Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184381
Published : 27/11/2016 17:15

ٹرمپ مسلمانوں کے ساتھ وہ کریگا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا:ایک خط

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم تین مساجد کو دھمکی آمیز خط موصول ہوئے ہیں جن میں امریکی مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ نو منتخب امریکی ڈانالڈ ٹرمپ مسلمانوں کے ساتھ وہ کریگا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔

 
ولایت پورٹل:کیلیفورنیا کی کئی مسجدوں کو ہاتھ سے لکھے ہوئے خط موصول ہوئے ہیں جن میں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف جبکہ مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکی دی گئی ہے،ڈاون نیوز نے روزنامہ لاس اینجلس ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ کونسل برائے امریکن اسلامک ریلیشنز (سی اے آئی آر)کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے لکھے ہوئے فوٹو کاپی شدہ خطوط گزشتہ ہفتے اسلامک سینٹر آف لانگ بیچ، اسلامک سینٹر آف کلیرمونٹ اور ایور گرین اسلامک سینٹر سینٹ جوز میں بھیجے گئے،خط میں شیطان کی اولادوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور اس پرامریکن فار اے بیٹر وےدرج تھا،سی اے آئی آر کا کہنا ہے کہ خط میں لکھا ہےعلاقے میں نیا پولیس والا آگیا ہے جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے، وہ امریکا کو صاف کردے گا اور اسے دوبارہ شاندار بنائے گا اور وہ اس کی شروعات تم مسلمانوں سے کرے گا،خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ اور وہ تم مسلمانوں کے ساتھ وہ کرے گا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا،سی اے آئی آر لاس اینجلس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حصام ایلوش نے کہا ہے کہ ان نفرت انگیز خطوط کی وجہ سے لاس اینجلس کاؤنٹی میں لوگ بہت دلبرداشتہ ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز انتخابی مہم نے ان کے خود ساختہ حامیوں میں عدم برداشت، نفرت اور اوچھے پن کو ہوا دی ہے،انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ (ڈونلڈ ٹرمپ) نے نسل پرست افراد کو جنم دیا لیکن انہوں نے اسے معمول کا حصہ ضرور بنایا،ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں اور میں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن میں انہیں یاد دہانی کراتا ہوں کہ بطور صدر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر امریکی کے ساتھ برابری کا سلوک کریں،سین جوز پولیس ڈپارٹمنٹ کے ترجمان سارجنٹ اینرک گارشیا نے کہا کہ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس معاملے کو نفرت پر مبنی عمل قرار دیا گیا ہے،واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اعداد و شمار جاری کیے تھے جس کے مطابق2001میں رونما ہونے والے نائن الیون کے واقعے کے بعد سے سال 2015 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد سب سے زیادہ رہی،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کیے جانے والے واقعات کے اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ2014کے مقابلے میں 2015میں نفرت پر مبنی جرائم میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا اور واقعات کی تعداد5479سے 585 تک تجاوز کرگئی،واضح رہے کہ یہ تعداد2000ءکے آغاز میں سامنے آنے والے واقعات سے کافی کم ہے تاہم ایف بی آئی کی یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب صدارتی انتخاب کے بعد امریکا میں قومیت اور مذہب کے نام پر حملوں کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں،8نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد سے امریکا بھر سے نسلی امتیاز اور مذہب مخالف واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں،یارک کاؤنٹی، پنسلوانیا کے ووکیشنل اسکول میں دو طلبا نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نشان شیئر کیا جس پر کسی نےوائٹ پاورکا نعرہ لگایااور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی،سلور سپرنگ، میری لینڈ میں بھی ہسپانوی زبان سکھانے والے کسی ادارے کے بینر کو پھاڑ کر اس پرٹرمپ نیشن،وائٹس اونلی کے الفاظ لکھ دیئے گئے تھے۔
تسنیم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10