Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184040
Published : 1/11/2016 20:5

معاشرتی ضروریات اور اسلام

باقی رہنے کی محبت انسان کی اہم ترین خواہشات میں سے ایک ہے،موت انسان کے لئے وحشتناک امر ہے، وہ ہمیشہ اس چیز کا مشاہدہ کرتا ہے کہ موت نے کس طرح اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کو اس سے چھین لیا اور اس دنیا سے ان کا نام نشان مٹ گیا، بہرحال انسان اپنی تمام تر سائنسی ترقی و پیشرفت کے باوجود اپنے آپ کو زندگی کے خاتمے کے ڈراؤنے خواب سے چھٹکارہ نہیں دلاسکا ہے۔

ولایت پورٹل:
انسان کو کمال مطلوب تک پہنچنے کے لئے عقل و منطق، حس اور تجربے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درست راستے کا انتخاب کرے،اسی رابطے میں الہی حکمت کا تقاضا ہے کہ پیغمبروں کو بھیجا جائے تاکہ وہ انسان کو اصول و معارف سے آشنا کریں کیونکہ کمال کے حصول کے لئے ان کی ضرورت ہے اور یہ امر انسان کے لئے دین کی ضرورت کے دلائل میں سے ہے،خداوند متعال بیھودہ و غیر ضروری کاموں کی انجام دہی سے مبرّا ہے، لہذا انسان اس عالم میں بغیر ہدف و مقصد کے پیدا نہیں کیا گیا،آیات و روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی خلقت کا مقصد و ہدف کمالات و فضائل اخلاقی کا حصول اور اعلی و عرفا مقام حاصل کرنا ہے۔ ان اعلی اہداف کے حصول کے لئے، دقیق پروگرام اور جامع و کامل قوانین کی ضرورت ہے۔
دین کی بنیادی کارکردگی، زندگی کے ہدف اور اس کے معنی کی وضاحت ہے،ہر انسان اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے کہ زندگی کس کے لئے ہے؟ اس دنیا میں سختیاں اور درد و رنج کیوں ہیں؟ اور مجموعی طور پر آیا یہ دنیا زندگی گزارنے کے لائق ہے یا نہیں؟ ان سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لئے زندگی کے مقصد و ہدف کی وضاحت ضروری ہے،اگر انسان کے پاس ان سوالوں کا قابل قبول جواب نہیں تو وہ ناکامی ناامیدی کا شکار ہوجائے گا، دین انسان کو اعلی و عرفا اور قدرو قیمت کی حامل زندگی کے لئے آرستہ کرتا ہے اور ان اہداف کے حصول میں اس کی مدد کرتا ہے،انسان کی زندگی میں دین کا کردار، ایک کشتی میں قطب نما کے کردار کے مترادف ہے، یعنی زندگی کے نشیب و فراز سے پر سمندر میں،دین، انسان کی نجات کے صحیح خدوخال وضع کرتا ہے۔ دین انسان کی منزل کی طرف راہنمائی کرتا ہے،دین حتمی طور پر زندگی کو معنی عطا کرتا ہے اور انسان و خدا کے درمیان رابطے کو واضح و مشخص کرتاہے،ان امور کا لازمہ نظام کائینات کے حوالے سے واضح تصویرپیش کرنا ہے،دین پسند انسان عقل ومنطق اور وحی کی مدد سے نظام کائینات کے حوالے سے معقول و منطقی تصویر حاصل کرسکتا ہے۔
سوئزرلینڈ کے معروف دانشور اور نفسیاتی بیماریوں کے ڈاکٹر کارل گوسٹو یونگ زندگی کے معنی کی اہمیت کے میں لکھتے ہیں: ان بیماروں سے جب میں ملتا ہوں کہ جو اپنی عمر کے دوسرے نصف میں داخل ہوچکے ہوتے ہیں، ان تمام کی مشکل بلآخر زندگی کی بہ نسبت ایک خاص سوچ سے مربوط نظر آتی ہے، اطمینان کے ساتھہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تمام افراد اس حوالے سے بیماری کا احساس کرتے ہیں کہ وہ چیز کہ جس کی زندہ جاوید ادیان اپنے پیروکاروں کو تعلیم دیتے ہیں ان کو انہوں نے دریافت نہیں کیا۔ دین زندگی کے حوالے سے اپنی خاص تفسیر و تشریح میں، رضایت و خوش فہمی کا پودا انسان کی جان میں لگاتا ہے اور نشاط و امید و تحرک کے میوے کو وجود میں لیکر آتا ہے، باایمان انسان دنیا کے نظام اس کے قوانین اور تشکیلات کو صحیح و منصفانہ سمجھتا ہے،وہ اس بات کے ساتھہ کہ دنیا میں بدامنی خونریزی اور نا انصافی کا مشاہدہ کرتا ہے،انسانی معاشرے کے مستقبل کو روشن اور عدل و انصاف پر مبنی اور امن و امان سے سرشار دیکھتا ہے۔ اسی صورت حال میں زندگی اس کے لئے امید کا پیغام لیکر آتی ہے۔
وہ خصوصیات کے جو انسان کو دیگر موجودات سے ممتاز بناتی ہیں اس کی قوت عقل و فکر ہے،یہی خصوصیات انسان کو اس دنیا میں چھپے ہوئے حقائق سے پردہ اٹھانے کی ترغیب دلاتی ہے۔ اس لحاظ سے انسان میں حقیقت کی جستجو اور علم دوستی ذاتی ہوتی ہے اور اس کی بنیادوں کا تعلق اس کی توانائیوں اور صلاحیتوں پر ہوتا ہے، اسلام مختلف طریقوں سے انسان کی عالم ہستی کے حقائق کے انکشاف میں حوصلہ افزائی کرتا ہےقرآن کی سورہ مبارکہ زمر کی 9 ویں آیت میں خداوند متعال علم کے حصول اور جاننے کی اہمیت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:«بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں ؟ یقینا نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں» قرآن کی آیات انسان کے جاننے والے ذہن کو آسمانوں و زمین اور عالم ہستی کے مختلف واقعات میں تحقیق و مطالعہ کے لئے ترغیب دلاتی ہیں اور انسان کو دنیا پر حکمفرما نظام کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں، پیغمبر اسلام(ص) و دیگر پیشوایان دین بھی علم و معرفت کے حصول کو ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے فرض سمجھتے ہیں۔
خدا کی عبادت کی طرف انسان کی رغبت، اس کی ضروریات میں سے ہے۔ وہ خالق کائینات کہ جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا اس کی طرف انسان کا جھکاؤ ، انسان کے وجود کا حصہ ہے،اگر یہ فطری جھکاؤ و لچک درست راستے سے حاصل نہ ہو ، تو انسان کج روی کا شکار ہوجائے گا اور رنج و مصائب و بے چینی اس کے وجود کا حصہ بن جائے گی، اسی طرح جیسے آپ جانتے ہیں، انسان کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک اس کی روح و جان کا آرام و سکون ہے،انسان کی روحانی و جسمانی سلامتی میں دین کا کردار مختلف لحاظ سے قابل اہمیت ہے، نفسیاتی امور کے ماہرین کی جانب سے اس بارے میں انجام دی جانے والی تحقیقات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ دینی اعتقادات نفسیاتی دباؤ کو تحمّل کرنے اور اضطراب میں کمی اور روحانی درد و رنج کی تسکین میں موثر کردار ادا کرتے ہیں،دوسرے الفاظ میں تمام پریشانیوں اور اضطراب کا تنہا علاج ، انسان کا پرودگار متعال کی طرف رجوع میں ہے، اور یہ وہی راستہ ہے کہ ادیان الہی اور ان میں سرفہرست دین مبین اسلام ، انسان کو اس کی ہدایت کرتا ہے۔
باقی رہنے کی محبت انسان کی اہم ترین خواہشات میں سے ایک ہے،موت انسان کے لئے وحشتناک امر ہے، وہ ہمیشہ اس چیز کا مشاہدہ کرتا ہے کہ موت نے کس طرح اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کو اس سے چھین لیا اور اس دنیا سے ان کا نام نشان مٹ گیا، بہرحال انسان اپنی تمام تر سائنسی ترقی و پیشرفت کے باوجود اپنے آپ کو زندگی کے خاتمے کے ڈراؤنے خواب سے چھٹکارہ نہیں دلاسکا ہے۔
موت سے خوف ، انسان کی باقی رہنے کی تمنّا کا نتیجہ ہے،حتی تصوّر موت انسان کو پریشان و مضطرب رکھتا ہے، وہ افراد کہ جو انسان کی حقیقت کو اس کے جسمانی وجود کے علاوہ اور کچھہ نہیں سمجھتے اور ان کا یہ خیال ہے کہ انسان کی زندگی اس کی دنیوی حیات سے عبارت ہے ، اور وہ موت کو نابودی سمجھتے ہیں، اس گروہ کے افراد موت سے شدید خوف کھاتے ہیں اور اس دنیا میں باقی رہنے کو نجات کا راستہ سمجھتے ہیں اور یہ وہ خواہش ہے کہ جس کو کبھی حاصل نہیں کیا جاسکتا،زندگی کے معنی و مفہوم کے غلط ادراک کے نتیجے میں، باقی رہنے کی رغبت مزید بڑھ جاتی ہے اور بلند و بالا آرزؤں کو جنم دیتی ہیں، یہ ایسے میں ہے کہ زندگي و موت کے حوالے سے دین کی تفسیر و تشریح کچھہ مختلف ہے۔ دین جاویدان باقی رہنے کے لئے ، انسان کی فطری رحجان پر مکمل توجہ رکھے ہوئے ہے اور اس کو یہ اطمینان دلاتا ہے کہ فنا نہیں ہے اور موت صرف ایک پل ہے کہ جو انسان کو برتر و عظیم عالم میں منتقل کرتا ہے،انسان موت کے ذریعے ابدی منزل کی طرف روانہ ہوتا ہے، قرآن مجید نے انسان کی موت کے وقت قبض روح کے مسئلہ اور اس کی عدم نابودی کی طرف اشارہ کیا ہے،آخرت میں انسان کی سرنوشت کے حوالے سے قرآن مجید میں قابل ذکر حد تک آیات موجود ہیں،اور ان آیات میں اخروی زندگی کی اہمیت پر بے پناہ تاکید کی گئی ہے اور یہ تاکید خود دنیا میں انسان کی زندگی کی بقا کے حوالے سے واضح دلیل ہے۔
دین انسان کو ضروری طاقت و توانائی دیتا ہے تاکہ وہ نفسیاتی خواہشات اور جذبات کو کنٹرول اور ان کو منظم کر سکے، وہ عوامل کہ جو ہمیشہ ہی سے انسانی معاشرے کے لئے خطرہ رہے ہیں اور خاص طور پر ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس نے انسانیت کے لئے خطرات کو دو چندان کردیا ہے، نفسانی سرکشی ، خود خواہی اور جذبات و خواہشات کا بے دریغ استعمال ہے، یہ عوامل اس قدر اثر گزار ہیں کہ جنہوں نے صاحبان علم و قدرت کو اپنا اسیر بنارکھا ہے۔ لیکن دین پر پاک ایمان، انسان کو ہوائے نفس کی پیروی سے آزاد کردیتا ہے اور انسانی اندرونی دفاعی طاقت کو مزید بڑھا دیتا ہے تاکہ وہ نفسانی خواہشات کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے۔ روس کے معروف مصنف «ڈاسٹا یوفسکی» کا کہنا ہے کہ:اگر خدا نہ ہو تو ساری چیزیں جائز ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم پر ایمان سے ہٹکر، کوئی بھی دوسرا عامل اخلاق مخالف اور غیرقانونی کاموں کے حوالے سے انسان کی دفاعی طاقت کی توانائی نہیں کرسکتا اور سرکش نفس کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔
urduold.ws.irib


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25