Thursday - 2018 Oct. 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184016
Published : 31/10/2016 17:25

بنی عباس کے عہد میں شیعہ(۱)

علویوں پر ظلم و تشدد کے بارے میں ان خلفاء کی روش بھی منصور کی مانند تھی،عباسی حکام کے خوف و ہراس کے باعث ماحول میں ایسی گھٹن تھی کہ شیعہ امام موسیٰ کاظم(ع)کی احادیث نقل کرتے ہوئے آپ(ع)کا اسم گرامی کم ہی زبان پر لاتے تھے،نام کے بجائے زیادہ تر آپ(ع)کی کنیت ابوالحسن،ابو ابراہیم یا العبد الصالح، العالم جیسے القاب کا استعمال کرکے آپ(ع)سے حدیث نقل کرتے تھے۔


ولایت پورٹل:
ابو العباس سفاح۔(۱)کے اقتدار کے ساتھ سن ۱۳۲ ہجری میں عباسی حکومت کا آغاز ہوا، سن ۱۳۹ ہجری میں سفاح کی موت واقع ہوئی،اس کے دور حکومت کا زیادہ حصہ عباسی حکومت کے استحکام اور امویوں کے ساتھ جنگ میں گذرا۔(۲)
اسی بنا پر نیز اس لئے بھی کہ بنی امیہ کی مخالفت کے وقت عباسیوں کا نعرہ «خاندان اہل بیت(ع) کا بدلہ لینا»تھا عباسی حکمرانوں نے ابتدائی برسوں میں امام جعفر صادق(ع) اور شیعوں سے کوئی تعرض نہ کیا اس طرح امام جعفر صادق(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کے لئے فکری و مذہبی فعالیت کے لئے سیاسی حالات  سازگار تھے،بہ الفاظ دیگر جس طرح روبہ زوال اموی حکومت کے آخری دور میں جب اہل بیت پیغمبر(ص)اور شیعوں کے لئے حالات نسبتاً بہتر تھے وہی صورتحال عباسی حکومت کے پہلے مرحلہ یعنی ابو العباس کے دور حکومت میں تھی اور شیعوں نے بھی معارف اہلبیت(ع)یعنی حقیقی اسلام کی تبلیغ و ترویج میں سعی بلیغ انجام دی،علامہ سید محسن امین امام جعفر صادق(ع) کے ہاتھوں علوم و معارف کی بکثرت ترویج، آنحضرت(ص) سے نقل حدیث کرنے والے راویوں کی کثرت اور مختلف علوم اسلامی میں آپ(ع)کی شاگردوں کی کثیر تعداد کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں:«امام جعفر صادق(ع) کے ذریعہ علوم کی زیادہ نشر و اشاعت اور آپ(ع)کے علم و دانش کے چشمۂ کوثر سے فیضیاب ہونے والوں کی کثرت کا سبب یہ ہے کہ آپ بنی امیہ کے آخری اور بنی عباس کے ابتدائی دور میں زندگی بسر کررہے تھے،اس زمانہ میں بنی امیہ روبزوال تھے لہٰذا تقیہ یا خوف کا ماحول نہیں تھا اور بنی عباس اپنے ابتدائی دور میں خاندان ابوطالب سے کسی قسم کی عداوت یا حسد نہ رکھتے تھے اور چونکہ اپنی حکومت کو ہاشمی حکومت کہتے تھے اس لئے امام جعفر صادق(ع) جیسی شخصیت کو اپنا سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے»۔(۳)
امام جعفر صادق(ع) کے عہد میں سیاسی حالات الگ نوعیت کے تھے اور ان حالات میں علمی و ثقافتی تحریک چلانے میں کوئی خاص دشواری نہ تھی اس بات سے قطع نظر اس دور کی اسلامی دنیا کے سماجی اور فکری حالات بھی علمی گفتگو اور بحث و مذاکرہ کے متقاضی تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ عالم اسلام میں متعدد مذاہب اور مختلف فکری و دینی رجحان پائے جاتے تھے یہ مختلف رجحانات اسلامی علوم و معارف کی تمام قسموں (اعم از معقول و منقول )پر مشتمل تھے۔(۴)
منصور عباسی کے تخت نشین ہونے کے ساتھ ہی صورتحال تبدیل ہوگئی،منصور عباسی نے سن ۱۳۷ ہجری میں حکومت حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ عباسیوں کو اقتدار حاصل کرنے میں بہت مدد دینے والے ابو مسلم خراسانی کو قتل کردیا،منصور کی حکومت کا سلسلہ سن ۱۵۸ ہجری تک جاری رہا۔
مخالفین کے بارے میں اس کی سیاست قتل، ڈرانا،دھمکانا، قید و بند تھی اور اپنے مخالفین سے نپٹنے کے لئے وہ کسی بھی  طرح کے ظلم یا زیادتی سے دریغ نہ کرتا تھا،وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ چونکہ لوگوں کے بنی عباس کے«اہل بیت (ع)کا بدلہ»لینے کا پرفریب نعرہ کی حقیقت معلوم ہوگئی تھی اور یہ بات سبھی پر عیاں ہوگئی تھی کہ مسلمانوں پر حکومت کرنے کے علاوہ ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہے لہٰذا عباسی حکومت سے علویوں کی مخالفت سر ابھارنے لگی۔
بعض نے ایسی مخالفتوں کو کچلنے کے لئے مصائب و آلام، آزار و مشقت، قید و بند اور علویوں کے قتل کا سہارا لیا اور علویوں پر ظلم و تشدد اور قلبی شقاوت میں بنی امیہ سے آگے نکل گئے،منصور علویوں پر بڑا بے رحمانہ سلوک کرتا تھا بہت سے لوگوں کے نہایت برے حالات میں قید خانہ میں ڈال دیا ایسے قید خانہ جن میں دن اور رات کا وقت بھی معلوم نہ ہوپاتاتھا،قیدی قرآن پڑھ کر اوقات نماز طے کرتے اگر قید خانہ میں کسی کی موت واقع ہوجاتی تو اس کی لاش قید خانہ میں ہی چھوڑ دی جاتی تاکہ فضا میں تعفن پھیل جائے اور قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر دینا سے رخصت ہوجائیں کبھی قیدیوں پر قید خانہ منہدم کرنے کا حکم دے دیا جاتا اور قیدی اسی کے ملبہ میں دب کر شہید ہوجاتے۔(۵)
منصور کے زمانہ میں عبد اللہ بن الحسن کے فرزندوں میں سے محمد اور ابراہیم نے اس کی ظالمانہ حکومت کے خلاف قیام کیا لیکن ایثار و شجاعت سے لبریز زبردست جنگ کے بعد منصور کے عمال کے ہاتھوں شہید ہوئے (۶)منصور امام جعفرصادق(ع) کی بھی شدید نگرانی کرتا تھا اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد دربار میں طلب کرتا اور قتل کا ارادہ کرتاتھا لیکن ہر مرتبہ خدا کی عنایت خاص کے باعث معجزاتی طور پر امام (ع)منصور کے شر سے نجات حاصل کرلیتے آخر کار منصور نے زہر کے ذریعہ آپ(ع)کو شہید کردیا۔(۷)
امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد آپ(ع)کی جانشینی کے مسئلہ پر شیعوں میں اختلاف ہوگیا اور اس اختلاف کے نتیجہ میں متعدد فرقے وجود میں آگئے جن میں سے ایک اسماعیلیہ فرقہ بھی تھا۔(۸)لیکن اثنا عشری شیعوں نے عقلی دلائل اور روایات کی بناء پر امام موسیٰ کاظم(ع) کی امامت کو تسلیم کیا،اس سلسلہ میں شیخ مفید فرماتے ہیں:«ابو عبد اللہ کے بعد امام آپ(ع) کے فرزندعبد صالح ابو الحسن موسیٰ ابن جعفر تھے کیونکہ آپ(ع)کی ذات میں امامت کے لئے لازمی فضائل و کمالات بھی تھے اور آپ(ع)کے پدر بزرگوار نے آپ(ع) ہی کو امام معین فرمایا تھا»۔(۹)
امام موسیٰ کاظم(ع) کی مدت امامت پینتیس سال تھی(سن ۱۴۸ ہجری سے ۱۸۳ ہجری تک)اس دوران آپ(ع) کا سابقہ چار عباسی خلفاء منصور،مہدی،ہادی، ہارون الرشیدسے رہا۔
علویوں پر ظلم و تشدد کے بارے میں ان خلفاء کی روش بھی منصور کی مانند تھی،عباسی حکام کے خوف و ہراس کے باعث ماحول میں ایسی گھٹن تھی کہ شیعہ امام موسیٰ کاظم(ع)کی احادیث نقل کرتے ہوئے آپ(ع)کا اسم گرامی کم ہی زبان پر لاتے تھے،نام کے بجائے زیادہ تر آپ(ع)کی کنیت ابوالحسن،ابو ابراہیم یا العبد الصالح، العالم جیسے القاب کا استعمال کرکے آپ(ع)سے حدیث نقل کرتے تھے،ہارون الرشید نے اپنے عہد میں آپ(ع)کو قید خانہ میں ڈال دیا اور مسلسل ایک قیدخانہ سے دوسرے قید خانہ میں منتقل کرتا رہتا تھا یہاں تک کہ سن ۱۸۳ ہجری میں سندی بن شاہک کے ہاتھوں قید خانۂ بغداد میں شہادت پائی،امام موسیٰ کاظم(ع) کی عالم غربت میں مظلومانہ شہادت نے بغداد کے شیعوں کے لئے ہارون الرشید کی حکومت کے خلاف غم و غصہ اور اظہار نفرت کا موقع فراہم کردیا۔(۱۰)
اگرچہ امام موسیٰ کاظم(ع)کے عہد میں عباسی حکمراں اپنے مخالفین خصوصاً علویوں کے ساتھ ظلم و تشدد اور جبر و استبداد کا رویہ رکھتے تھے اس کے باوجود مختلف دینی فرقوں اور مذاہب نیز مختلف فکری و عقائدی رجحانات کے باعث حکومت فکری و ثقافتی سرگرمیوں اور تحریکوں کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرسکتی تھی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق سینسر کرسکتی تھی،اس لئے امام موسیٰ کاظم(ع) تمام تر مشکلات کے باوجود امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع) کے ہاتھوں آغاز اور ارتقائی منزلیں طے کرنے والی فکری و ثقافتی تحریک کو جاری رکھنے میں کامیاب رہے آپ(ع) نے عظیم المرتبت شاگردوں کی تربیت کی بہت سے راویوں نے آپ سے کثیر روایات نقل کیں،شیخ طوسی نے اپنی کتاب رجال میں امام موسیٰ کاظم(ع) سے روایات نقل کرنے والے راویوں کا تذکرہ  کیا ہے،شیخ طوسی کے قول کے مطابق ان راویوں کی تعداد ۲۶۲ہے۔(۱۱)لیکن بعض مصنفین کی تحقیقات کے مطابق آپ(ع) سے روایت نقل کرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے اور اس تحقیق کے مطابق امام موسیٰ کاظم(ع) سے احادیث نقل کرنے والوں کی تعداد ۶۳۸ہے۔(۱۲)امام موسیٰ کاظم(ع) کی شہادت کے بعد شیعوں کا ایک گروہ آپ(ع) کی شہادت اور آپ(ع)کے بعد امامت کے بارے میں اشتباہ و انحراف کا شکار ہوگیا،کچھ کا گمان تھا کہ آپ(ع) ہی مہدی موعود ہیں،بعض نے آپ(ع)کی موت اور شہادت کا ہی انکار کردیا کچھ نے شہادت کا اعتراف تو کیا لیکن اس بات کے معتقد ہوگئے کہ آپ(ع) دوبارہ تشریف لائیں گے اور دنیا کو مکمل طریقہ سے عدل و انصاف سے بھر دیں گے اس گروہ کو«واقفیہ»کہا جاتا ہے یعنی امام موسیٰ کاظم(ع) کی امامت کے باب میں توقف کرنے والے،یہ لوگھ آپ(ع) کے بعد آپ(ع)کی نسل میں سلسلۂ امامت جاری رہنے کے قائل نہیں تھے لیکن شیعوں کی اکثریت امام علی ابن موسیٰ الرضا(ع) کی امامت ہی کی قائل ہوئی اور انہیں«قطعیہ»کہا جانے لگا یعنی وہ لوگ جو امام علی رضا(ع)کی امامت کا قطعی یقین رکھتے ہیں۔(۱۳)امام موسیٰ کاظم(ع)کی شہادت سے امام علی رضا(ع) کی امامت کا آغاز ہوا اور سن ۲۰۳ ہجری میں آپ(ع) کی شہادت تک جاری رہا۔(۱۴) آپ(ع)کی مدت امامت بیس سال تھی آپ(ع) کے دور میں ہارون الرشید، محمد امین،اور عبد اللہ مامونعباسی خلفاء ہوئے ۔(۱۵)
امام رضا(ع) کے دور امامت خصوصاً مامون الرشید کے عہد خلافت میں عالم اسلام کے اندر ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہوں نے شیعیت کی تاریخ کو کافی حد تک متاثر کیا،اس دوران ایک جانب تو منطق، فلسفہ،نجوم، طب اور دیگر علمی شعبوں کی یونانی وغیریونانی کتب کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا جس سے اسلامی دنیا کی سماجی اور ثقافتی فضا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور علمی و مذہبی بحث و گفتگو اور مناظرہ کے مواقع پیدا ہوئے ظاہر سی بات ہے کہ ایسے حالات میں ظالم و جابر حکومتیں بھی معاشرہ پر زیادہ دباؤ یا سختی کا مظاہرہ نہیں کرسکتیں۔
غیر اسلامی کتب کا عربی زبان میں ترجمہ اگرچہ عباسی عہد کے قبل سے تعلق رکھتا ہے اور مورخین کے قول کے مطابق پہلی مرتبہ یہ کام خالد بن یزید بن معاویہ کے دور میں انجام پایا جسے حکیم آل مروان کہا جاتا تھا۔(۱۶)لیکن امویوں کے دور میں اس مسئلہ کی جانب اموی حکمرانوں نے کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا اس کے برخلاف عباسی عہد میں عباسی حکمرانوں نے خوب توجہ دی،پہلے منصور کے عہد میں علم طب، علم نجوم کی کتب کا عربی میں ترجمہ ہوا،ہارون نے مزید توجہ کی اور آخر کار مامون کے عہد میں اس کام کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔
دوسری جانب مامون کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ علویوں کے ساتھ سابقہ حکمرانوں کی روش کا جاری رہنا عباسی حکومت کے حق میں مفید نہیں ہے اس لئے کہ علویوں کا مقام ومرتبہ خصوصاً اہل بیت(ع) اطہار کی عظمت و رفعت سب پر آشکار ہوچکی تھی ایسے حالات میں تشدد آمیز برتاؤ سے عباسی حکومت کے خلاف عمومی غصہ اورنفرت کا خطرہ تھا اسی لئے وہ علویوں کی سب سے بلند مرتبہ شخصیت امام رضا علیہ السلام سے دوستی اور محبت کا اظہار کیا کرتا تھا یہاں تک کہ خلافت ظاہری کی بھی پیش کش کی،چونکہ امام(ع) اس کے قصد و ارادہ اور سازش سے بخوبی آگاہ تھے  اس لئے آپ(ع)نے اس کی پیش کش مستردکردی لیکن آخر کار مامون کے شدید اصرار پر مخصوص شرائط کے ساتھ ولی عہدی کو قبول کرلیا ،ان شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ تھی کہ حکومتی معاملات میں امام (ع) کا کوئی دخل نہ ہوگا۔(۱۷)
ولی عہدی قبول کرلینے کے بعد شیعوں اور علویوں کو عباسی حکومت کے مظالم اور سختیوں سے نجات مل گئی دوسری جانب امام رضاؑ اور دیگر ادیان و مذاہب کے علماء کے درمیان بحث و گفتگو اور مناظرہ سے لوگوں کے سامنے حقائق اوربھی واضح ہوگئے اور اس طرح شیعی عقائد اور افکار و نظریات ترویج پاتے رہے۔
بعض مصنفین کے مطابق اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مامون اگرچہ حکومت کا دلدادہ  تھا اور حصول اقتدار کے لئے اس نے اپنے بھائی امین کو بھی قتل کردیاتھا اور آخر میں امام رضا(ع) کو بھی شہید کیا لیکن تاریخی شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مامون ایک علم دوست شخص اور تشیع کی جانب مائل تھا،اس نے نہ صرف یہ کہ امام رضا(ع) اور دیگر شیعوں کے سامنے تشیع کا اظہار کیا بلکہ معاصر دانشوروں کے ساتھ امیر المؤمنین کی امامت کے بارے میں بحث و گفتگو کی ہے اور انہیں شکست بھی دی۔(۱۸)
امام رضا(ع) کے عہد میں سماجی و سیاسی لحاظ سے شیعوں کے حالات اطمینان بخش تھے جس کی خاص وجہ یہ تھی کہ مامون تشیع اور شیعہ نوازی کا مظاہرہ کرتا تھا اور علم کلام کے علماء کو دعوت دیتا تھا کہ اس کے دربار میں خلافت امیر المؤمنین(ع) سے متعلق بحث و مباحثہ اور مناظرہ ہوتے، مامون یقین اور واضح ادلہ کے ذریعہ مخالفین ولایت امیر المومنین(ع)کے دعوے غلط ثابت کرتا تھا لیکن امام رضا(ع) کو شہید کرنے کے بعد مامون نے یہ سلسلہ مکمل طور پر ختم کردیا۔(۱۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ابو العباس،عبد اللہ بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس،چونکہ وہ اپنے مخالفین کے قتل کا بہت جلد فیصلہ لیا کرتا تھا اور حکومت کرنے نیز حکومت کے استحکام کے لئے اس نے بہت سے امویوں کا خون بہایا اس لئے اس کا لقب«سفاح»ہوگیا۔
۲۔سفاح کی حکومت کے دوران پیش آنے والے واقعات سے واقفیت کے لئے تاریخ طبری، ج۵، ص۱۲۳، ص۱۴۵، تاریخ ابن اثیر ج، ۳، ص۴۸۳، ص۵۲۰، تاریخ یعقوبی ج۳،۲۷۸، ص۳۹۸، تاریخ الخلفاء ص۲۵۶، ص۳۵۹، الامامة والسیاسة ، ج۲، ص۱۱۸، ۱۳۳ پر ملاحظہ فرمائیں۔
۳۔اعیان الشیعة، ج۱،ص۶۶۴۔
۴۔استاد شہید مطہری کی کتاب«سیری در سیرۂ ائمۂ اطہار»ص۱۴۲، ص۱۴۷ ملاحظہ فرمائیں۔
۵۔الامام الصادق و المذاهب الاربعة، ج۲، ص۴۷۵۔
۶۔تاریخ ابن اثیر ج۳، ص۵۶۳، ص۵۹۰۔
۷۔الفصول المهمة ،ص۲۲۲تا۲۳۰، الامام الصادق و المذاهب الاربعة، ج۲،۱، ص۴۷۱، ص۴۷۴، تاریخ الشیعة، ص۴۵، ۴۶
۸۔امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد اسماعیلیہ اور دیگر فرقوں کے وجود میں آنے سے متعلق تفصیلات کے لئے«فرق و مذاہب کلامی ، ص۶۵، ۷۰اور فرق الشیعة، ص۷۸یا ۸۹»ملاحظہ فرمائیں۔
۹۔الارشاد، ج۲، ص۲۱۵۔
۱۰۔تاریخ الشیعة، ص۴۸، اعیان الشیعة ج۲، ص۱۱، ۱۲ـ
۱۱۔رجال شیخ طوسی،اصحاب امام کاظم(ع)۔
۱۲۔سند الامام الکاظم(ع)،شیخ عزیز اللہ عطاردی، بحوث فی الملل و النحل، ج ۶، ص۴۸۹۔
۱۳۔فرق الشیعة، ص۹۰تا ۹۱ـ
۱۴۔امام علی رضا(ع) کی ولادت سن ۱۴۸ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور سن ۲۰۳ ہجری میں طوس کے مقام پر شہادت پائی ،ارشاد مفید،ج۲،ص۲۴۷۔
۱۵۔امام رضا(ع) کی امامت کے دس سال ہارون الرشید، پانچ سال محمد امین اور پانچ سال عبد اللہ مامون کے عہد میں گذر ے۔
۱۶۔فہرست ابن ندیم ص۳۳۸، تاریخ تمدن اسلامی، جرجی زیدان، ج۳،ص۵۵۲
۱۷۔مسئلہ ولی عہدی امام رضا(ع) کے تجزیہ کے لئے«سیری در سیرۂ ائمہ اطہار ،ص۱۹۴تا ۲۴۳،اور اعیان الشیعة ج۲، ص ۱۶، ۱۷ ملاحظہ فرمائیں ـ
۱۸۔سیری در سیرۃ ائمہ اطہار(ع)،ص ۲۰۱ تا ۲۰۲ ۔
۱۹۔تاریخ الشیعة،ج۱، ص۵۴، اعیان الشیعة ، ج۲ ص ۱۵، ۱۶بھی ملاحظہ فرمائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Oct. 18