Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184390
Published : 29/11/2016 15:8

پیغمبر اکرم(ص) کی بچوں کے ساتھ مہربانی

بچوں کے متعلق اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفٰی (ص) نے والدین کو بہت تاکید فرمائی ہے کہ وہ ان کے ساتھ محبت اور عطوفت سے پیش آئیں،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بچوں سے بہت محبت فرماتے تھے، اور آپ کے اخلاق حسنہ میں سے ایک یہ تھا کہ جب آپ راستہ چلتے تھے تو آپ بچوں کو سلام کرتے ان کے سر پر دست شفقت پھیرتے اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا کرتے تھے۔


ولایت پورٹل:
طفل جس کی جمع اطفال ہے اور عرف اردو میں بچہ یا بچے کہا جاتا ہے ،چنانچہ «بچے» ان کم سن افراد کو کہتے ہیں جن کی عمریں مختلف ممالک کے قوانین  کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں، مثلاً بعض ممالک میں 16 سال تک طفل کہلاتا ہے اور بعض میں 18 سال تک،اسلام میں طفل کا تصور بلوغت تک ہے چاہے وہ 13 سال کی عمر تک ہو چاہے 16 تک، طفل کسی نہ کسی کی اولاد ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان کے والدین پر ہوتی ہے،اگر والدین نہ کر سکیں تو ریاست پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق 18 سال کی عمر تک طفل کہلائے گا، لیکن اگر کسی اور ملک کے قوانین اس سے پہلے اس کا بڑا ہونا مان لیں تو اس ملک کا قانون فوقیت رکھے گا۔
بچوں کے متعلق اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفٰی (ص) نے والدین کو بہت تاکید فرمائی ہے کہ وہ ان کے ساتھ محبت اور عطوفت سے پیش آئیں،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بچوں  سے بہت محبت فرماتے تھے، اور آپ کے اخلاق حسنہ میں سے ایک یہ تھا کہ جب آپ راستہ چلتے تھے تو آپ بچوں کو سلام کرتے ان کے سر پر دست شفقت پھیرتے اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا کرتے تھے،چنانچہ مدینہ کے بچے ہر روز آپ سے ملاقات کرنے کے فراق میں رہتے تھے ،لہذا تعلیم نبوی میں بچوں کے متعلق بہت سے فرامین موجود ہیں جن میں سے تبرکاً و تیمناً دو احادیث آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں ،آپ نے ارشاد فرمایا:«جنت میں ایک گھر ہے جسے دارالفرح (خوشیوں کا گھر) کہا جاتا ہے اس میں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اپنے بچوں کو خوش رکھتے ہیں»۔
ایک اور موقع پر آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ:«وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ عزت و اکرام کا معاملہ نہ کرتا ہو»۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21