Wed - 2018 June 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184059
Published : 3/11/2016 10:28

امام محمد باقر(ع) اور اسلامی سماج میں علمی تبدیلیاں(1)

امام نے اِن فقہاء کے نفقہ کی ذمہ داری خود اپنے کا ندھوں پر لی ،ان کی زندگی میں اقتصادی طور پر پیش آنے والی ان کی تمام حاجتیں پوری کیں تاکہ ان کو تحصیل علم ،اس کے قواعد و ضوابط لکھنے اور اس کے اصول کو مدوّن کر نے میں کو ئی مشکل پیش نہ آئے ،جب آپ(ع) کے دار فانی سے ملک بقا کی طرف کوچ کرنے کا وقت آیا تو آپ(ع) نے اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق(ع) کو ان فقہاء کی کفالت کرنے کی وصیت فرمائی کہ ان کو تحصیل علم اور نشر علم میں کوئی معاشی مشکل پیش نہ آئے،یہ عظیم فقہاءجو کچھ امام(ع) سے سنتے اس کو تحریر کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے اور ان کو روشن فکر افراد کے لئے تدریس کرتے،لہذا یہی وجہ ہے کہ امام(ع) کے صرف ایک شاگرد،جناب جابر بن یزید جعفی سے ستر ہزار روایات نقل ہو ئی ہیں۔

ولایت پورٹل:
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  ان ائمۂ اہل بیت علیہم السلام میں سے ہیں جن کو اللہ نے اپنا پیغام پہونچانے کے لئے منتخب فرمایا ہے اور ان کو اپنے نبی(ص) کی وصایت کے لئے مخصوص قرار دیا ہے،اس عظیم امام(ع) نے اسلامی تہذیب میں ایک انوکھا کردار ادا کیا اور دنیائے اسلام میں علم کی بنیاد ڈالی ،امام(ع) نے یہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب دنیائے اسلام میں ہر طرف فکری جمود تھا،کوئی بھی تعلیمی اور علمی مرکزنہیں تھا،جس کے نتیجہ میں امت مسلسل انقلابی تحریکوں سے دو چار ہورہی تھی جن میں سے کچھ بنی امیہ کے ظلم و تشدد اور بربریت سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے اور کچھ لوگ حکومت پر مسلط ہو کر بیت المال کو اپنے قبضہ میں لینا چا ہتے تھے،انقلابات کے یہ نتائج علمی حیات کے لئے بالکل مہمل تھے اور ان کو عمومی زندگی کے لئے راحت کی کوئی امید شمار نہیں کیا جاسکتا تھا۔
امام محمد باقر(ع) نے علم کا منارہ بلند کیا،اس کیلئے قواعد و ضوابط معین فرمائے،اس کے اصول محکم کئے ، آپ(ع) اس کے تہذیبی راستے میں اس کے قائد اور معلم و استاد تھے،آپ(ع) نے علوم کو بہت وسعت دی، ان ہی میں سے علم فضا اور ستاروں کا علم ہے جس سے اس زمانہ میں کوئی واقف نہیں تھا، امام(ع) کو علم کے موجدین میں شمار کیا جا تا ہے،امام(ع) کے نزدیک سب سے زیادہ اہم مقصد ہمیشہ کے لئے فقہ اہل بیت(ع) کو نشر کرنا تھا جس  میں اسلام کی روح اور اس کا جوہر تھا، امام(ع) نے اس کو زندہ کیا ،اس کی بنیاد اور اس کے اصول قائم کئے،آپ(ع) کے پاس ابان بن تغلب،محمد بن مسلم، برید،ابو بصیر،فضل بن یسار ،معروف بن خربوذ، زرارہ بن اعین وغیرہ جیسے بڑے بڑے فقہاء موجود رہتے تھے وہ فقہاء جنھوں نے ان کی تصدیق کیلئے روایات جمع کیں اور ان کی ذکاوت و ذہانت کا اقرار کیا،اور اہل بیت(ع) کے علوم کی تدوین کا سہرا ان کے سر بندھتا ہے ،اگر یہ نہ ہوتے تو وہ بڑی فقہی ثروت جس پر عالم اسلام فخر کرتا ہے سب ضائع و برباد ہوجاتی،امام(ع)کی سیرت کے اعزاز و فخر کیلئے یہ ہے کہ آپ(ع) نے بڑے عظیم فقہاء کی تربیت  کرکے انہیں امت اسلامی کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے معین کیا،چنانچہ امام(ع)نے ابان بن تغلب کے لئے فرمایا:«مدینہ کی مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو فتوے بتایا کرو میں اپنے شیعوں میں تمہارے جیسے افراد دیکھنا پسند کرتا ہوں۔
امام نے اِن فقہاء کے نفقہ کی ذمہ داری خود اپنے کا ندھوں پر لی ،ان کی زندگی میں اقتصادی طور پر پیش آنے والی ان کی تمام حاجتیں پوری کیں تاکہ ان کو تحصیل علم ،اس کے قواعد و ضوابط لکھنے اور اس کے اصول کو مدوّن کر نے میں کو ئی مشکل پیش نہ آئے ،جب آپ(ع) کے دار فانی سے ملک بقا کی طرف کوچ کرنے کا وقت آیا تو آپ(ع) نے اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق(ع) کو ان فقہاء کی کفالت کرنے کی وصیت فرمائی کہ ان کو تحصیل علم اور نشر علم میں کوئی معاشی مشکل پیش نہ آئے،یہ عظیم فقہاءجو کچھ امام(ع) سے سنتے اس کو تحریر کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے اور ان کو روشن فکر افراد کے لئے تدریس کرتے،لہذا یہی وجہ ہے کہ  امام(ع) کے  صرف ایک شاگرد،جناب جابر بن یزید جعفی سے ستر ہزار روایات نقل ہو ئی ہیں۔
جن میں سے اکثر احادیث فقہ اسلامی سے متعلق ہیں،اسی طرح ابان بن تغلب سے احادیث کا ایک بہت بڑا مجموعہ نقل ہوا ہے، احکام میں زیادہ تر عبادات ،عقود اور ایقاعات سے متعلق بہت زیادہ روایات جمع کی ہیں، آپ(ع) نے قرآن کریم کی تفسیر کا بڑا اہتمام کیا اس کے لئے مخصوص وقت صرف کیا ،اکثر مفسرین نے آپ(ع) سے کسب فیض کیا ،اور آپ (ع) نے بعض آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی اپنے آباء و اجداد کی روایات کو بیان کیا،قرآن کریم کی تفسیر میں ایک خاص کتاب تحریر فرمائی جس سے فرقۂ جارودیہ کے سربراہ زیاد بن منذر نے روایت کی ہے،امام(ع) نے بعض احادیث انبیاء علیہم السلام کے حالات سے متعلق بیان فرمائیں ہیں جن میں انبیاء کا اپنے زمانہ کے فرعونوں کے ذریعہ قتل و غارت ،ان کی حکمتیں ،موعظے اور آداب بیان کئے گئے ہیں آپ(ع) نے سیرت نبویہ کو ایک مجموعہ کی صورت میں پیش کیا جس سے ابن ہشام ،واقدی اور حلبی وغیرہ جیسے مورخین نے نبی اکرم(ص) کے غزوات اور جنگوں کے حالات نقل کئے ہیں،جس طرح ان سے آدابِ سلوک،حسن اخلاق اور حسن اعمال کے سلسلہ میں بھی متعدد احادیث نقل کی ہیں، نیز یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ امام محمدباقر(ع) نے مسیحی،ازراقہ ،ملحدین اور غالیوں کی جماعتوں سے مناظرے کئے اور مناظروں میں ان کو شکست دی خود فاتح ہوئے اور ان سب دشمنوں نے آپ کی علمی طاقت اور اپنی بے بسی کا اعتراف کیا،بہر حال تاریخ نے امام محمد باقر(ع) جیسے کسی امام کا تعارف نہیں کرایا،آپ(ع) نے اپنی پوری زندگی لوگوں میں علم نشر کرنے میں صرف کر دی،جیسا کہ مورخین نے نقل کیا ہے کہ:ابو جعفر(ع) نے شہر یثرب میں ایک بہت بڑے مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں لوگوں کو علم فقہ،حدیث،فلسفہ ،علم کلام اور تفسیر قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
ماخوذ از کتابآئمہ طاہرین(ع) کی سیرت سے خوشبوئے حیات»۔
ابنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 June 20