Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184032
Published : 1/11/2016 17:27

حضرت زینب کبری(س) کی عظیم شخصیت کے متعلق رہبر انقلاب کا تبصرہ:

حضرت زینب کبریٰ (س) کی بے مثال جرأت و شجاعت

ایسا نہیں ہے کہ بی بی(س) راستہ کی سختیوں کو نہیں جانتی تھیں بلکہ آپ(س) دوسروں سے بہتر جانتی تھیں، آپ ایک خاتون ہیں، ایسی خاتون جوایک فرض کو ادا کرنے کے لئے اپنے شوہر اور خاندان سے جدا ہوئی ہے،اسی وجہ سے آپ(ع) اپنے چھوٹے اور کم سن بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئیں،آپ کو حادثہ کی نوعیت کا علم تھا۔

ولایت پورٹل:
زینب کبریٰ ایک عظیم الشان خاتون ہیں، اسلامی فِرَق ومذاہب کی نظر میں اس خاتون کی کیا عظمت ہے؟ اسے اس طرح بیان نہیں کیا جاسکتاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زینب(س)، علی بن ابی طالب(ع) کی بیٹی اور حسین ابن علی(ع) و حسن بن علی(ع) کی بہن ہیں،نسبتیں ایسی عظمت پیدا نہیں کرسکتیں،ہمارے دوسرے ائمہ(ع) کی بھی بیٹیاں، مائیں اور بہنیں ہیں لیکن ان میں سے کیا کوئی بھی زینب کبریٰ(س) جیسی بی بی ہے؟ جناب زینب(س) کی عظمت و اہمیت اورقدر و قیمت،آپ(س) کی الٰہی ذمہ داری کی بنیاد پر نیز آپ(س) کے موقف اور آپ کی انسانی و اسلامی عظیم تحریک کی وجہ سے ہے،آپ(س) کے کام، آپ(س) کے ارادہ اور آپ(س) کی تحریک کی نوعیت نے آپ(س) کو عظمت سے نوازا ہے، جو بھی اتنا عظیم کام کرے گا وہ عظمت پائے گا خواہ وہ امیرالمؤمنین(ع) کی بیٹی نہ بھی ہو،اس عظمت کابڑا راز یہ ہے کہ پہلے تو ان بی بی نے اپنے امام کے موقف کو پہچانا،امام حسین(ع) کے کربلا پہونچنے سے پہلے کے موقف کو بھی اور کربلا میں روزعاشورا کے موقف کو بھی اور شہادت امام حسین(ع) کے بعد کے جان لیوا حوادث میں بھی زینب علیا مقام(س) نے آپ(ع) کے موقف کی معرفت حاصل کی،دوسرے، انہوں نے ہر موقع پر ایک کا انتخاب کیا، ان انتخابوں نے ہی زینب(س) کی شخصیت بنائی ہے۔
کربلا جانے سے پہلے، عبداللہ ابن عباس اورعبداللہ ابن جعفر (طیار) اور صدرِ اسلام کی وہ نمایاں شخصیتیں کہ جنہیں فقاہت، شہامت، ریاست اور پدرم سلطان بود کا دعویٰ تھا ششدر رہ گئیں اور ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کریں لیکن جناب زینب(س) شش و پنج میں مبتلا نہیں ہوئیں اور یہ طے کرلیا کہ مجھے اس راستہ پر جانا چاہئے اور میں اپنے امام کو تنہا نہیں جانے دوں گی،ایسا نہیں ہے کہ بی بی(س) راستہ کی سختیوں کو نہیں جانتی تھیں بلکہ آپ(س) دوسروں سے بہتر جانتی تھیں، آپ ایک خاتون ہیں، ایسی خاتون جوایک فرض کو ادا کرنے کے لئے اپنے شوہر اور خاندان سے جدا ہوئی ہے،اسی وجہ سے آپ(ع) اپنے چھوٹے اور کم سن بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئیں،آپ کو حادثہ کی نوعیت کا علم تھا،ان بحرانی حالات میں جن میں طاقتور و قوی انسان بھی یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ کیا کرے،ان میں زینب(ع) نے فیصلہ کیا اور اپنے امام کی پشت پناہی کی اور انہیں شہادت کے لئے تیار کیا، حسین بن علی(ع) کی شہادت کے بعد بھی جب دنیا اندھیر ہوگئی تھی، دل و جان اور دنیا کے آفاق تاریک ہوگئے تھے اس وقت یہ عظیم خاتون ایک نور بن کر درخشاں ہوئیں، بی بی زینب(ع) اس مرتبہ پر پہنچیں جہاں دنیائے بشریت کے عظیم انسان(انبیاء و اوصیاء)ہی پہنچتے ہیں۔
(۱۳ نومبر سن ۱۹۹۱ عیسوی)


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25