Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184017
Published : 31/10/2016 18:22

سن ۶۱ میں سرکردہ لوگوں کی بے جا خاموشی کے متعلق رہبر انقلاب کا تبصرہ:

واقعہ عاشورا میں خوف،بہت سے بزرگوں کے گریز کا عامل تھا

جو افراد راستے میں حضرت امام حسین(ع) سے ملحق ہوئے تھے ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تک ملتی ہے،لیکن جب انہوں نے ملاحظہ کیا کہ کام کتنا مشکل ہے تو صرف ۷۲ جیالے ہی حسین(ع) کے ساتھ آخری دم تک رہے۔


ولایت پورٹل:
تاریخ میں یہ ایک عجیب عبرت ہے،جب بزرگ لوگ خوف کھاتے ہوں اور دشمن اپنا بہت ہی سخت اور بے رحم چہرہ دکھاتا ہو اور جہاں سبھی لوگ یہ خیال کرتے ہوں کہ اگر میدان میں اتریں گے تو اکیلا پن انہیں اپنی گرفت اور نرغہ میں لے لے گا،وہاں پر اور اس موقع پر آدمی کی اصلیت اور اس کے باطن کا جوہرکھل کر سامنے آتا ہے،اس وقت کے پورے عالم اسلام میں (جو کہ ایک بہت بڑی دنیا تھی اور بہت سی اسلامی مملکتیں جوکہ آج بطور مستقبل اور علیٰحدہ زندگی گزار رہی ہیں،ان دنوں میں ایک ملک ہوتی تھیں) کہ جس کی آبادی بہت زیادہ تھی، اس وقت اگر کسی نے دشمن کے خلاف اور اس کے مقابلہ کے لئے اٹھنے کی ہمت دکھائی اور عزم بالجزم کیا تو وہ حسین بن علی علیہ السلام تھے۔
ظاہر سی بات ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام جیسا کوئی اٹھ کھڑا ہوتو لوگوں کی ایک تعداد ان کے ہمراہ ہوگی اور ہوا بھی ایسا ہی،لیکن جب انہیں بھی یہ پتہ چلا کہ کام کتنا مشکل ہے اور اس میں شدت عمل پائی جاتی ہے تو وہ لوگ بھی ایک ایک کرکے حضرت(ع) کے پاس سے چلے گئے اور حضرت(ع) کے ساتھ شامل ایک ہزار کچھ لوگوں میں سے جو حضرت(ع) کے مکہ سے روانہ ہوتے وقت یا راستہ کے درمیان ملحق ہوئے تھے،عاشور کی شب ان کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی یہ تعداد عاشور کے دن مجموعی طور پر بہتر افراد تک سمٹ گئی۔
    
 
 
 
 
 
    
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25