Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184035
Published : 1/11/2016 19:9

بنی عباس کے عہد میں شیعہ(۲)

متوکل عباسی کے اقتدار میں آتے ہی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی،اس کے دور میں اہل بیت اطہار(ع) اور شیعوں پر شدائد و مصائب،ظلم و تشدد اور عداوت میں شدت آگئی،قلبی عداوت اور بغض و کینہ کی انتہا یہ ہوئی کہ اس نے قبر امام حسین(ع)کا نشان تک مٹانے کا حکم صادر کردیا اور زیارت پر پابندی عائد کردی گئی۔

ولایت پورٹل:اس کی پہلی کڑی کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بنی عباس کے عہد میں شیعہ(۱)

امام رضا(ع) کی شہادت کے بعد آپ(ع)کے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے،سن ۱۹۵ ہجری میں آپ(ع) کی ولادت باسعادت ہوئی اور پچیس برس کے سن میں ۲۲۰ ہجری میں شہادت پائی، آپ(ع) کے زمانہ میں مامون اور معتصم دو عباسی خلفاء ہوئے، مامون سن  ۲۱۸  ہجری میں دنیا سے رخصت ہوا اس طرح امام محمد تقی علیہ السلام کی امامت کے پندرہ سال مامون کی حکمرانی کے دور میں گذرے، مامون نے امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ بھی وہی رویہ جاری رکھا جو آپ(ع) کے پدر بزرگوار کے ساتھ رکھتا تھا،امام(ع)کو مدینہ سے بغداد بلایا آپ(ع)کے احترام کا بہت قائل تھا اپنی بیٹی ام الفضل کو آپ(ع) کی زوجیت میں دے دیا،چونکہ عباسی اس عقد کے خلاف تھے لہٰذا مامون نے نامور علماء کو دعوت دے کر ایک علمی نشست کا اہتمام کیا اور طے پایا کہ یحیٰ بن اکثم جو اس دور کا سب سے بڑا عالم تھا امام (ع)سے سخت ترین علمی مسائل دریافت کرے تاکہ امام(ع)کا فضل و کمال ان پر عیاں ہوجائے،چنانچہ علمی مجلس آراستہ ہوئی یحیٰ بن اکثم نے سوال کیا،جواب کی وضاحت کے لئے امام(ع) نے یحیٰ سے سوال کی تفصیلات دریافت کیں تو یحیٰ مبہوت رہ گیا اور سب پر امام(ع) کی علمی برتری واضح ہوگئی۔(۱)تھوڑے عرصہ کے بعد امام مدینہ تشریف لے آئے اور سن  ۲۱۸ہجری میں معتصم عباسی کے بر سر اقتدار آنے تک آپ(ع)مدینہ میں ہی قیام فرمارہے، جب معتصم نے اقتدار حاصل کیا تو دوبارہ امام(ع) کو مدینہ سے بغداد طلب کرلیا اور آخر کار آپ(ع)کی زوجہ ام الفضل کے ذریعہ زہر دلاکر آپ(ع)کو شہید کردیا،معتصم شیعوں کو امام کی تشییع جنازہ سے روکنا چاہتا تھا لیکن شیعوں کی بڑی تعداد گلے میں تلواریں حمائل کرکے آگئی اور انہوں نے امام کی تشییع کی اور جسد پاک کو سپرد خاک کردیا۔(۲)
اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بغداد میں شیعوں کی تعداد کافی تھی دوسری جانب سیاسی و سماجی حالات بھی ایسے نہ تھے کہ عباسی خلیفہ طاقت و قوت کا مظاہرہ کرتا، اسی طرح امام جواد(ع) سے متعدد مواقع پر مختلف دینی مسائل کی کثرت سے بھی اس حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بھی شیعوں کے لئے حالات سماجی و سیاسی لحاظ سے کافی حد تک پر سکون تھے۔
معتصم کی حکومت کا سلسلہ  ۲۲۷  ہجری تک جاری رہا اس کے بعد اس کا بیٹا الواثق باللہ حاکم ہوا۔
سن ۲۳۲ ہجری میں واثق باللہ کی موت کے بعد زمام حکومت متوکل کے ہاتھوں میں آگئی،معتصم اور واثق کے دور میں شیعوں کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی کوئی اہم واقعہ پیش آیا اور وہ دونوں مامون کی روش پر ہی قائم رہے،بعض مورخین کی تحریروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واثق عوام خصوصاً ہاشمیوں کے ساتھ نسبتاً مناسب رویہ رکھتا تھا اس نے بہت سے اموال لوگوں کے درمیان تقسیم کئے۔(۳)
مذہبی فکر کے لحاظ سے واثق معتزلی نظریہ سے متاثر تھا،احمد بن ابی داؤد معتزلی قاضی القضاۃ کا حکومت میں اثر و رسوخ بہت زیادہ تھا،مامون کے عہد میں علم کلام کا ایک مسئلہ «قرآن کا قدیم یا حادث ہونا»،زیر غور تھا اور بحث اپنے عروج پر تھی،معتزلہ پوری شدت کے ساتھ قرآن کے حادث ہونے کے قائل تھے جب کہ اہل حدیث اور حنبلی قرآن کے حادث اور مخلوق ہونے کو قطعاً باطل گردانتے تھے، اس مسئلہ پر  دونوں گروہوں کے درمیان شدید مباحثے اور جھڑپیں ہوئیں،واثق کے دور میں حکومتی اہلکار اس مسئلہ پر لوگوں کے نظریہ کے بارے میں تفتیش کرتے اور حکومتی و مذہبی عہدے صرف انہیں افراد کے حوالے کئے جاتے جو کلام الٰہی کو حادث مانتے ہوں،اسی لئے اس دور کو «دورۂ محنت(یعنی سختی کا دور)» کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید اور کلام الٰہی کے حادث ہونے کا نظریہ اگرچہ صحیح اور ائمہ اہل بیت(ع) کے نظریہ کے موافق ہے لیکن چونکہ اس مسئلہ کو سیاسی نوعیت حاصل ہوگئی تھی اور عباسی حکام نیز معتزلی متکلمین نے اسے سیاسی و سماجی اہداف حاصل کرنے کا وسیلہ بنا رکھا تھا اس لئے ائمہ اہلبیت(ع) اس بحث سے پرہیز کرتے تھے باوجود اس کے مناسب حالات میں کلام خدا کے حادث ہونے کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتے رہتے تھے۔
مجموعی طور پر مامون، معتصم اور واثق کے دور میں شیعوں کے لئے سابقہ اور بعد کے ادوار سے بہتر سیاسی و سماجی حالات تھے اور ان پر سختی اور دباؤ کم تھا لیکن متوکل عباسی کے اقتدار میں آتے ہی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی،اس کے دور میں اہل بیت اطہار(ع) اور شیعوں پر شدائد و مصائب،ظلم و تشدد اور عداوت میں شدت آگئی،قلبی عداوت اور بغض و کینہ کی انتہا یہ ہوئی کہ اس نے قبر امام حسین(ع)کا نشان تک مٹانے کا حکم صادر کردیا اور زیارت پر پابندی عائد کردی گئی۔(۴)اسی طرح اس نے اپنے فرزندوں معتز و مؤید کے استاد ابن السکیت کو صرف اس جرم میں قتل کردیا کہ ابن سکیت امام حسن(ع) و امام حسین(ع)کو اس کے بیٹوں سے برتر و افضل مانتے تھے،ایک روز متوکل نے ابن سکیت سے دریافت کیا میرے بیٹے تمہیں زیادہ عزیز ہیں یا حسن(ع) و حسین(ع)؟ ابن سکیت نے جواب دیا (حسن(ع) و حسین(ع)سے کیا مقابلہ) علی ابن ابی طالب(ع) کا غلام قنبر بھی تیرے فرزندوں سے افضل و برتر ہے،یہ سن کر متوکل طیش میں آگیا اور ابن سکیت کو قتل کرنے کا حکم صادر کردیا۔(۵)
اس دور میں امام علی نقی(ع)۔ منصب امامت پر فائز تھے۔ پدر بزرگوار کی شہادت کے بعد امامت کی ذمہ داری آپ(ع)کے کاندھوں پر آگئی تھی اور آپ(ع)تینتیس سال تک اس اہم ذمہ داری کو ادا کرتے رہے۔
امام علی نقی علیہ السلام کی امامت کے دوران معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز عباسی حکمراں ہوئے،متوکل نے امام(ع) کو سن  ۲۳۶ ہجری میں مدینہ سے اپنے دار السلطنت سامرا بلالیا تاکہ آپ(ع) پر مکمل  نگرانی رکھی جاسکے،اس کے باوجود کبھی کبھی متوکل کے جاسوس یہ خبر اس کے پاس پہنچاتے رہتے کہ شیعوں کی  آمدورفت آپ کے یہاں بہت زیادہ ہے شیعہ آپ(ع)کے یہاں اسلحے جمع کررہے ہیں اور آپ(ع)حکومت وقت کے خلاف قیام کرنے والے ہیں متوکل اپنے فرستادہ کو بھیج کر چھاپہ مارکاروائی کرتا اور تلاشی کے بعد معلوم ہوتا کہ یہ خبریں غلط ہیں ۔ بعض مورخین کے مطابق ایک روز شراب نوشی کی محفل آراستہ تھی متوکل نے اسی شراب کی محفل میں امام ؑکو لانے کا حکم دیا امام(ع) تشریف لائے لیکن آپ(ع)نے ایسے مطالب ارشاد فرمائے کہ پوری محفل متاثر ہوگئی حتی کہ متوکل بھی آنسو بہانے اور اپنے اعمال پر اظہار ندامت کرنے لگا۔(۶)
معتز عباسی کے دور میں امام علی نقی(ع) کی شہادت ہوگئی اور آپ(ع)کے بعد امامت کی ذمہ داری امام حسن عسکری علیہ السلام کے کاندھوں پر آگئی،امام حسن عسکری(ع) کی مدت امامت چھ سال تھی (۲۵۴تا۲۶۰)اس چھ سال کے عرصہ میں معتز، مہدی اور متوکل کا بیٹا مستعین عباسی حکمران گذرے،امام حسن عسکری(ع) اپنے پدربزرگوار کے ہمراہ متوکل کے حکم سے مدینہ سے سامرہ منتقل ہوئے تھے اس وقت سے شہادت تک آپ سامرہ کے«عسکر»نامی محلہ میں حکومتی نگرانی میں رہے۔
عباسی حکومت کے اہلکار امام حسن عسکری(ع) پر کڑی نظر اور سخت نگرانی رکھتے تھے، لوگوں کے دلوں میں امام(ع) کے معنوی نفوذ سے خوف و وحشت کے علاوہ انہیں آپ(ع)کے اس فرزند کے وجود سے بھی شدید خطرہ تھا جو روایات کے مطابق دنیا میں آکر ظلم و جور کی بساط الٹ دے گا اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرے گا۔
مذکورہ وجوہات کے باعث امام حسن عسکری(ع) کی زندگی نہایت دشوار حالات میں بسر ہوئی اور شیعوں سے آپ (ع)کا رابطہ بہت مشکل تھا لیکن امام(ع) کے معتمد اور لائق اطمینان وکلاء عالم اسلام کے مختلف مراکز میں بسے ہوئے شیعوں کی مشکلات اور مذہبی مسائل حل کرتے رہتے تھے اس زمانہ میں قم بھی شیعوں کا ایک مرکز تھا اور اس شہر میں احمد بن اسحاق امام حسن عسکری(ع) کے وکیل تھے۔
امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے ساتھ ہی بارہویں امام حضرت مہدی موعود عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کا آغاز ہوگیا اور شیعیت کی تاریخ نئے مرحلہ میں داخل ہوگئی،امام عصر(ع)کی امامت کا آغاز در اصل امامت کے عصر غیبت کا آغاز تھا،اس وقت سے اب تک عالم تشیع میں بے شمار تغیر و تبدل اور نشیب و فراز آئے اس مقام پر ان کے سرسری تذکرہ کی بھی گنجائش نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الارشاد، ج۲، ص۲۸۱، ۲۸۷۔
۲۔تاریخ الشیعہ، ص۵۷۔
۳۔تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۴۴۵۔
۴۔تاریخ الخلفاء، ص۳۴۷۔
۵تاریخ الخلفاء، ص۳۴۸۔
۶۔مروج الذہب، ج ۴، ص۱۱، اعیان الشیعہ، ج۲، ص۳۸، تاریخ الشیعہ، ص۶۰۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19