Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184372
Published : 27/11/2016 8:4

اولاد کی تربیت والدین کا سب سے بڑا امتحان

والدین کا اپنا طرز عمل بچوں کے لئے سب سے بڑا استاد ہے،بچے خاموشی سے اس طرز عمل کو دیکھتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں،اپنے بچوں کو دوستوں کے ساتھ گفتگو کرتے، یا آپس میں کھیلتے اور پلاننگ پر غور کرتے ہوئے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین، رشتہ داروں اور استادوں سے حقیقت میں کیا سیکھ رہے ہیں اور «کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا» کی حیثیت بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔


ولایت پورٹل:
چند سال کا بچہ جب ذرا سمجھ دار ہو جاتا ہے تو وہ ایک چھوٹا سا سائنس دان ہوتا ہے،گھٹنوں کے بل چلنے کی عمر سے لے کر تین چار سال تک وہ ہر نئی چیز تک پہنچنے اور پرکھنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے،اپنی ذہنی استعداد کے مطابق بہت کچھ خود ہی سیکھ اور سمجھ لیتا ہے،یہ وہ ذہنی استعداد ہے جو رحم مادر سے لے کر باہر کا ماحول اسے فراہم کرتی ہے، اس کا لاشعور جو تربیت پا چکا ہوتا ہے وہ شعوری طور پر اس کا اظہار کرنا چاہتا ہے، تاکہ اگلے مرحلے میں وہ مزید اپنے ذہن کی نشوونما کر سکے۔
مسلمان ماؤں کے لئے بچے ہی ان کے امتحانی پرچے ہیں، جس کے جتنے بچے ہیں اس کے اتنے ہی پرچے ہیں اور انہی پرچوں کے نتیجے پر ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے،ان پرچوں کا نتیجہ بھی خود اللہ تعالی تیار کرتا ہے،کامیاب ہونے پر وہ انعام سے نوازے گا اور انعام بھی کیا ہے؟ جنت جیسی عظیم نعمت اور اپنی رضا کی بشارت اور رب سے ملاقات کی نوید ۔
اسکول بھیجنے سے پہلے بچے میں اپنے مسلمان ہونے پر فخر کا جذبہ ضرور پیدا کر دینا چاہئے،اسکول کا ماحول گھر کے اور مسلمان والدین کے ذہن سے مطابقت رکھتا ہو تو بہت خوش نصیبی ہے،ورنہ والدین کو بہت سمجھ بوجھ اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا،دین داری کو احساس کمتری کی علامت و نشانی نہ بنایا جائے،دین اسلام کے بارے میں کسی معذرت خواہانہ طرز عمل سے اسے بچایا جائے،بچے کے دل میں یہ جرأت پیدا کی جائے کہ وہ پورے یقین کے ساتھ جانے اور اظہار کرے کہ اس کا لباس اسلامی ہے اور یہی سب سے بہتر ہے،اس کا طریقہ سب سے اچھا ہے، والدین کے خود اپنے ایمان میں پختگی ہوگی تو وہ اپنے بچے کو بھی یہ چیز بہتر طریقہ سے منتقل کر سکیں گے،بچے کو اتنا طاقتور ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کو دلیل اور شائستگی کے ساتھ بدل دینے کا اور خود کو بہتر راستے پر گامزن رکھنے کا احساس زندہ رکھ سکے۔
مسلمان ہونے پر احساس تشکر و مسرت پیدا کیا جائے،دوسرے مسلمان بچوں کو اپنے اوپر استہزاء کا موقع نہ دیا جائے،بچے کو یہ یقین دلایا جائے کہ جو آپ کا لباس ہے، جو آپ کا طریقہ ہے وہی اللہ تعالی نے بتایا ہے، اللہ تعالی سب سے اچھا ہے، تو اس کا بتایا ہوا طریقہ بھی سب سے اچھا ہے۔
بچے کے دل میں شیطان سے نفرت پیدا کی جائے،ساری گندی باتوں کا سکھانے والا شیطان ہے،وہ ہی اصل دشمن ہے، غصہ، نفرت، عداوت کے تمام احساسات اسی دشمن اور اس کا کہنا ماننے والوں کے خلاف ہوں۔
والدین کا اپنا طرز عمل بچوں کے لئے سب سے بڑا استاد ہے،بچے خاموشی سے اس طرز عمل کو دیکھتے اور اسی پر عمل کرتے ہیں،اپنے بچوں کو دوستوں کے ساتھ گفتگو کرتے، یا آپس میں کھیلتے اور پلاننگ پر غور کرتے ہوئے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین، رشتہ داروں اور استادوں سے حقیقت میں کیا سیکھ رہے ہیں اور «کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا» کی حیثیت بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20