Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183989
Published : 29/10/2016 18:30

اموی دور میں شیعہ(۲)

امام زین العابدین (ع)شہادت امام حسین(ع) کے بعد پینتیس سال تک منصب امامت پر فائزر ہے آپ (ع)نے بھی بنی امیہ کے ساتھ مبارزہ کا سلسلہ جاری رکھا لیکن آپ (ع)کے مقابلہ کا انداز جدا تھا آپ(ع)کی کوشش یہ تھی کہ واقعۂ کربلا لوگوں کی نگاہ میں مجسم رہے لوگ اس واقعہ کو بھولنے نہ پائیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں بنی امیہ کے خلاف غم و غصہ اور نفرت کا لاوا پکتا رہے اسی لئے آپ ؑہر موقع پر کربلا کے دلدوز واقعہ کو یاد کرکے آنسو بہاتے تھے دوسری جانب آپ ؑدعاؤں کے سہارے اسلامی معاشرہ میں اعلیٰ اسلامی معارف کی تبلیغ و ترویج کرتے رہے۔


ولایت پورٹل:ہم نے پچھلے مضمون میں کربلا سے قبل شیعوں کے حالات پر مفصل بحث کی تھی،جب ہرطرف ہو کا عالم تھا اور امت مسلمہ پر ایک وحشت اور خوف طاری تھا لہذا پہلا مضمون پڑھنے کے لئےاس لنک پر کلک کیجئے!
اموی دور میں شیعہ(۱)
 
ب: واقعہ کربلا کے بعد
سن 60 ہجری میں معاویہ کی موت کے بعد اس کا بیٹا یزید جسے خود معاویہ نے جانشین مقرر کیا تھا اور لوگوں سے اس کی بیعت بھی لی تھی عالم اسلام کا حاکم بن بیٹھا،اس نے اہل مدینہ خصوصاً چند برجستہ شخصیات سے بیعت لینے کا فیصلہ کیاجن میں امام حسین(ع)بھی شامل تھے،امام (ع)نے بیعت کرنا قبول نہ کیا اور مکہ کے ارادہ سے مدینہ کو ترک کردیا، چند ماہ مکہ میں قیام فرمایا لیکن جب آپ(ع)کو یہ اطلاع ملی کہ یزید اور اس کے خفیہ طریقہ سے حج کے دوران آپ(ع) کو قتل کرکے اپنے ناجائز مفادات کے راستہ سے بڑے مانع کو ہٹا دینا چاہتے ہیں تو امام(ع) نے کوفہ کے ارادہ سے مکہ بھی ترک کردیا،کوفہ کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کی اکثریت شیعہ تھی اور انھوں نے امام(ع) کو دعوت دی تھی اور ہزاروں خطوط بھیج کر آپ(ع)کی وفاداری اور یزید سے بیزاری کا اعلان کیا تھا۔
لیکن یزید کی جانب سے مقرر والی کوفہ«عبید اللہ ابن زیاد» کی مکاریوں، خوف اور لالچ کے باعث اکثر افراد اپنے عہد و پیمان سے منحرف ہوگئے چنانچہ واقعۂ کربلا رونما ہوا اور امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب باوفا کے ہمراہ انتہائی ظلم و جور کے ساتھ عالم غربت میں شہید کردیئے گئے آپ ؑکی عورتوں اور بچوں کو یزیدیوں نے اسیر کرلیا۔
کربلا کے خونچکاں واقعہ میں اگرچہ بظاہر یزید اور اموی حکومت کو فتح حاصل ہوئی اور ظاہری طور پر امام حسین ؑاور ان کے اصحاب کو ناکامی ملی لیکن واقعۂ کربلا تاریخ اسلام اور تشیع کی زندگی کا اہم موڑ قرار پایا اور اس کے نتیجہ میں عالم اسلام میں اہم ترین تبدیلیاں رونما ہوئیں، مسلمانوں کے سوئے ہوئے اذہان جاگ اٹھے،بنی امیہ کی پستی ، دین دشمنی اور امام حسین(ع) کی عظمت و رفعت اور حق پرستی عالم آشکار ہوگئی، اس عظیم تحریک نے معاویہ اور اس کے عمال کی جانب سے خاندان علی(ع)کا نام مٹانے اور شیعیت کو باطل قرار دینے کی بیس سالہ کوششوں اور سازشوں کو برباد کر دیا۔
شیعہ،سنی تمام مؤرخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کربلا کے خونچکاں حادثہ نے ایک جانب یزید اور اموی حکومت کے خلاف مسلمانوں کے دلوں کو نفرت و حقارت سے بھر کردیا دوسری جانب لوگوں کے دل پیغمبر(ص) کی آل پاک کی جانب کھنچنے لگے اور ان کی محبوبیت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
مؤرخین تحریر کرتے ہیں کہ واقعۂ کربلا کے بعد جب عبید اللہ بن زیاد نے بگڑتی صورتحال اور اموی حکومت کی ذلت و رسوائی کا مشاہدہ کیا تو اس کے نتائج سے گھبرا کر عمر بن سعد سے وہ خط واپس طلب کیا جس میں ابن زیاد نے عمر سعد کو امام حسین(ع) کی شہادت کا حکم دیا تھا لیکن عمر سعد نے وہ خط واپس دینے سے انکار کر دیا اور جب ابن زیاد کا اصرار بڑھا تو عمرسعد نے کہا:«وہ خط میں نے مدینہ بھیج دیا ہے تاکہ لوگوں کو پڑھ کر سنا دیا جائے اہل مدینہ مجھے اس ظلم کی انجام دہی میں معذور سمجھیں»،عمرسعد نے مزید کہا:«بخدا میں نے تمہیں پہلے ہی اس کام کے برے نتائج سے آگاہ کردیا تھا اور اس سلسلہ میں تم سے اتنی خیر خواہانہ گفتگو کی تھی کہ اگر ایسی گفتگو اپنے باپ سے کرتا تو حق پدری ادا کرچکا ہوتا» عبید اللہ کے بھائی عثمان نے عمرو سعد کے قول کی تائید کی اور کہا:اے کاش! اولاد زیاد قیامت تک ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کرتی لیکن قتل حسین(ع)میں شریک نہ ہوتی۔(۱)
ابن اثیر تحریر کرتے ہیں کہ جب ابن زیاد نے امام حسین(ع)کا سر یزید کے سامنے پیش کیا تو یزید نے خوشی کا اظہار کیا اور ابن زیاد کی عزت افزائی کی لیکن کچھ ہی عرصہ بعد جب فضا یزیدکے خلاف ہوگئی اور لوگ یزید پر لعن طعن کرنے لگے تو یزید بھی ندامت و پشیمانی کا اظہار کرنے لگا اور ابن زیاد کی سرزنش کرنے لگا، یزید کہا کرتا تھا کہ ابن زیاد نے ہی قتل حسین(ع)میں افراط سے کام لیا ہے اس لئے کہ حسین(ع)نے تو ابن زیاد سے کہا تھا کہ بیعت یزید کا مطالبہ چھوڑدو اور مجھے کسی سرحدی علاقہ میں جانے دو لیکن ابن زیاد نے حسین(ع)کی بات نہ سنی اور انھیں قتل کردیا اور اس طرح لوگوں کو مجھ سے ناراض کردیا۔(۲)
ندامت و پشیمانی کے ایسے کام واقعی ہوںیا صرف ظاہری اور نمائشی لیکن حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ امام حسین(ع)کے قیام، آپ(ع)کی مع انصار و اصحاب شہادت اور عورتوں، بچوں کی اسیری نے لوگوں کے سامنے حقائق نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا گیاہے یہاں تک کہ سرزمین شام جہاں برسہا برس حضرت علی(ع)اور ان کے اہل خاندان کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈہ کیاتھا، وہ سرزمین جو معاویہ اور یزید کی حکومت کا مرکز تھی اس سرزمین پر بھی عمومی طورسے ماحول بنی امیہ کے خلاف اور اہل بیت(ع)کے حق میں سازگار ہوگیا تھا۔
اب تک اموی حکومت امام حسین(ع) اور ان کے اصحاب کو دین اسلام سے خارج اور خلیفۂ پیغمبر(ص) کا باغی کہا کرتی تھی اور اس پرفریب نعرہ کے ذریعہ علویوں اور شیعوں کو قید و بند اور مشقت و آزار میں مبتلا رکھتی تھی لیکن امام حسین(ع)نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر،بدعت اور اموی حکومت کی برائیوں سے مقابلہ اور اصلاح امت کا نہ صرف یہ کہ نعرہ دیا بلکہ اپنی جان کی قربانی اور اہل حرم کی اسیری کی قیمت پر اس دور کے مسلمانوں کے رگ و پے میں سرایت کردیا جس کے بعد حریت پسند وں کے لئے امویوں کے خلاف مقابلہ و جہاد کا دروازہ کھل گیا نہ صرف یہ کہ شیعوں کی جانب سے پے در پے قیام ہوئے بلکہ قدریہ اور معتزلہ جیسے دوسرے فرقوں نے بھی قیام کا راستہ اختیار کیا ۔
سلیمان بن صرد خزاعی کی رہبری میں شیعیان کوفہ کا قیام، مختار اور زید شہید کا قیام سب کے پیش نظر کربلاکا واقعہ تھا اور یہ سب کربلا کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ واقعۂ کربلا کے بعد جرأت و شہامت، حریت و شہادت کا جذبہ مسلمانوں خصوصاً شیعوں میں بیدار ہوگیا اور اس کے بعد سے انھوں نے اموی حکام چین کی نید سونا حرام کردیا خواہ اس کے نتیجہ میں قید و بند کی صعوبتیں،کوڑے، مصائب برداشت کرنا پڑے اور راہ خدا میں شہادت کو گلے لگانا پڑا ،اس دوران بھی بہت سے نشیب و فراز آئے جن کے بیان اور تجزیہ کی فی الحال گنجائش نہیں ہے۔
اس عرصہ میں ایک اور نکتہ پر غور و خوص اور تحقیق کی ضرورت ہے کہ ان حالات میں ائمہ اہل بیت(ع) نے ایک طرف اموی حکومت سے مقابلہ اور دوسری جانب اسلامی معاشرہ کی فکری، سماجی اور تربیتی قیادت کے لئے کس روش اور طریقہ کاانتخاب کیا؟ امام زین العابدین (ع)شہادت امام حسین(ع) کے بعد پینتیس سال تک منصب امامت پر فائزر ہے آپ (ع)نے بھی بنی امیہ کے ساتھ مبارزہ کا سلسلہ جاری رکھا لیکن آپ (ع)کے مقابلہ کا انداز جدا تھا آپ(ع)کی کوشش یہ تھی کہ واقعۂ کربلا لوگوں کی نگاہ میں مجسم رہے لوگ اس واقعہ کو بھولنے نہ پائیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں بنی امیہ کے خلاف غم و غصہ اور نفرت کا لاوا پکتا رہے اسی لئے آپ ؑہر موقع پر کربلا کے دلدوز واقعہ کو یاد کرکے آنسو بہاتے تھے دوسری جانب آپ ؑدعاؤں کے سہارے اسلامی معاشرہ میں اعلیٰ اسلامی معارف کی تبلیغ و ترویج کرتے رہے، آپ(ع) کی دعائیں عرفان و حکمت، تزکیہ و تہذیب نفس، اجتماعی اخلاق و وظائف کے ساتھ ظلم سے مقابلہ جیسے مطالب پر مشتمل ہوتیں اس طرح اموی حکومت کو احساس بھی نہ ہوا اور آپ(ع)اسلامی معاشرہ کی حقیقی قیادت و امامت کا کردار بہترین انداز میں ادا کرتے رہے، واقعۂ کربلا کے بعد اسلامی معاشرہ کو امام معصوم(ع) کے مسلحانہ قیام اور اعلانیہ اعتراض کی کوئی ضرورت نہ تھی اس ذمہ داری کو  امام حسین(ع) بہترین انداز سے ادا کرچکے تھے اس دور میں اسلامی معاشرہ کی اصل ضرورت یہ تھی کہ اس قیام سے اسلام و مسلمین کے مصالح کے لئے بھر پور استفادہ کیا جائے اور امام سجاد(ع) نے یہ کام احسن طریقہ سے انجام دیا۔
امام سجاد(ع) نے واقعۂ کربلا کو زندہ رکھنے، دعا کے قالب میں اسلام کے حقیقی معارف بیان کرنے کے علاوہ ایسے شاگردوں کی بھی تربیت فرمائی جو اسلامی معاشرہ کی کلامی ، فقہی اور تفسیری ضرورتوں کو پورا کرسکیں، جس دور میں بنی امیہ اور عبداللہ بن زبیر (۳)حکومت کے مسئلہ میں ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے،امام(ع)نے موقع سے بھرپور استفادہ کیا۔
امام زین العابدین(ع)کے زمانہ میں غیر شیعہ فقہاء اپنے نظریات کے مطابق احکام اسلامی بیان کرتے تھے امام(ع)کے ایسے شاگرد بھی تھے جو امام(ع)کے نظریات تو بیان کرتے لیکن اپنی شیعیت کا اظہار نہیں کرتے تھے، قاسم بن محمد ابی بکر اور سعید بن مسیب ایسے ہی شاگردوں میں سے ہیں (۴)علم کلام کے بہترین ماہر شیعہ متکلم قیس بن ماصر نے امام زین العابدین(ع)سے ہی کسب فیض کیا تھا۔(۵)
جابر بن عبد اللہ الانصاری،عامر بن واثلہ کنانی ، سعید بن مسیب، سعید بن جہان کنانی امام زین العابدین(ع) کے اصحاب اور شاگردوں میں سے ہیں جب کہ سعید بن جبیر، محمد بن جبیر بن مطعم، ابو خالد کابلی، قاسم بن عوف، اسماعیل بن عبد اللہ بن جعفر، ابراہیم و حسن فرزندان محمد بن حنفیہ، حبیب ابن ابی ثابت، ابو یحییٰ اسدی، سلمہ بن دینار اور ابو حازم اعرج کا شمار آپ(ع)کے تابعی شاگردوں میں ہوتا ہے۔(۶)
شیخ طوسی نے اپنی علم رجال کی کتاب میں امام سجاد(ع)سے روایت نقل کرنے والوں کو حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق نقل کیا ہے اور ان کی تعداد ۱۷۵؍ بتائی ہے جن میں سے بعض صحابی اور بعض تابعی تھے۔(۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔تاریخ طبری، ج۶، ص۲۶۸،تاریخ الشیعہ،ص۲۹۔
۲۔تاریخ ابن اثیر،ج۲، ص۵۷۔
۳۔یزید کی موت کے بعد عبد اللہ بن زبیر نے مکہ میں خروج کیا اور حکومت حاصل کرلی،یمن،حجاز، عراق اور خراسان کے لوگوں نے اس کی بیعت کی لیکن شام اور مصر کے لوگوں نے یزید کے فرزند معاویہ کی بیعت کی لیکن معاویہ بن یزید کی حکومت زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکی اور شام و مصر کے لوگوں نے بھی عبد اللہ بن زبیر کی ہی بیعت کرلی،اس کی حکومت کا سلسلہ نو سال تک جاری رھا اور آخرکار 73  ہجری میں حجاج کے ہاتھوں قتل ہوا اور عبد الملک بن مروان نے عنان حکومت سنبھال لی،تاریخ الخلفاء، ص۲۱۳۔
۴۔تاریخ الشیعہ،ص۳۸۔
۵۔اصول کافی، ج۱،کتاب الحجة، باب الاضطرار الی الحجة،حدیث۴۔
۶۔مناقب ابن شہر آشوب، ج۴،ص۱۷۴۔       
۷۔رجال شیخ طوسی،۸۱۔ ۱۰۱۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19