Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184417
Published : 1/12/2016 17:6

ہجرت کے فوائد و برکات

ہجرت کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ایک شخص کو بندگی الھٰی کے کئے بہترین جگہ مل جاتی ہے،جہاں رہ کرتمام دستورات اسلامی پر عمل کر سکتا ہے،ہجرت کے دوسرے فوائد یہ ہو سکتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں تغییر و تحّول ایجاد ہو،مختلف شعبوں میں ترقی ہو،اسلامی ثقافت کی فروغ کے مختلف راستوں کا کھلنا،اصلاحات کے مختلف راستے پیدا ہونا،حیات بشری میں مادی ترقی ہونا وغیرہ۔


ولایت پورٹل:
ہجرت کے لغوی معنیٰ ہیں«ایک چیز کا کسی  دوسری چیز سے جدا ہونا»اسی لئے وطن کو ترک کرنے کو ہجرت کہتے ہیں کیونکہ اس میں انسان اپنی سرزمین سے جدا ہو جاتا ہے۔
ہجرت کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن قرآن کریم ہجرت کو ایک نیکی کے طور پر یاد کر رہا ہے کہ جو خداوند عالم کی رضایت کی خاطر انجام دی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی شخص اپنے دین کو محفوظ کر سکے اور اس پر عمل کر سکے۔
اسلام اور ہجرت:
قرآن کریم نے ہجرت کو مقدس اور محبوب کام مانا ہے،سورہ النساء کی سو نمبر آیت (۱)میں اور اسی جیسی دیگر آیات میں مسلمانوں کو اپنے دین کی حفاظت کی خاطر ہجرت کا حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی ایسی جگہ ہو جہاں دینی دستورات پر عمل نہیں کر سکتے ہو تو کسی اور جگہ ہجرت کر جاؤ  اس لئے کہ اسلام کسی خاص مکان سے محدود نہیں ہے،اس بات سے یہ مفہوم روشن ہو جاتا ہے کہ اپنے وطن کی محبت یا اپنی جائے ولادت سے محبت دینی امور میں رکاوٹ نہیں  بننا چاہئے، اور ایک مسلمان کے لئے ان حالات سے بچنے کے لئے ہجرت نہ کرنے کا عذر نہیں بننا چاہئے۔
ہجرت بندگی کے لئے:
انسان کی خلقت کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی تمام عمر بندگی میں بسر کرے اور اگر  وہ کسی ایسی جگہ ہو جہاں رہ کر بندگی نہ کی جا سکے اور اس جگہ رہ کر وہ اپنے خلقت کے مقصد تک نہ پہنچ سکے تو اسے چایئے کہ وہ  اس جگہ کو چھوڑ دے اور ہجرت کر جائے،کیونکہ خدا کی زمین وسیع ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ وہاں رہے جہاں رہ کر اس مقصد میں کامیاب ہو سکے۔اس موقع کے لئے قرآن کہ رہا ہے:«إِنَّ الَّذينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظالِمي‏ أَنْفُسِهِمْ قالُوا فيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفينَ فِي الْأَرْضِ قالُوا أَ لَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فيها فَأُولئِكَ مَأْواهُمْ جَهَنَّمُ وَ ساءَتْ مَصير»(۲)
ترجمہ:ملائکہ کچھ لوگوں کی جان نکالیں گے در حالی کہ وہ  اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے انسے پوچھا جائے گا تم کیا  کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم زمین پر ضعیف بنا دئے گئے تھے تو ملائکہ کہیں گے کہ کیا خدا کی زمیں اتنی وسیع نہیں تھی کہ تم ہجرت کر جاتے۔
لہذا قوم و قبیلہ، گھر اور  وطن کے لئے دستورات اسلامی کو نہیں چھوڑا جا سکتا،اس لئے راہ بندگی میں ہجرت ایک پسندیدہ عمل ہے۔

ہجرت کے مناسب اوقات:
البتہ ہجرت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ پریشانیوں  اور مشکلات سے بھاگا جائے اور دشمن کے لئے میدان کھلا چھوڑ کہ چلے آیا جائے،بلکہ سورہ نحل کی ۴۱  نمبر آیت سے یہ  بات سمجھ میں آتی ہے کہ مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد اور صبر کرنے کے بعد اگر کوئی چارہ نہ بچے تب ہجرت کرے۔(۳)   ان مشکلات کا سامنہ کرنے کا نام ہی جہاد ہے۔
تاریخ اسلام میں ہجرت اور جہاد  کا کردار:
تاریخِ اسلام کے مطالعہ کے بعد یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ ،اسلام کے فروغ میں «ہجرت» اور «جہاد» کا نمایاں کردار رہا ہے،اسلام کی کامیابی کے یہ دو بنیادی عنصر ہیں جن کی بنا پر اسلام دنیا بھر میں پھیلا،اسی طرح آج  بھی اسلام کی تبلیغ اور بقاء کے لئے، اسلام کے راستوں سے موانع دور کرنے کے لئے اور پوری دنیا میں اسلام کا پیغام نشر کرنے کے لئے «ہجرت» اور «جہاد»بہت ضروری عناصر ہیں۔ جس طرح سے ہجرت کا صحیح معنیٰ اور مفہوم واضح ہونا ضروری تھا ویسے ہی «جہاد» کا صحیح معنیٰ اور مفہوم واضح ہونا ضروری ہے ۔
ہجرت کے نتائج اور فوائد:
ہجرت کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ایک شخص کو بندگی الھٰی کے کئے بہترین جگہ مل جاتی ہے،جہاں رہ کرتمام دستورات اسلامی پر عمل کر سکتا ہے،ہجرت کے دوسرے  فوائد یہ ہو سکتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں تغییر و تحّول ایجاد ہو،مختلف شعبوں میں ترقی ہو،اسلامی ثقافت کی فروغ کے مختلف راستوں کا کھلنا،اصلاحات کے مختلف راستے پیدا ہونا،حیات بشری میں مادی ترقی ہونا وغیرہ۔
نتیجہ:
ہجرت ایک ممدوح دینی اور عقلی کام ہے،لہذا نبی اکرم(ص) نے اسلام کی خاطر  مکہ مکرمہ سے  یثرب(مدینہ منورہ)  کی جانب ہجرت فرمائی اور اس طرح دینِ مبینِ اسلام کی بقاء کا سامان فراہم کیا۔
..................................................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔«وَ مَنْ يُهاجِرْ في‏ سَبيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُراغَماً كَثيراً وَ سَعَةً وَ مَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَ كانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحيماً»۔(سورہ نساء:۱۰۰)
۲۔سورہ  النساء: ۹۷۔
۳۔«وَ الَّذينَ هاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَ لَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُون»۔(سورہ نحل:۴۱)


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16