Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184085
Published : 5/11/2016 17:14

کتاب آثار باقیہ

اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ مصنف محترم نے علماء عامہ کے علاوہ یورپین مؤرخین نے اقوال کو بھی پیش کیا ہے کہ جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر میں علی کو اپنا جانشین بنایا تھا۔

ولایت پورٹل:
مولانا سید اولاد حیدر بلگرامی صاحب کی شہرہ آفاق تصنیف ہے کہ جس کو انہوں نے واقعہ غدیر کے اثبات میں تصینف کیا ہے،یہ کتاب سن 1358 ہجری کو امامیہ مشن لکھنؤ سے شائع ہوئی، یہ ایک ضخیم کتاب ہے کہ جو تقریباً 600 صفحات پر مشتمل ہے۔
اجمالی طور پر اس کتاب کے اہم عناوین کو اس طرح نقل کیا جاسکتا ہے:
مولانا سید اولاد حیدر بلگرامی صاحب نے سب سے پہلے واقعہ غدیر کو خود اہل سنت کے بزرگ علماء کی کتابوں سے نقل کیا ہے،اور اسی طرح روایات اہل سنت کے تناظر میں خلافت بلا فصل امیرالمؤمنین(ع) کو پایہ ثبوت تک پہونچایا ہے،نیز ان اہل سنت علماء کے اسماء کی ایک طویل فہرست بیان کی ہے کہ جو اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ آیہ بلغ«یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک»،غدیر خم میں نازل ہوئی،اور ساتھ ہی ساتھ امام غزالی کا اعتراف بھی نقل کیا کہ جس میں انہوں نے اس امر کا بہ بانگ دہل اعتراف کیا کہ رسول اکرم(ص) نے غدیر خم کے میدان میں علی کی خلافت کا اعلان بھی کیا اور خلیفہ دوم نے مبارک باد بھی دی لیکن بعد میں،کچھ لوگوں پر ہوائے نفس غالب آگئی اور بعض حب دنیا میں گرفتار ہوگئے۔
اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ مصنف محترم نے علماء عامہ کے علاوہ یورپین مؤرخین نے اقوال کو بھی پیش کیا ہے کہ جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر میں علی کو اپنا جانشین بنایا تھا۔
حدیث غدیر کو خود امیرالمؤمنین(ع) کی زبانی بطور شاہد پیش کئے جانے نیز رسول اللہ(ص) کا حسان بن ثابت کو انعام و اکرام سے نوازنے اور خلیفہ دوم کا علی کو «بخ بخ» کہکر مبارکبادینے جیسے دیگر شواہد کو مصنف نے نہایت متین انداز میں بیان کیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19