Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184053
Published : 2/11/2016 19:30

ترکی حکومت،شام میں فوجی اڈے بنانے کی خواہشمند

شامی سرحد کے قریب مختلف دیہاتوں میں ترک فوجی یونٹوں کی مشکوک نقل حرکت جاری ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترک حکومت اس علاقے میں فوجی اڈے قائم کرنے جارہی ہے۔

ولایت پورٹل:
روزنامہ السفیر کی رپورٹ کے مطابق،ترک فوج شامی سرحد کے قریب کئی دیہاتوں سمیت شمالی حلب کے گرد و نواح میں فوجی اڈے بنانے کے درپے ہے۔
ترک فوج نے شمالی شام میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے بہانے ''سپر فرات'' نامی  فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے اور اب ترک فوج اپنے دائرہ کار کو آگے بڑھاتے ہوئے باقاعدہ طور ہر فوجی اڈے قائم کرکے شامی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ترک فوج کی یہ دوڑ دھوپ اسی طرح ہے جس طرح اس نے عراق کے علاقے بعشیقہ میں اڈا بنا رکھا ہے اور عراق کے کہنے کے باوجود اڈے کو ترک کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
الباب شہر میں ترک فوج کی نقل وحرکت تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں،ترک فوج کی نقل وحرکت کو دیکھا جائے تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ شام کے سرحد سے متصل کئی دیہات جیسے الزیارہ «جو کہ ترک سرحد کے قریب الراعی شہر کے جنوب میں واقع ہے»، میں اپنے لئے کیمپ بنانے میں مصروف ہے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ ترک فوج اس علاقے میں فوجی کیمپ کے علاوہ ایک ہوائی اڈہ بھی بنانے کی کوشش کررہی ہے،شامی سرحد پر ترک فوج کی سرگرمیاں خطرناک ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ ترک حکومت نے عراق کے بعشیقہ میں اپنے لئے فوجی اڈہ بنا رکھا ہے اور عراقی حکومت کی عدم رضایت کے باوجود اڈے کو خالی کرنے  سے گریز کررہی ہے اور ترک حکومت نے موصل سمیت کرکوک کے بعض علاقوں کو تاریخی اعتبار سے اپنا حصہ قرار دے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے،اور اس قسم کے اشارے پورے خطے کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
tasnim


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25