Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183992
Published : 29/10/2016 19:25

رہبر انقلاب نے کی جوانوں کو صحیفہ سجادیہ پڑھنے کی نصیحت:

ہمارے جوانوں کو صحیفہ سجادیہ ضرور پڑھنی چاہیئے

اگر لوگوں کے اندر اسلامی اخلاق پایا جاتا تو یزیدو ابن زیاد، عمرسعد اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے ذریعہ اس طرح کا سانحہ وجود میں نہ آتا، اگر لوگ اس قدر گر نہ چکے ہوتے، اس طرح زمیں بوس نہ ہوئے ہوتے اور اقدار سے اس قدر دوری اختیار نہ کی ہوتی اور ذلت و رسوائی کا طوق ان کی گردنوں پر نہ پڑا ہوتاتو یہ ممکن نہ تھا کہ حکومتیں( چاہے وہ فاسد ہی کیوں نہ ہوتیں) بے دین و ظالم ہی کیوں نہ ہوتیں، لوگوں کو اس طرح کا گھنونا اور مجرمانہ واقعہ یعنی فرزند رسول(ص) و زہرا(س) کے قتل پر مجبور کرپاتیں۔


ولایت پورٹل:
امام سجاد علیہ السلام نے اسلامی معاشرے میں تعلیم اور اخلاق میں تبدیلی لانے کے لئے ہمت باندھی، آپ(ع) نے ایسا کیوں کیا؟کیونکہ خود امام علیہ السلام کے تجزیہ کے مطابق، عالم اسلام کی پریشانی کا ایک اہم حصہ کہ جس کے سبب سانحۂ کربلا وقوع پذیر ہوا لوگوں کے انحطاط اور اخلاقی بدعنوانی میں مبتلا ہونے کا مسئلہ تھا۔
اگر لوگوں کے اندر اسلامی اخلاق پایا جاتا تو یزیدو ابن زیاد، عمرسعد اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے ذریعہ اس طرح کا سانحہ وجود میں نہ آتا، اگر لوگ اس قدر گر نہ چکے ہوتے، اس طرح زمیں بوس نہ ہوئے ہوتے اور اقدار سے اس قدر دوری اختیار نہ کی ہوتی اور ذلت و رسوائی کا طوق ان کی گردنوں پر نہ پڑا ہوتاتو یہ ممکن نہ تھا کہ حکومتیں( چاہے وہ فاسد ہی کیوں نہ ہوتیں) بے دین و ظالم ہی کیوں نہ ہوتیں، لوگوں کو اس طرح کا گھنونا اور مجرمانہ واقعہ یعنی فرزند رسول(ص) و زہرا(س) کے قتل پر مجبور کرپاتیں، کیا یہ کھیل ہے، کیا یہ اتنا آسان کام ہے؟ ایک ایسی قوم اسی وقت بدعنوانیوں کا سرچشمہ قرار پائے گی جب اس کے اندر اس قدر اخلاقی تنزّل و انحطاط وجود میں آجائے جو کہ سبھی بدعنوانیوں کا سرچشمہ قرار پاجائے۔
امام سجادعلیہ السلام نے اسلامی معاشرے کے چہرے میں اس امر کی جستجو کی اور اس کا بیڑہ اٹھایا کہ اس کے چہرے سے بداخلاقی کے بد نما داغ کو مٹا کر حسن اخلاق کے نور سے منور کریں گے اسی لئے، دعائے مکارم الاخلاق ایک دعا ہے لیکن ایک سبق ہے اور صحیفۂ سجادیہ ایک دعا ہے لیکن ایک سبق ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25