Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184081
Published : 5/11/2016 14:25

امام محمد باقر(ع) اور اسلامی سماج میں علمی تبدیلیاں(2)

امام(ع) نے فرمایا:«تم اسی وقت حکاک اور کاریگروں کو بلاؤ اور اپنے سامنے اُن سے درہم و دینار کے سکّے ڈھلواؤ،سکّہ کے ایک طرف سورہ توحید اور دو سری طرف پیغمبر اسلام(ص)کا نام نامی لکھو اور سکہ کے مدار میں جس شہر میں وہ سکّے بنے ہیں اس شہر کا نام اور سَن لکھا جائے»۔


ولایت پورٹل:
اسی مضمون کی پہلی کڑی کا مطالعہ کرنے کے لئے نیچے لنک پر کلک کیجئے!
امام محمد باقر(ع) اور اسلامی سماج میں علمی تبدیلیاں(1)
تاریخ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی اہمیت اس وقت اورعروج پر پہونچ گئی جب آپ(ع) نے رومی شہنشاہیت کے چنگل سے اسلامی سکہ کو آزاد کر ایا اور اس کی ڈھلائی نیزاس پر تحریر کی جانے والی عبارت بھی تعلیم فرما ئی اور اس کے بعد آپ کی برکت سے اسلامی سکہ رائج ہو گیا،چنانچہ اس سلسلہ میں روایت ہے :عبد الملک نے ایک کاغذ پر نظر ڈالی تو اُس پر مصری زبان میں کچھ لکھا ہوا دیکھا اُس کا عربی زبان میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا تو وہ عیسائیت کے تین نعرے:«باپ،بیٹا اور روح»تھے تو اس کو اچھا نہیں لگا ،اس نےاپنے مصر کے گورنرعبدالعزیز بن مروان کو انھیں باطل کرنے کیلئے لکھا اور اس کو حکم دیاکہ سکوں پرنعره توحید«شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ‘» لکھا جائے، اور اس نے اپنے تمام گورنروں اور والیوں کوسکوں پر روم کے نقش شدہ شعار کو باطل کرنے کا حکم دیا،جس کسی کے پاس وہ نقش شدہ شعار ملے اس کو سزا دینے کیلئے کہا،ڈھالنے والوں نے سکوں پر یہ شعار لکھا ،اس کو پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلا دیا،جب بادشاہ روم کو یہ معلوم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا ،اس نے عبدالملک سے سکوں کو ان کی پہلی صورت میں ہی لانے کیلئے کہا اور اس نے اپنے خط کے ساتھ ایک ہدیہ عبدالملک کے پاس روانہ کیا جب وہ ہدیہ عبدالملک کے پاس پہونچا تو اس نے وہ ہدیہ بادشاہ روم کو واپس کردیا اور اس کے خط کا کو ئی جواب نہیں دیا ،بادشاہ روم نے اور زیادہ ہدایا روانہ کئے اور دوسری مرتبہ خط میں تحریر کیا کہ وہ سکوں کو ان کی پہلی حالت میں ہی پلٹا دے عبد الملک نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھراس کے تمام ہدئے واپس کردئے، قیصر روم نے عبد الملک کویہ دھمکی دیتے ہوئے تحریر کیا کہ میں درہم و دینار کے اوپر نبی اکرم(ص) کے سلسلہ میں ناسزا الفاظ لکھوا کر تمام اسلامی ممالک میں رائج کرادوں گا اور تم کچھ نہ کرسکوگے، عبدالملک نے اپنے تمام حوالی و موالی جمع کرکے ان کے سامنے یہ بات پیش کی تو روح بن زنباع نے اس سے کہا:خلیفہ تم بہتر جانتے ہو کہ اس موقع پر کون اسلام کی مشکل کشائی کر سکتا ہے لیکن عمداً اس کی طرف رخ نہیں کرتے،عبدالملک نے انکار کرتے ہوئے کہا :خدا تجھے سمجھے بتا تو سہی وہ کون ہے؟ روح بن زنباع نے کہا :علیک بالباقر من اہل بیت النبي(ص)،میری مراد فرزند رسول امام محمد باقر (ع) ہیں۔
عبدالملک نے روح بن زنباع کے مشورہ کا مثبت جواب دیا اور اس نے فوراً مدینہ کے گورنر کوامام محمد باقر(ع) اور ان کے چاہنے والوں کو بھیجنے کے لئے تحریر کیا اور ان کے لئے ایک لاکھ درہم دینے اوران کے خرچ کیلئے مزید تین لاکھ درہم اضافہ کرنے کا وعدہ کیا ،یثرب کے والی نے عبدالملک کی بات کو عملی جا مہ پہنایا، امام محمد باقر(ع) یثرب سے دمشق پہنچے، عبدالملک نے رسمی طور پر آپ(ع) کا استقبال کیا اور اس کے بعد اپنا مطلب بیان کیا امام(ع) نے اس سے فرمایا:«تم گھبراؤ نہیں یہ دو اعتبار سے کوئی بڑی بات نہیں ہے:ایک تو یہ کہ صاحب روم نے جو تمھیں رسول اللہ(ص) کے متعلق دھمکی دی ہے اس میں خدا اس کو آزاد نہیں چھوڑے گا«یعنی وہ جو چا ہے کر ے»،دوسرے یہ کہ اس میں حیلہ و دھوکہ ہے،عبدالملک نے کہا:وہ کیا ہے؟امام(ع) نے فرمایا:«تم اسی وقت حکاک اور کاریگروں کو بلاؤ اور اپنے سامنے اُن سے درہم و دینار کے سکّے ڈھلواؤ،سکّہ کے ایک طرف سورہ توحید اور دو سری طرف پیغمبر اسلام(ص)کا نام نامی لکھو اور سکہ کے مدار میں جس شہر میں وہ سکّے بنے ہیں اس شہر کا نام اور سَن لکھا جائے»۔
آپ(ع) نے اس کو سکہ کی کیفیت اور وزن وغیرہ اور ان کو ڈھالنے کے طریقہ کی تعلیم دی،اس کے بعد اس رنگ کے سکوں کو تمام عالم اسلام میں رائج کر نے کا حکم دیا اور رومی سکوں کو خلاف قانون قرار دیا گیا،اور جو خلاف ورزی کرے گا اس کو سخت سزا دی جائے گی،عبدالملک نے امام(ع) کے اس فرمان کو نافذ کردیا ،جب بادشاہ روم کو یہ معلوم ہوا تو وہ بہت حیران ہوا چونکہ اس کی تمام آرزوؤں پر پانی پھر چکا تھا، پہلے تمام سکّے خلاف قانون قرار دئے گئے اور امام کے بنوائے ہوئے سکوں سے معاملات انجام دئے جانے لگے اور وہی سکّے عباسیوں کے زمانہ تک رائج رہے،عالم اسلام امام محمد باقر(ع)کا ممنون کرم ہے کہ امام(ع)نے اس پر احسان کیا اور اس کو روم کا غلام بننے سے نجات دی ،اور حاکم اسلام سے اسلامی ملک میں مستقل طور پر اسلامی نعرہ ایجادکرادیا۔
امام محمد باقر(ع) کی ایک مشہور صفت:
امام محمد باقر(ع) کی ایک نمایاں صفت حلم ہے ،سوانح حیات لکھنے والوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام(ع) نے اس شخص پر ستم روا نہیں سمجھا جس نے آپ(ع) کے ساتھ برا سلوک کیا ،آپ(ع) ہمیشہ ان سے خوشروئی اور احسان کے ساتھ پیش آتے،مؤ رخین نے آپ(ع)کے عظیم حلم کی متعدد صورتیں روایت کی ہیں۔
ان ہی میں سے ایک واقعہ یوں ہے کہ ایک شامی نے آپ کی مختلف مجلسیں اور خطبات سُنے جس سے وہ بہت متعجب اور متأثر ہوا اور امام(ع) کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا :جب میں نے آپ(ع) کی مجلسیں سنیں لیکن اس لئے نہیں کہ آپ کو دوست رکھتا تھا ،اور میں یہ نہیں کہتا: میں آپ اہل بیت(ع) سے زیادہ کسی سے بغض نہیں رکھتا ،اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ اور امیرالمؤمنین کی اطاعت، آپ(ع) سے بغض رکھنے میں ہے ،لیکن میں آپ کو ایک فصیح و بلیغ، ادیب اور خوش گفتار انسان دیکھتا ہوں،میں آپ(ع) کے حسنِ ادب کی وجہ سے ہی آپ(ع) سے رغبت رکھنے لگاہوں،امام(ع) نے اس کی طرف نظر کرم ولطف سے دیکھا ،محبت و احسان و نیکی کے ساتھ اس کا استقبال کیا، آپ(ع) نے اس کے ساتھ نیک برتاؤ کیا یہاں تک کہ اس شخص میں استقامت آئی ،اس پر حق واضح ہو گیا،اس کا بغض امام کی محبت میں تبدیل ہو گیا وہ امام کا خادم بن گیا یہاں تک کہ اس نے امام(ع) کے قدموں میں ہی دم توڑا،اور اس نے امام علیہ السلام سے اپنی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے وصیت کی،امام(ع) نے اس طرزعمل سے اپنے جد رسول اسلام(ص) کی اتباع کی جنھوں نے اپنے بلند اخلاق کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کوایک دوسرے سے قریب کیا ان کے احساسات اور جذبات کو ہم آہنگ کیا اور تمام لوگوں کو کلمہ توحید کے لئے جمع کیا۔
 
ماخوذ از کتاب:«آئمہ طاہرین(ع) کی سیرت سے خوشبوئے حیات»۔
ابنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15