Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184007
Published : 30/10/2016 19:14

اموی دور میں شیعہ(۳)

امام جعفر صادق(ع) سے احادیث نقل کرنے والے محدثین و رواۃ صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ دوسرے فرقوں اورمذاہب کے محدثین بھی آپ(ع) سے احادیث نقل کرتے تھے،ابن صباغ مالکی کہتے ہیں کہ:بہت سے بزرگان امت نے امام صادق(ع) سے احادیث نقل کی ہیں جن میں سے یحییٰ بن سعید،ابن جریح،مالک بن انس، سفیان ثوری، ابو عینیہ، ابو حنیفہ، ابو ایوب سجستانی وغیرہ ہیں۔(۷)مورخین کے مطابق امام جعفر صادق(ع) کے کوثر علم و دانش سے سیراب ہونے والوں کی تعداد چار ہزار ہے۔


ولایت پورٹل:
ہم نے مسلسل پچھلے ۲ مضامین میں میں اموی دور حکومت میں میں شیعوں کے حالات پر سیر حاصل بحث کی ہے،لہذا تکمیل اطلاعات کے لئے ان لنکس پرکلک کیجئے!
اموی دور میں شیعہ(۱)
اموی دور میں شیعہ(۲)
امام زین العابدین(ع)کے بعد آپ (ع)کے فرزند ابو جعفر محمد بن علی(ع)جن کا لقب باقر تھا منصب امامت پر فائز ہوئے اور  سن۱۱۴ ہجری میں ہشام بن عبد الملک کے ہاتھوں درجۂ شہادت پر فائز ہونے تک شیعوں کی قیادت و رہبری کرتے رہے ،گذشتہ ائمہ کے ادوار کی بہ نسبت آپ(ع)کے عہد میں سیاسی حالات کافی بہتر تھے اسی لئے عام افراد خصوصاً علماء و محدثین کا رابطہ آپ (ع)سے کافی زیادہ تھا اور راویوں نے آپ  سے بہت سی روایتیں نقل کی ہیں، جابر ابن عبد اللہ انصاری کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے آپ(ع)کی ولادت کی خبر دی تھی اور رسول اکرم(ص)ہی نے آپ(ع) کو باقر (علوم شگاف کرنے والا)کے لقب سے ملقب فرمایا تھا۔
امام محمد باقر(ع)نے ہاتھ آئی فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے علمی و ثقافتی تحریک کی بنیاد رکھی یہ تحریک آپ(ع) کے بعد امام جعفر صادق(ع) کے ذریعہ اپنے عروج کو پہنچ گئی،جابر بن یزید جعفی نے پچاس ہزار اور محمد بن مسلم نے تیس ہزار احادیث امام محمد باقر(ع) سے نقل کی ہیں،شیخ طوسی کی کتاب رجال کے مطابق امام باقر(ع) سے حدیث نقل کرنے والے اصحاب و تابعین کی تعداد ۴۶۶ہے۔ آپ(ع)کے دور میں عالم اسلام کے بہت سے دینی و کلامی فرقے بھی وجود میں آئے امام(ع) ان سے مناظرہ و مباحثہ بھی کرتے رہے ان مناظروں کے چند نمونہ مرحوم طبرسی نے اپنی کتاب ’’الاحتجاج‘‘ میں نقل کئے ہیں۔(۱)
خلاصۂ کلام یہ کہ امام حسین ؑکے قیام اور امام زین العابدین علیہ السلام کے دور میں آنے والی تبدیلیوں اور اموی حکومت کے خلاف شیعوں کے قیام اور دیگر فرقوں کے شورشوں نے واقعۂ کربلا سے قبل اسلامی معاشرہ پر طاری گھٹن کی فضا کا خاتمہ کردیا اور فکری بحث و مباحثہ کے نتیجہ میں بہت سے فرقے اور مذاہب وجود میں آگئے چونکہ امام باقر(ع) اپنے عہد کی سب سے بڑی علمی شخصیت کے مالک تھے اس لئے عالم اسلام کے محدثین، فقہاء اور دانشمند اپنے آراء و افکار میں آپ (ع)کی رائے سے متاثر ہوئے اس طرح امام(ع)کو اسلام کے اعلیٰ معارف و احکام بیان کرنے کا موقع ملا،ایسے حالات کی روشنی میں واضح سی بات ہے کہ گذشتہ ادوار کے مقابلہ شیعوں کو سیاسی طور پر کم مشکلات کا سامنا تھا،مگر پھر بھی اموی حکومت جس کی بنیاد ہی  خاندان علی ابن ابی طالب پر ظلم و ستم کرنا تھی اپنی افتاد طبع کے مطابق شیعوں یا ددیگر حریت پسندوں پر ظلم و ستم کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی۔
۱۱۴ ہجری میں ہشام بن عبد الملک کے ہاتھوں امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ امام جعفر صادق کی امامت کا آغاز ہوا، آپ (ع)نے اپنے پدر بزرگوار کے ہاتھوں علمی،ثقافتی تحریک کو منزل معراج تک پہنچایا ہشام بن عبد الملک کا شمار اموی سلاطین کے سب سے زیادہ طاقتور اور سخت مزاج سلاطین میں ہوتا ہے، ہشام اموی حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کے قیام یا بغاوت کو کچلنے کے لئے مخالفین خصوصاً شیعوں کے ساتھ سخت ترین سلوک کرتا تھا اسی لئے اس نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق(ع) کو ہمیشہ سختی کے ساتھ نظر بند رکھا در اصل وہ ان دونوں ائمہ معصومین(ع)کے معنوی رسوخ و نفوذ سے بہت خوفزدہ رہتا تھا کہ کہیں مسلمان ان مقدس ہستیوں کی معنویت سے متاثر نہ ہوجائیں۔
سن ۱۲۲ ہجری  میں زید بن علی(ع)کے قیام اور ہشام کے حکم سے اس کے کارندوں کے ذریعہ جناب زید کی شہادت (۲)سے ہشام اور اموی حکومت کے خلاف مسلمانوں کے غم و غصہ اور نفرت میں مزید اضافہ ہوگیا،اسی دوران خراسان کے لوگوں نے بھی بغاوت شروع کردی،یہ لوگ بنی امیہ کے مظالم بیان کرتے اور ان کی مذمت کرتے تھے۔(۳)
امام جعفر صادق(ع) کو جناب زید بن علی (ع)کی خبر شہادت سے بہت صدمہ پہنچا اور آپ جناب زید اور ان کے ہمراہ شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کی امداد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، ابو خالد واسطی کے قول کے مطابق امام جعفر صادق(ع) نے ایک ہزار دینار انہیں دیئے تاکہ وہ یہ دینار قیام زید کے دوران شہید ہونے والوں کے خانوادہ تک پہنچادیں۔(۴)
سن ۱۲۵ ہجری میں ہشام بن عبد الملک کی موت کے بعد بنی امیہ کی حکومت کے زوال کے آثار نمایاں  ہونے لگے تھے ،۱۲۵ ہجری سے ۱۳۲ ہجری،اموی حکومت کے خاتمہ تک، محض سات سال کی مدت میں چار حکمرانوں نے حکومت کی۔(۵)
اس دوران اموی حکموت کو اندر سے کمزور اور کھوکھلے ہونے کے علاوہ ابومسلم خراسانی کے قیام اور عباسیوں کی بغاوت کا بھی سامنا تھا آخر کار آخری اموی حاکم عباسیوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور اموی حکومت کا سیاہ باب بند ہوگیا۔(۶)
اموی حکومت کی کمزوری اور داخلی انتشار نے شیعوں کے لئے سازگار حالات فراہم کردیئے تھے اور امام جعفر صادق(ع) نے حقیقی اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ و ترویج کے لئے اس موقع سے بھرپور استفادہ کیا،امام جعفر صادق(ع) کی کل مدت امامت ۳۴؍ سال تھی (۱۱۴ ہجری  سے ۱۴۸ہجری) جس میں سے اٹھارہ سال (۱۱۴ہجری سے ۱۳۲ ہجری) اموی حکومت کے دور میں گذرے، اس دور میں خصوصاً آخری برسوں میں اموی حکومت کے پاس کوئی خاص سیاسی و سماجی اقتدار نہیں تھا اس سیاسی حالات کے نتیجہ میں علمی و ثقافتی فعالیت کے لئے حالات بہتر تھے چاہے وہ جد و جہد اور فعالیت نظام حکومت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو،امام جعفر صادق(ع) کے ذریعہ شیعی معارف کی ترویج اور نامور شاگردوں کی تربیت کے باعث مذہب شیعہ، مذہب جعفری کے نام سے مشہور ہوگیا۔
امام جعفر صادق(ع) سے احادیث نقل کرنے والے محدثین و رواۃ صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ دوسرے فرقوں اورمذاہب کے محدثین بھی آپ(ع) سے احادیث نقل کرتے تھے،ابن صباغ مالکی کہتے ہیں کہ:بہت سے بزرگان امت نے امام صادق(ع) سے احادیث نقل کی ہیں جن میں سے یحییٰ بن سعید،ابن جریح،مالک بن انس، سفیان ثوری، ابو عینیہ، ابو حنیفہ، ابو ایوب سجستانی وغیرہ ہیں۔(۷)مورخین کے مطابق امام جعفر  صادق(ع) کے کوثر علم و دانش سے سیراب ہونے والوں کی تعداد چار ہزار ہے۔(۸)پر بھی ملاحظہ فرمائیںعباسیوں کے عہد میں تاریخ شیعہ کے حالات سے بحث کے دوران مذہب شیعہ کی ترویج و استحکام میں امام جعفر صادقؑ کی اہمیت کے بارے میں مزید گفتگو کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ملاحظہ فرمائیں الفصول المهمة، ص۲۲۱،الارشاد،ص۱۵۷تا ۱۶۸تاریخ الشیعة،ص ۴۲ ،۴۳،اعیان الشیعة، ج۱،ص۶۵۰ تا۶۵۹، الاحتجاج،ج۲،ص۳۲۱۔۳۳۱۔
۲۔تاریخ یعقوبی، ج۲،ص ۲۵۵، تا۲۵۸۔
۳۔تاریخ یعقوبی،ج۲،ص ۲۵۵، تا۲۵۸۔
۴۔الارشاد، ج۲، ص۱۷۳۔
۵۔ان کے نام ولید بن یزیدبن عبد الملک، یزید بن ولید، ابراہیم بن ولید اور مروان بن مح ہیں   
۶۔الامامة والسیاسة ، ج۲، ص۱۱۰، تا۱۱۷، تاریخ الخلفاء ، ص۲۵۰، تا۲۵۵، الکامل فی التاریخ، ج۳، ص۴۳۸، تا۴۸۶۔
۷۔الفصول المهمة، ص۲۲۲۔
۸۔«ان اصحاب الحدیث قدا جمعوا اسماء الرواۃ عنه من الثقات ، علی اختلا فھم الآرای و المقالات، فکانوا اربعۃ آلاف رجل»، الارشاد، ج، ۲،ص۱۷۹، الامام الصادق و المذاهب الاربعة، ج۱، ص۶۷ـ


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24