف دہلی میں شہید رابع مرزا محمد کامل صاحب کے پہلو میں دفن ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:مطلع انوار احوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19