Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184071
Published : 3/11/2016 20:43

کیا شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہیں؟

امام خمینی(ره) نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے:«جو شخص بھی قرآن مجید کے حفظ اورکتابت کے بارے میں مسلمانوں کے اہتمام سے واقف ہے تو وہ تحریف کے غلط ہونے سے بخوبی واقف ہوگا اور جن روایتوں سے عقیدۂ تحریف کو ثابت کیا جاتاہے وہ روایات یا توسند کے اعتبار سے کمزور ہیں اور ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا یا بالکل جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں اور ان کے جعلی ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں،البتہ جو روایتیں معتبر ہیں ان کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید میں تفسیروتاویل کے لحاظ سے تحریف ہوئی ہے نہ کہ اس کے الفاظ اور عبارت کے لحاظ سے۔


ولایت پورٹل:
آسمانی کتابوں میں دو طرح کی تحریف کا امکان ہے:
(۱)لفظی تحریف(۲) معنوی تحریف
لفظی تحریف کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی آیتوں یا الفاظ کو کم یا زیادہ کردیا جائے۔
معنوی تحریف یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی آیتوں اور عبارتوں کے غلط معانی بیان کئے جائیں جسے اصطلاحی زبان میں«تفسیر بالرائے»کہا جاتاہے۔
قرآن میں تحریف کے سلسلہ میں محققین زیادہ تر لفظی تحریف سے بحث و گفتگو کرتے ہیں اوروہ بھی کمی کے اعتبارسے،کیونکہ اس بارے میں توتمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ قرآن مجید میں کوئی آیت یا سورہ نہیں بڑھایا گیا ہے اور اس اضافہ کے اعتبار سے قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے،لیکن کمی کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں سے بعض سورے ،آیتیں یاکچھ الفاظ کم ہوگئے ہیں اور چونکہ کچھ شیعہ (خصوصاً امامت کے بارے میں) اس قسم کی تحریف کے قائل ہیں تو اس کو شیعوں کے مخالفین خوخصوصاً وہابیوں نے اسے شیعوں کے خلاف مستند اعتراض بنا ڈالا ہے،حالانکہ شیعوں کے بزرگ اور جید علماء کے نزدیک یہ نظریہ سراسر غلط ہے اور انہوں نے صاف اور واضح الفاظ میں یہ تاکید کی ہے کہ قرآن کریم ہر قسم کی تحریف (کمی اور زیادتی)سے محفوظ ہے۔
شیعوں کی واضح اکثریت کا یہ نظریہ ہے کہ پہلی تحریف تو قرآن مجید میں کسی لحاظ سے ممکن ہی نہیں ہے اور ہمارا موجودہ قرآن وہی قرآن ہے جو خداوند عالم کی جانب سے وحی کے ذریعہ پیغمبر اکرم(ص) پر نازل ہوا ہے چنانچہ قدیم دور سے ہی شیعہ علماء ومفسرین اورفقہاء و متکلمین نے اس کی تصریح وتاکید فرمائی ہے جیسے:شیخ صدوق(رہ)،شیخ مفید(رہ)،سید مرتضیٰ(رہ)،شیخ طوسی(رہ)،امین الاسلام طبرسی(رہ)،علامہ حلی(رہ)، محقق کرکی(رہ)،شیخ بہائی(رہ)،ملا محسن فیض کاشانی(رہ)،شیخ جعفر کاشف الغطاء(رہ)،شیخ محمد حسین کاشف الغطاء(رہ)،علامہ محسن امینی(رہ)،امام شرف الدین عاملی(رہ)،علامہ امینی(رہ)،علامہ طباطبائی(رہ)،امام خمینی(رہ)،آیۃ اللہ خوئی(رہ)۔
بعض شیعہ علماء نے صاف الفاظ میں یہ تاکید کی ہے کہ قرآن کریم ہر قسم کی لفظی تحریف (کمی وزیادتی ) سے محفوظ ہے چونکہ تمام مذکورہ علماء کے اقوال ونظریات نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے اس لئے بطورنمونہ ہم صرف شیخ صدوق(رہ) اور امام خمینی(رہ) کے اقوال پیش کررہے ہیں:
۱۔شیخ صدوق اپنی کتاب «اعتقادات» میں تحریر کرتے ہیں:«ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اکرم(ص) پر جو قرآن نازل ہوا تھا وہی قرآن ہے جو اس وقت مسلمانوں کے درمیان رائج ہے اور وہ قرآن موجودہ سے زیادہ نہیں تھا اور جو شخص بھی ہماری طرف یہ نسبت دیتا ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن مجید موجودہ سے زیادہ تھا تو وہ جھوٹا ہے»۔(۱)
امام خمینی(ره) نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے:«جو شخص بھی قرآن مجید کے حفظ اورکتابت کے بارے میں مسلمانوں کے اہتمام سے واقف ہے تو وہ تحریف کے غلط ہونے سے بخوبی واقف ہوگا اور جن روایتوں سے عقیدۂ تحریف کو ثابت کیا جاتاہے وہ روایات یا توسند کے اعتبار سے کمزور ہیں اور ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا یا بالکل جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں اور ان کے جعلی ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں،البتہ جو روایتیں معتبر ہیں ان کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید میں تفسیروتاویل کے لحاظ سے تحریف ہوئی ہے نہ کہ اس کے الفاظ اور عبارت کے لحاظ سے»۔(۲)
امام خمینی(رہ) کے اس کلام میں دو نکتوں پر توجہ دی گئی ہے :ایک تو قرآن مجید تحریف سے محفوظ ہے اور  دوسرے قائلین تحریف کے نظریہ پر تنقید،تحریف نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں نے قرآن مجید کے بارے میں ہمیشہ خاص توجہ رکھی ہے اورکبھی بھی اس کی حفاظت کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوشش سے ذریعہ نہیں کیا حتی کہ جب خلفاء کے دور میں قرآن مجید کی تدوین کا مسئلہ پیش آیا اور خلیفۂ دوم نے«آیہ رجم» کے نام سے ایک آیت پیش کی تومسلمانوں نے قبول نہیں کیا کیونکہ کسی نے بھی ان کے نظریہ کی تائید نہیں کی۔(۳)
تحریف کے منکرین نے اس دلیل کو ہمیشہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا ہے سید مرتضیٰ (ره)فرماتے ہیں:«ان العنایة اشتدت و الدواعی توفرت علیٰ نقله وحراسته ۔۔۔۔۔۔فکیف یجوز ان یکون مغیراً او منقوصاً مع العنایة الصادقة والضبط الشدید»۔(۴)
تحریف کے بطلان اور نفی کے بارے میں اوربھی دلائل موجود ہیںلیکن اس مقام پر ان کی گنجائش نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ(کمی کے ذریعہ) تحریف کے قائلین نے بعض روایتوں سے استدلال کیا ہے جن سے بظاہر تحریف کا علم ہوتا ہے ،اس جواب یہ ہے کہ یا تو ان روایات کی سند کا کوئی اعتبار نہیں ہے لہٰذا ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا،یا ان کا جعلی ہونا بالکل واضح وآشکار ہے اور اگر بالفرض اس سلسلہ میں کوئی صحیح روایت موجود بھی ہو تو اس کی توجیہ وتاویل ممکن ہے کہ اس سے معنوی تحریف مراد ہے نہ کہ لفظی تحریف۔
اکثر شیعہ علماء و محققین کے نظریہ کے مطابق قرآن مجید کا ہر کمی وزیادتی سے محفوظ ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے بعض علمائے اہل سنت نے بھی تسلیم کیا ہے انہوں نے مذہب شیعہ کے دامن کو عقیدۂ تحریف کی تہمتوں سے پاک سمجھا ہے جیسا کہ شیخ رحمت اللہ ہندی نے اپنی معروف اور وقیع کتاب «اظہار الحق» میں کہتے ہیں:
«اکثر شیعہ علماء کے نظریہ کے مطابق قرآن کریم ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور شیعہ حضرات کمی کے ذریعہ تحریف کے قائلین کے نظریات کو باطل سمجھتے ہیں»۔(۵)
جامعۃ الازہر کے استاد شیخ محمد، محمد مدنی اس بارے میں کہتے ہیں:
«امامیہ فرقہ،قرآن مجید کی آیتوں یا سوروں کی تحریف کا ہرگز قائل نہیں ہے اگر چہ اس سلسلہ میں ان کی حدیث کی کتابوں میں کچھ روایات ضرور نقل ہوئی ہیں،بالکل اسی طرح جیسے ہمارے یہاں بھی اس قسم کی روایات موجود ہیں اورشیعہ وسنی دونوں مذہبوں کے محققین انہیں غلط سمجھتے ہیں،جو شخص بھی سیوطی کی کتاب الاتقان ملاحظہ کرے اسے اس قسم کی روایات مل جائیں گی جو ہماری نظر میں معتبر نہیں ہیں،شیعوں کے بڑے علماء بھی تحریف قرآن اور کمی سے متعلق روایات کو غلط قراردیتے ہیں»۔(۶)
استاد مدنی نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اگر کوئی شیعہ یا سنی ان غیر معتبر روایتوں کی بنیاد پر تحریف قرآن کا قائل ہو جائے تو اس کے ذاتی نظریہ کو اس کے مذہب کا عقیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے جیسا کہ مصر کے ایک عالم نے «الفرقان»نامی ایک کتاب تالیف کی اور اس میں قرآن میں کمی سے متعلق روایتیں جمع کی ہیں لیکن الازہر یونیورسٹی نے اس کتاب کو بے بنیاد ثابت کرنے کے بعد حکومت سے اس کتاب پر پابندی لگانے اور اس کے تمام نسخے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا اور مصری حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی۔
اس بناء پر جو وہابی،شیعوں پر تحریف کی تہمت لگانے پر مصر ہیں اور تحریف کے بطلان سے متعلق اتنے صریحی اقوال کے منکر ہیں،ان کے اس عمل کو انصاف سے دوری،ان کی ہٹ دھرمی۔اور گمراہی کے علاوہ کچھ اورنہیں کہا جا سکتا ہے(۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الاعتقادات فی دین الامامیۃ،ص۵۹۔
۲۔تہذیب الاصول،ج۲،ص۱۶۵۔
۳۔سیوطی،الاتقان فی علوم القرآن،ج۱،ص۲۴۴۔
۴۔مجمع البیان،ص۱۵ ۔
۵۔الفصول المہمہ،ص۱۷۵۔
۶۔صیانۃ القرآن من التحریف،ص۸۴،بحوالہ رسالۂ ’’رسالۃ الاسلام ‘‘مطبوعہ قاہرہ،سال ۱۱،شمارہ ۴۴،ص۳۸۲ ،۳۸۵ ۔
۷۔تحریف قرآن کے بطلان اور اس کے تنقیدی جا ئزہ کے بار ے میں مندرجۂ ذیل کتابیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:المیزان فی تفسیر القرآن،ج۱۲،ص۱۱۴،۱۳۳،البیان فی تفسیر القرآن،ص۱۹۷ اور ۲۳۵،آلاء الرحمٰن فی تفسیر القرآن،ص۱۷،صیانۃ القرآن من التحریف،ص۲۹۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15