Tuesday - 2018 June 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184031
Published : 1/11/2016 17:0

مولانا سید آغا الہ آبادی

مولانا سید آغا نے شہر لکھنؤ کے نامور اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طئے کئے،لہذا ملاذ العلماء سید بچھن صاحب قبلہ کی نظر میں مولانا سید آغا کا ایک خاص مقام تھا۔

ولایت پورٹل:
مولانا سید آغا ایک عالم،فاضل،خطیب،مؤلف،پرہیزگار شخص تھے،ان کی ولادت ۱۲۵۰ ہجری مطابق ۱۸۳۴ عیسوی کو ہندوستان کے مشہور شہر الہ آباد میں ہوئی،ان کے والد ماجد کا نام نامی سید زین العابدین الہ آبادی تھا،انہوں نے شہر لکھنؤ کے نامور اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طئے کئے،لہذا ملاذ العلماء سید بچھن صاحب قبلہ کی نظر میں مولانا سید آغا کا ایک خاص مقام تھا۔
سن ۱۸۸۸ عیسوی میں ہر طرف مولانا کی شہرت کا ڈنکا تھا چونکہ سن ۱۸۸۷ عیسوی میں انہوں نے اپنی ہی زمین میں ایک مسجد کو تعمیر کیا جس کی محراب میں ایک کتیبہ نصب کیا گیا کہ جس پر «لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ علي ولي اللہ و وصي رسول اللہ و خلیفته بلا فصل»، تحریر تھا اور بعینہ یہی عبارت گلدستہ اذان سے دہرائی جاتی تھی،لہذا ایک شخص مولوی محمد جو سنی المذہب تھا،اس نے عدالت میں یہ دعوی دائر کیا کہ مسجد سے وہ کتیبہ ہٹایا جائے اور اذان سے بھی یہ عبارت حذف کی جائے چونکہ یہ عامہ مسلمین کے عقیدے کے خلاف ہے اور اس کے سبب اہل سنت کو عقیدتی اذیت پہونچتی ہے،اس کیس کے سبب پورے علاقے میں شیعوں کے اندر ایک ہراس تھا کہ اب عدالت کیا فیصلہ سناتی ہے لیکن مولانا سید آغا کی فراست کے سبب یہ مسئلہ نہایت آسان ہوگیا اس طرح کہ آپ نے عدالت میں کسی وکیل سے اپنا مقدمہ نہ لڑواکر خود پیروی کی،مولانا کے ٹھوس استدلال اور دلائل سن کر جج اور تمام حاضرین محو حیرت رہ گئے جس کے نتیجے میں جج کو خود مدعی کے خلاف فیصلہ سنانا پڑا اور مزید جرمانہ بھی عائد کیا۔
آپ کے قلمی آثار:
مولانا سید آغا نے اپنی زندگی کی تمام مشغولیت کے باوجود ۳ معرکۃ الآراء تصانیف یادگار چھوڑیں:
۱۔ الحقیقة و الخلافة( یہ عظیم کتاب خود اسی دور میں کئی مرتبہ شایع ہوئی اور اس کے سبب بہت سے اہل سنت،حلقہ بگوش مذہب حقہ ہوئے)۔
۲۔تقرہر اللیلتین( مناظرہ کی ایک عظیم کتاب ہے جو مولانا کی حیات ہی میں شایع ہوئی)۔
۳۔اساس الایمان۔
وفات:
مولانا سید آغا نے دن اور رات اپنی پوری زندگی مذہب حقہ کی نشر و اشاعت اور تبلیغ میں صرف کی آخرکار ۴ شوال سن ۱۳۲۱ ہجری مطابق ۱۹۰۳ عیسوی کو علم و عمل کا یہ چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوگیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے نقوش آج بھی اہل معرفت کے لئے مشعل راہ ہیں۔
منبع:مطلع انواراحوال دانشوران شیعہ پاکستان و ہند 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 June 19