Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184400
Published : 29/11/2016 18:32

حضرت امام رضا علیہ السلام کی امامت پر دلائل

یزید ابن سلیط نے حضرت ابوابراہیم علیہ السلام سے مروی ایک طویل روایت میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت(ع) جس سال گرفتار ہونے والے تھے تو آپ(ع)نے فرمایا:«میں اس سال گرفتار کرلیا جاؤں گا اور امر( امامت ) میرے بیٹے کے پاس ہوگا کہ جو علی(ع) ( حضرت امیر(ع)) اور علی(ع) (سید سجاد(ع) کا ہمنام ہے،پہلے علی ،علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں اور دوسرے علی ، علی ابن الحسین(ع) ہیں اسے پہلے علی(ع)(امیرالمؤمنین(ع)) کا فہم ، بردباری ، نصرت و مودت اور دین عطا کیا گیا ہے اور دوسرے علی(ع) ( امام سجاد(ع)) کے مصائب ،ناپسندیدہ امور پر صبر کرنا عطا کیا گیا »۔


ولایت پورٹل:
حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی امامت پر آپ(ع) کے والد گرامی کے جن خواص، قابل وثوق ، اہل تقویٰ ، علم ،فقہ ، اور شیعوں میں سے جن افراد نے   آپ(ع) کی امامت سے متعلق نص اور اشارے روایت کئے ہیں،ان میں سے داود ابن کثیر رقی ، محمد ابن اسحاق ابن عمار ، علی ابن یقطین ، نعیم قابوسی ، حسین ابن مختار ، زیاد ابن مروان ، مخزومی ،اورداود ابن سلیمان ، نصر ابن قابوس ، داود ابن زربی،یزید ابن سلیط اور محمد ابن سنان ہیں۔
داود رقی سے روایت ہے  کہ میں نے ابوابراہیم موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا: میں آپ(ع) پر قربان جاؤ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں ، آپؑ میرا ہاتھ تھام لیجئے اور مجھے جہنم سے بچالیجئے ، آپ(ع) کے بعد ہمارا صاحب ( امام ) کون ہے ؟ راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر آپ(ع) نے اپنے بیٹے ابوالحسن علی(ع) کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا:«میرے بعد یہ تمہارا صاحب ( امامؑ) ہے»۔(۱)
احمد ابن محمد ابن عبد اللہ نے حسن سے انہوں نے ابن ابی عمیر سے انہوں نے محمد ابن اسحاق ابن عمار سے روایت کی ہے کہ میں نے ابوالحسن اول ( امام کاظم(ع)) کی خدمت میں عرض کیا : کیا آپ(ع) مجھے اس شخصیت کی جانب رہنمائی نہیں فرمائیں گے کہ جس سے میں اپنا دین لوں؟پس آپ(ع)نے ارشاد فرمایا:«یہ میرا بیٹا علی(ع) ہے، بے شک ! میرے والد گرامی نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے قبر رسول خدا(ص) پر لے گئے اور فرمایا:« اے میرے بیٹے! اللہ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا ہے :( إنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَليفَةً )( )[میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں ]اور اللہ تعالیٰ جب کوئی وعدہ کرتا ہے تو اسے وفا کرتا ہے »۔(۲)
حسین ابن نُعیم  صحاف بیان کرتے ہیں کہ میں، ہشام ابن حکم اور علی ابن یقطین بغداد میں تھے پس علی ابن یقطین نے ہم سے کہا :میں عبد الصالح ( امام کاظم(ع) ) کی خدمت میں تھا اور آپ(ع) نے مجھ سے فرمایا:«اے علی ابن یقطین! یہ میرا بیٹا علی(ع) میری تمام اولاد کا سید و سردار ہے، اور میں نے اپنی کنیت بھی انہیں عطا کردی ہے۔
یہ سن کر ہشام نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارا اور کہا:«تمہارا بھلا ہو یہ تم نے کیا کہا ؟
علی ابن یقطین نے کہا : خدا کی قسم !جیسا میں نے آنحضرت(ع) سے سنا ویسا ہی تمہارے سامنے بیان کردیا
پس ہشام نے کہا :«خدا کی قسم ! امر امامت آپ(ع) ( امام کاظم(ع)) کے بعد ان (امام رضا(ع))ہی کے لئے ہے۔(۳)
نُعیم قابوسی امام ابوالحسن موسیٰ  علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا:« میرا بیٹا علی(ع) میری اولاد میں سب سے بڑا ہے ، اور میرے نزدیک ان سب سے بااثر اور محبوب ہے ، اور وہ میرے ساتھ جفر میں دیکھتا ہے ، اور اس میں  نبی(ع) یا وصی نبی(ع) کے علاوہ کوئی نہیں دیکھ سکتا»۔(۴)
حسین ابن مختار روایت کرتے ہیں کہ جب امام ابوالحسن موسیٰ علیہ السلام قید خانہ میں تھے تو آپ(ع) کی جانب سے ہمارے پاس کچھ تختیاں پہونچی جن پرلکھا ہوا تھا:«میرا عہد و پیمان میرے بڑے بیٹے کے ساتھ ہے کہ وہ اس طرح ، اس طرح کرے، اور فلاں کو کوئی چیز نہ دے جب تک میں تم سے ملاقات نہ کروں یا خدا وندعالم  میری موت کا فیصلہ نہ کردے »۔(۵)
زیاد ابن مروان قندی روایت کرتے ہیں کہ میں خدمت امام ابوابراہیم (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام )میں شرفیاب ہوا اور آپ(ع) کے پاس آپ(ع) کے فرزند ابوالحسن(ع) تشریف فرما تھے ، پس آپ(ع) نے مجھ سے فرمایا :«یہ میرا وہ بیٹا ہے کہ جس کا خط میرا خط اور جس کا کلام میرا کلام ، جس کا قاصد میرا قاصد ہے  اور یہ جو کچھ بھی کہے تو اسی کا قول حجت ہے »۔(۶)
مخزومی  ۔ ان کی والدہ جعفر ابن ابوطالب(ع) کی اولاد سے تھیں ۔ سے روایت ہے کہ امام ابوالحسن موسیٰ علیہ السلام نے ہمارے پاس پیغام بھیجا اور ہمیں اپنے پاس جمع کیا اور فرمایا:«کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں  اپنے پاس اکٹھا کیاہے؟
ہم نے جواب دیا : نہیں  
 آپ(ع) نے فرمایا:«تاکہ تم گواہ رہو کہ میرا یہ بیٹا میرا وصی ، میرے امر کو قائم کرنے والا ، اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے ،  اور جس کا قرض میری گردن پر ہو تو وہ میرے اس بیٹے سے لے لے ، اور جس سے میں نے کوئی وعدہ کیا ہے اسے یہ پورا کرے گا ، اور جس کا مجھ سے ملنا نہایت ہی ضروری ہو تو وہ اس کے  خط کی وساطت سے مجھ سے ملاقات کرے»۔(۷)
داود ابن سلیمان سے روایت ہے کہ میں نے ابوابراہیم علیہ السلام سے عرض کیا:«میں ڈرتا ہوں کہ کہیں  کوئی حادثہ پیش آجائے اور میں آپ(ع) سے ملاقات نہ کرسکوں ، پس آپ(ع) مجھے یہ بتائیں کہ آپ(ع) کے بعد کون امام ہوگا ؟ آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:«میرا فلاں بیٹا » یعنی ابوالحسن علیہ السلام »۔(۸)
نصر ابن قابوس سے روایت ہے کہ میں نے ابو ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا:میں نے آپ(ع) کے والد گرامی سے پوچھا تھا کہ آپ کے بعد کون امام ہوگا ؟ تو انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ آپ(ع) ہی وہ امام ہیں ، پس جب امام ابوعبداللہ علیہ السلام کی وفات ہوگئی تو لوگ دائیں اور بائیں جانب جاکر بھٹکنے لگے  لیکن میں اور میرے احباب نے آپ(ع) ہی کی امامت پر عقیدہ رکھا،لہذا اب آپ(ع)مجھے بتائیں کہ آپ(ع) کے بیٹوں میں کون آپ(ع) کے بعد امام ہوگا ؟
آپ(ع) نے ارشاد فرمایا :«میرا فلاں بیٹا»یعنی علی(ع)۔(۹)
داود ابن زربی روایت کرتے ہیں کہ میں امام ابوابراہیم علیہ السلام  کی خدمت میں کچھ مال لے کر حاضر ہوا  پس آپ(ع) نے اس میں سے کچھ مال لے لیا اور کچھ چھوڑ دیا ، میں نے عرض کیا : اللہ آپ(ع) کا بھلا کرے ! آپ(ع) نے باقی مال میرے پاس کیوں چھوڑ دیا ؟
 آپ(ع) نے فرمایا:«اس امر کا صاحب اسے تم سے خودلے لے گا»۔
جب آنحضرت(ع) کی شہادت ہوگئی تو امام ابوالحسن رضا علیہ السلام نے میرے پاس کسی کو بھیجا اور مجھ سے اس مال کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے وہ مال آپ(ع) کو دے دیا۔(۱۰)
یزید ابن سلیط نے حضرت ابوابراہیم علیہ السلام سے مروی ایک طویل روایت میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت(ع) جس سال گرفتار ہونے والے تھے تو آپ(ع)نے فرمایا:«میں اس سال گرفتار کرلیا جاؤں گا اور امر( امامت ) میرے بیٹے کے پاس ہوگا کہ جو علی(ع) ( حضرت امیر(ع)) اور علی(ع) (سید سجاد(ع) کا ہمنام ہے،پہلے علی ،علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں اور دوسرے علی ، علی ابن الحسین(ع)  ہیں  اسے پہلے علی(ع)(امیرالمؤمنین(ع)) کا فہم ، بردباری ، نصرت و مودت اور دین عطا کیا گیا ہے اور دوسرے علی(ع) ( امام سجاد(ع)) کے مصائب ،ناپسندیدہ امور پر  صبر کرنا عطا کیا گیا »۔ یہ روایت بڑی طولانی ہے۔(۱۱)
ابن سنان سے روایت ہے کہ میں عراق جانے سے ایک سال پہلے امام ابوالحسن موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ(ع) کے سامنے آپ(ع) کے بیٹے علی(ع) تشریف فرما تھے امام کاظم نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:«اے محمد! عنقریب اسی سال  مجھے سفر درپیش ہوگا  تم اس سے دل تنگ مت ہونا»!
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا:کیا ہوگا ؟ میں آپ(ع)پر قربان جاؤں! آپ(ع) نے مجھے مضطرب کردیا
آپ(ع) نے فرمایا:«میں اس ظالم  کے پاس جاؤں گا، لیکن مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں پہونچے گا اور نہ ہی اس طاغوت سے کہ جو اس کے بعد تخت حکومت پر آئے گا
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا:اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اللہ مجھے آپ(ع) کا فدیہ قرار دے !
فرمایا:«اللہ ظالموں کو گمراہ کرے گا اور اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے»۔
راوی کہتا ہے میں نے عرض کیا : اس کے بعد کیا ہوگا ؟ میں آپ(ع) پر قربان جاؤں !
آپ(ع) نے فرمایا:«جو میرے اس بیٹے کے حق میں ظلم کرے گا  اور میرے بعد اس کی امامت کا انکار کرے گا گویا وہ اس شخص کے مانند ہے کہ جس نے رسول خدا(ص)کی وفات کے بعد علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے حق میں ظلم کیا ہو اور ان کے حق کا انکار کیا ہو»۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا : خدا کی قسم! اگر اللہ نے مجھے طولانی عمر عطا کی تو میں ان کے حق کو ادا کروں گا اور ان کی امامت کا از تہہ دل اقرار کروں گا
یہ سن کر آپ(ع) نے فرمایا :«اے محمد ! تم نے سچ کہا ، اللہ تمہیں  طولانی عمر عطا کرے گا ، اور تم ان ( امام رضا علیہ السلام  ) کا حق تسلیم کروگے اور ان کی امامت کا تہہ دل سے اقرار کرو گے اور یہی نہیں بلکہ تم تو   ان کے بعد آنے والے امام کی امامت کا بھی  اقرار کروگے
وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:وہ کون ہیں؟ ( امام رضا علیہ السلام کے بعد کون امام ہوں گے )
آپؑ نے فرمایا :«ان کے بیٹے محمد(ص)»۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا:میں ان کی امامت کے قبول کرنے پر راضی اور تسلیم ہوں۔(۱۲)
.......................................................................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔الارشاد ج ۲ :ص ۲۴۷ ۔ ۲۴۸
شیخ کلینی (رہ)نے اپنی کتاب کافی ج ۱ :ص ۳۱۲ ، کتاب الحجۃ : باب الاشارۃ و النص علی ابی الحسن الرضا علیہ السلام : حدیث ۳ پر ، شیخ صدوق نے اپنی کتاب العیون  ج ۱ :ص ۳۳ :باب ۴ : حدیث ۷ پر نیز اوی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن  ج ۱ :ص ۱۱۰ :حدیث ۱۹ پر م شیخ طوسی(رہ)نے اپنی کتاب الغیبۃ :ص ۹۴ :حدیث ۹ پر ، خزاز قمی نے اپنی کتاب کفایۃ الاثر :ص ۲۶۹ پر ، فتال نے اپنی کتاب روضہ الواعظین : ص ۲۲۲ پر اور مسعودی نے اپنی کتاب الوصیۃ : ص ۱۹۸ پر اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۲۔سورۃ البقرۃ  آیت :۳۰
۳۔الارشاد : ج ۲ : ص ۲۴۸ ۔ ۲۴۹
اور اسی طرح شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب کافی  کے ج ۱ : ص ۳۱۱ :حدیث ۴ پر ، اور شیخ طوسی نے اپنی کتاب الغیبۃ  : ص ۳۵ : حدیث ۱۰  پر اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۴۔الارشاد : ج ۲ : ص ۲۴۹ اور اس روایت میں بریکٹ کے درمیان  موجود عبارت بھی اسی کتاب سے ہے
اور شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب کافی  ج ۱ : ص ۳۱۱ : حدیث  ۱  پر ،  خزاز قمی نے اپنی کتاب کفایۃ الاثر  :ص ۲۶۷  پر ، شیخ الطائفہ نے اپنی کتاب الغیبۃ  :ص ۳۵ : حدیث ۱۱  پر ، طبرسی نے اپنی کتاب اعلام الوریٰ  : ص ۳۰۳  پر ،  اور صاحب اثبات الوصیۃ نے اپنی کتاب کے : ص ۱۹۶ ۔ ۱۹۷  پر ، اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
اور عنقریب یہ روایت اسی کتاب کے صفحہ ۴۰۳ پر عیون اخبار الرضا علیہ السلام کے حوالہ سے بیان کی جائے گی ۔
علامہ مجلسی(رہ) رقمطراز ہیں:اس روایت میں موجود لفظ " نحلتہ " کے معنی عطا کرنے اور بخشنے کے ہیں ، اور لفظ " الراحۃ " کے معنی  ہاتھ کی ہتھیلی کے ہیں ،اور  ہشام ابن حکم کا اپنے سر پر ہاتھ مارنا  تعجب کی وجہ سے تھا شاید وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ امام کاظم(ع) ہی  امام قائم ہیں جیسا کہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کا ماننا تھا ، یا سر پر ہاتھ مارنا  اظہار افسوس کے لئے تھا  چونکہ امام ؑ کا کلام  آپ(ع) کی وفات کے قریب ہونے کی طرف اشارہ کررہا تھا خصوصاً  اس وقت کہ جب آپ(ع) اپنی کنیت بھی اپنے بیٹے کو عطا کرچکے ہو، اور اس روایت میں موجود  لفظ " ویحک " کے بارے میں کہا گیا ہے کہ  یہ لفظ تعجب کے لئے آیا ہے اور  اس کو بربناء تقدیر حرف ندا منصوب پڑھا جائے گا،جوہری کہتے ہیں کہ لفظ " ویح " رحمت کے لئے اور " ویل " لعنت و عذاب کے لئے آتا ہے ، زبیدی کہتے ہیں : کہ یہ دونوں لفظ " ویح ، ویل " دونوں ایک ہی معنی کے لئے آتے ہیں  ، آپ کہو گے " ویح لزید " اور " ویل لزید " یعنی زید کا برا ہو  اور ان کو مبتداء مان کر  مرفوع بھی  پڑھا جاسکتا ہے اور ان سے پہلے فعل کو مقدر مان کران کو منصوب بھی پڑھا جاسکتا ہے ۔( مرآۃ العقول : ج ۳ :ص ۳۴۱)۔     
۵۔الارشاد : ج ۲ : ۲۴۹
الکافی :ج ۱ :ص ۳۱۱ : حدیث ۲ ، غیبۃ الطوسی : ص ۳۶ :حدیث ۱۲ ، بصائر الدرجات  ج ۳ : ص ۱۵۸ : باب ۱۴ : حدیث ۲۴ پر نعیم ابن قابوس سے ، الخرائج ج ۲ : ص ۸۹۷ ، مناقب ابن شہر آشوب ج ۴ :ص ۳۹۷ ، اعلام الوریٰ ج ۲ :ص ۴۴ ، اور اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن  ج ۱ : ص ۳۰۴ ، عیون المعجزات : ص ۱۱۰ ،اثبات الوصیۃ : ص ۱۹۶ پر نصر ابن قابوس سے
ملاحطہ کریں  رجال الکشی : ص ۴۵۰ : اور عنقریب یہ روایت اس کتاب (کشف الغمہ)کے ۸۴۸ ، اور صفحہ ۴۰۳ پر عیون اخبار الرضا علیہ السلام کے حوالہ سے نقل ہوئی ہے۔
 ۶۔الارشاد : ج ۲ :ص ۲۵۰۔
۷۔الارشاد ج ۲ : ص ۲۵۰ اور اس کتاب میں"  اس کا قول حجت ہے " کی جگہ " اس کا قول میرا قول ہے " مکتوب ہے  ۔
شیخ کلینی(رہ) نے اپنی کتاب الکافی ج ۱ : ص ۳۱۲  پر ، شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب العیون  ج ۱ : ص ۳۹ : باب ۴ : حدیث ۲۵ پر ، اور اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن  کی ج ۱ : ص ۱۳۵ : حدیث ۳۷ پر ، شیخ الطائفہ نے اپنی کتاب الغیبۃ : ص ۳۷ : حدیث ۱۴ پر ، فتال نے اپنی کتاب روضۃ الواعظین : ص ۲۲۲ پر ، شیخ طبرسی نے اپنی کتاب اعلام الوریٰ ج ۲ : ص ۴۵ پر اور اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن میں ج ۱ :ص ۳۰۴ پر ، صاحب الوصیۃ نے اپنی کتاب کے :ص ۱۹۷ پر اس روایت کو نقل کیا ہے ۔  
۸۔الارشاد ج ۲ : ص ۲۵۰ ۔ ۲۵۱
شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب الکافی ج ۱ : ص ۳۱۲ : حدیث ۷ پر ، شیخ صدوق نے اپنی کتاب العیون  ج ۱ : ص ۳۶ : باب ۴ : حدیث ۱۴ پر اور اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن ج ۱ : ص ۱۲۱ : حدیث ۲۶ پر ، شیخ طوسیؒ نے اپنی کتاب الغیبۃ  :ص ۳۷ : حدیث ۱۵ پر ، اور طبرسی نے اپنی کتاب اعلام الوریٰ ج ۲ : ص ۴۵ پر اور اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن ج ۱ : ص ۳۰۴ پر اس روایت کو نقل کیا ہے
علامہ مجلسی رقمطراز ہیں:  اس روایت میں موجود عبارت " الا بکتابہ " میں ضمیر " ہ " امام رضا علیہ السلام کی طرف پلٹتی ہے جس کا معنی یہ ہے کہ جس کو بھی مجھ سے ملاقات کرنا ہو تو وہ ان کے تحریر کردہ مکتوب کے ذریعہ مجھ سے ملے چونکہ شدت خوف اور تقیہ کے سبب ان کا مکتوب مجھ سے ملنے کی اجازت کی دلیل  ہے ، اور دوسری وجہ یہ کہ یہ ( امام رضاؑ) بہتر جانتے ہیں کہ کس شخص کا میرے پاس آنا مناسب ہے اور کس کا مناسب نہیں ہے ، اور مرجع ضمیر کے سلسلہ میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر اسم موصول " من " کی طرف پلٹۓ گی  یعنی جو مجھ سے ملنے کا مشتاق ہوتو وہ ہرگز مجھ سےنہ ملے بلکہ مجھے خط لکھ کر اپنا مدعا بیان کرےتو ایسی صورت میں اس امر پر ملاقات کا اطلاق بصورت مجاز ہوگا ، لیکن مرجع ضمیر کے سلسلہ میں اور بھی احتمال ہوسکتے ہیں ۔ (مرآۃ العقول : ج ۳ : ص ۳۴۴ ۔ ۳۴۵) ۔  
۹۔الارشاد ج ۲ : ص ۲۵۱
شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب الکافی ج ۱ : ص ۳۱۳ : حدیث ۱۱ پر ، اور شیخ طوسیؒ نے اپنی کتاب الغیبۃ  :ص ۳۸ : حدیث ۱۶ پر اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
( )الارشاد ج ۲ : ص ۲۵۱ ، اس کتاب میں " یعنی علی " مکتوب نہیں ہے ۔
شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب الکافی ج ۱ :ص ۳۱۳ : حدیث ۱۲ پر ، شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب العیون ج ۱ : ص ۳۹ : باب ۴ : حدیث ۲۶ پر اور اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن ج ۱ : ص ۱۳۶ : حدیث ۴۸ پر ، شیخ کشی نے اپنی کتاب رجال الکشی  :ص ۴۵۱ : حدیث ۸۴۹ پر نصر ابن قابوس کے حالات زندگی میں ، شیخِ الطائفہ نے اپنی کتاب الغیبۃ : ص ۳۸ : حدیث ۱۷ پر ، اور اثبات الوصیۃ کے مؤلف نے اپنی اسی  کتاب کے ص ۱۹۷  پر اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
۱۰۔الارشاد ج ۲ : ص ۲۵۲
شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب الکافی ج ۱ :ص ۳۱۳ :حدیث ۱۳ پر ، شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب العیون ج ۲ : ص ۲۳۷ : باب ۴۷ :حدیث ۳۲ پر ، کشی نے اپنی کتاب رجال : ص ۳۱۳ : حدیث ۵۶۵ پر ، شیخ طوسیؒ نے اپنی کتاب الغیبۃ :ص ۳۹ : حدیث ۱۸ پر ، ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب المناقب ج ۴ : ص ۳۹۷ پر ، اثبات الوصیۃ کے مؤلف نے اپنی اسی کتاب : ص ۱۹۷ پر اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
۱۱۔الارشاد ج ۲ : ص ۲۵۲
اس روایت کو شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب کافی ج ۱ :ص ۳۱۵ پر حدیث نمبر ۱۴ کے ضمن میں ، ابن بابویہ نے اپنی کتاب " الامامۃ والتبصرۃ من الحیرۃ " کے : ص ۲۱۷ پر حدیث نمبر ۶۸ کے ضمن میں ، شیخ طوسیؒ نے اپنی کتاب الغیبۃ : ص ۴۰ : حدیث ۱۹ پر ، اور کشی نے اپنی رجال : ص ۴۵۲ : حدیث ۸۵۴  نقل کیا ہے ۔  
۱۲۔الارشاد ج ۲: ص ۲۵۲ ۔ ۲۵۳  اور اس کتاب میں  "( . . .  لایندانی منہ سو  ء ٌ ولا من الذی یکون  . . . .  ) مکتوب ہے ۔
شیخ کلینیؒ نے اپنی کتاب کافی ج  ۱ : ص ۳۱۹ : حدیث ۱۶  پر ، شیخ صدوقؒ نے اپنی کتاب العیون  ج  ۱ :ص ۴۰ : باب ۴ :حدیث ۲۹ پر ،  اور اسی طرح اسی کتاب کے تحقیق شدہ ایڈیشن کی ج  ۱ : ص ۱۴۱ : حدیث ۴۱ پر ، کشی نے اپنی کتاب رجال الکشی  : ص ۵۰۸ : حدیث ۹۸۲ پر ، شیخ الطائفہ نے اپنی کتاب الغیبۃ : ص ۳۲ : حدیث ۸ پر اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
علامہ مجلسیؒ رقمطراز ہیں : کہ  لفظ " اقلقنی " کے معنی یہ ہے کہ اس نے مجھے  مضطرب اور پریشان حال کردیا ، اور  لفظ " الطاغیۃ " میں "  ۃ  " مبالغہ کے لئے آئی ہے ، اور قاموس میں طاغیہ کے معنی ظالم و جابر اور احمق و متکبر کے ہیں ، لغوی بحث تمام ہوئی  ۔۔
 اس لفظ "  الطاغیۃ  "  سے مراد مہدی عباسی اور اس کے بعد تخت حکومت پر آنے والا ہادی عباسی ہے
اور راوی کے بیان میں " وما یکون  " ( یعنی بعد میں کیا ہوگا ) سے مراد :  شاید جب  امامؑ کی گفتگو سے اس امر کا احساس ہوا کہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور سے آپؑ کو  کوئی نقصان پہونچے گا تو ان دونوں سے رہائی ملنے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کے متعلق سائل نے امامؑ سے سوال کیا  ، لہذا امامؑ نے نہایت ہی مختصر جواب دیا  کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کے بعد ایک شقی سے سلب توفیق کرلے گا اور وہ ہارون ہوگا  کہ جو مجھے درپردہ شہید کرے گا اور بہت سے واقفیۃ (ایک ایسا فرقہ ہے کہ  جو امام کاظم ؑ کی شہادت کے بعد امام رضا علیہ السلام کی امامت کو قبول نہیں کرتا  اور جس  کا ماننا ہے  کہ امام کاظم ؑ ہی وہ مہدی موعود ہیں کہ جو قیامت سے پہلے ظہور کریں گے ) کی گمراہی کا سبب بنے گا ، جبکہ دوسرا احتمال یہ ہے کہ فقط  آخری امر( واقفیہ کی گمراہی )  کی طرف اشارہ ہو ، اور  کہا گیا ہے کہ روایت میں موجود " منہ " میں ضمیر کا مرجع ہادی ہے ، اور امامؑ کے اس فرمان میں " من الذی یکون بعدہ " سے مراد یہ ہے کہ اس سے مجھے کوئی نقصان پہونچے یہ بعید ہے ، اور کتاب الارشاد اور اعلام الوریٰ میں " ولا من الذی " مکتوب ہے  ، امامؑ کے فرمان میں اس عبارت کے موجود ہونے  کا احتمال نہیں ہے  ۔
دوسرے یہ کہ اس کتاب کے اکثر نسخوں میں  " یندانی " نون کے ساتھ مکتوب ہے یعنی اس کی جانب سے مجھے ابتداءاً   کوئی نقصان نہیں پہونچے گا جبکہ بعض دوسرے نسخوں میں باء کے ساتھ مکتوب ہے کہ جس کو " یُبدَأُ " بصورت مجہول پرھا جائے گا اور اس صور ت میں ظرف " سو ء ٌ " اس کا نائب فاعل ہوگا اورعربی میں اس طرح  کہا جاتا ہے " بدأہ  و أبدأہ "یعنی کسی کام کی ابتداء کرنا جبکہ ایک قول یہ بھی  ہے کہ "  یبدأ " مادہ " البدو " سے ہے جس کے معنی ظاہر اور واضح ہونے کے ہیں  اورباعتبار معنی  یہ احتمال  عربی اسلوب بیان  سے بعید  ہے ۔ ( مرآۃ العقول : ۳ : ص۳۷۱ ) ۔
اور صاحب معالم کے پوتے شیخ علی نے بھی  درالمنثور  ج ۱ : ص ۴۸  کے حاشیہ  پر اس حدیث کے معنی کئے ہیں۔   
کتاب:کشف الغمۃ ،محدث جلیل القدرشیخ عیسی اربیلی
ترجمہ:سجاد ربانی
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19