Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184018
Published : 31/10/2016 18:47

دربار شام میں امام سجاد (ع) کا تاریخی خطبہ(۳)

اے لوگوں! میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے دامن سے اٹھاکر اپنے مقام پر نصب کیا، میں بہترینِ عالم کا بیٹا ہوں، میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں،میں اس کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے ایک ہی شب میں مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی۔


ولایت پورٹل:
اس سلسلے کی سابق کڑیوں سےآشنائی کے لئےنیچے لنک پر کلک کیجئے!

دربار شام میں امام سجاد (ع) کا تاریخی خطبہ(۱)
دربار شام میں امام سجاد (ع) کا تاریخی خطبہ(۲)
یزید امام (ع) کے رسوا کردینے والے کلام سے خوفزدہ تھا چنانچہ اس نے اجازت نہیں دی،مگر یزید کے بیٹے معاویہ نے اپنے باپ سے کہا:اس مرد کا خطبہ کتنا مؤثر ہوگا! کہنے دو جو وہ کہنا چاہتا ہے!
یزید نے جواب دیا: تم اس خاندان کی صلاحیتوں سے بےخبر ہو انہیں علم و فصاحت ایک دوسرے سے ورثے میں ملتی ہے، مجھے خوف ہے کہ کہیں اس کا خطبہ شہر میں فتنہ انگیزی کا سبب بن جائے اور ہمارا  گریبان بھی پکڑ لیا جائے۔
تاہم عوام نے بھی اصرار کیا کہ امام سجاد (ع) کو منبر پر جانے دیا جائے۔
یزید نے کہا: وہ منبر پر بیٹھے گا تو نیچے نہیں اترے گا جب تک مجھے اور خاندان ابوسفیان کو رسوا نہ کردے۔
آخر کار شامیوں کے اصرار پر یزید نے اتفاق کیا کہ امام (ع) منبر پر رونق افروز ہوں-
آپ (ع) نے منبر پر بیٹھ کر ایسا خطبہ دیا کہ کہ لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہوئیں اور ان کے قلب خوف و وحشت سے بھر گئے۔
امام سجاد (علیہ السلام) نے فرمایا:« اے لوگو! خداوند متعال نے ہم خاندان رسول (ص) کو چھ خصلتوں سے نوازا اور سات خصوصیات کی بنا پر ہمیں دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی، ہماری چھ خصلتیں: علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت اور شجاعت، اور مؤمنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں اور ہمیں تمام بشریت پر سات(۷) خصوصیات عطا فرمائیں، خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد (ص)، صدیق اکبر (امیرالمؤمنین علی) جعفر طیار، شیر خدا اور شیر رسول خدا حمزہ سیدالشہداء، اس امت کے دو سبط حسن و حسین (ع)، زہرائے بتول اور مہدی امت (علیہم السلام) ہم سے ہیں۔
اے لوگوں! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کرواکر اپنا تعارف کراتا ہوں۔
اے لوگوں! میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے دامن سے اٹھاکر اپنے مقام پر نصب کیا، میں بہترینِ عالم کا بیٹا ہوں، میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں،میں اس کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے ایک ہی شب میں مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی، میں اس کا بیٹا ہوں جس کو جیرائیل سدرۃالمنتہی تک لے گیا، میں اس کا بیٹا ہوں جو زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ دو کمان یا اس سے  بھی فاصلے پر تھے،میں اس کا بیٹا ہوں جس نے آسمان کے فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی،میں اس رسول (ص) کا بیٹا ہوں جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی، میں محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور علی مرتضی (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ بحار الانوار، ج ۴۵،ص ۱۳۹-
tebyan



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25