Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184380
Published : 27/11/2016 17:7

خواتین پر تشدد کا عالمی دن،آخر حوا کی بیٹی کو کب سکون ملے گا؟

چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین پر ہونے والے مختلف نوعیت کے تشدد کے واقعات کے سدباب کے لیے نئی قانون سازی کی جائے اور اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، اس حوالے سے سماجی آگہی میں اضافہ بھی سود مند ثابت ہو گا۔


ولایت پورٹل:
آج پوری دنیا میں خواتین پر تشدد کا عالمی دن منایا گیا اور بعض ممالک میں خواتین کے خلاف تشدد کو کنٹرول کرنے کی عالمی مہم کا آغاز کیا گیا کہ جو ۲۶ نوبر سے ۱۰ دسمبر تک جاری رہے گی ،ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد کے رجحان میں سخت قوانین کے باوجود کمی نہیں ہو رہی ہے،گھریلو تشدد پر خاوند کو سخت سزا دئیے جانے کے سلسلے میں ہر ملک میں کچھ خاص قوانین بنائے گئے ہیں ،مگر ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آتا،ہمارے ملک میں خواتین پر تشدد کی صورتحال کیا ہے؟ اس کا اندازہ لگانا بہت سخت ہے لیکن خواتین سے متعلق مسائل پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل واقعات کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے،اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خواتین پر تشدد اور ان کے ساتھ ہونے والی مختلف نوعیت کی زیادتیوں کے واقعات کا ایک بہت بڑا حصہ رپورٹ ہی نہیں ہو پاتا،زیادتی کا شکار خواتین معاشرے میں رسوائی کے ڈر سے یہ زیادتی سہہ جاتی ہیں اور کسی سے اس کا ذکر تک نہیں کرتیں،جبکہ اب تک ایسے واقعات کو معاشرے اور میڈیا کے علم میں لایا جائے گا، اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس قانون سازی اور اقدامات کرنا ناممکن ہو گا، چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین پر ہونے والے مختلف نوعیت کے تشدد کے واقعات کے سدباب کے لیے نئی قانون سازی کی جائے اور اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، اس حوالے سے سماجی آگہی میں اضافہ بھی سود مند ثابت ہو گا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20