Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184418
Published : 1/12/2016 17:23

شب ہجرت کا مختصر تعارف

کفار قریش کو جب خبر ملی کہ مدینہ کے لوگوں نے پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ بیعت کر لی ہے تو ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور انہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔


ولایت پورٹل:
مدینہ کے لوگوں نے بعثت کے تیرہویں سال مکہ میں رسول خدا (ص) کی بیعت کی اور کہا کہ آپ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئیں اور انہوں نے وعدہ کیا کہ مدینہ میں وہ لوگ اپنی جان و مال کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے، یہ معاہدہ کرنے کے بعد مدینہ کے لوگ مدینہ واپس آگئے۔
کفار قریش کو جب اس معاہدہ کی خبر ملی تو ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور انہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو قتل کرنے کیلئے ہر قبیلہ سے ایک آدمی کو منتخب کیا تاکہ ان کے خون کا بدلہ تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے اور پیغمبر اکرم (ص) کا خاندان کسی سے بھی بدلہ نہ لے سکے۔
ان لوگوں نے ربیع الاول کی پہلی رات کو پیغمبر اکرم (ص)کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور یہ طے کیا کہ جب پیغمبر اکرم (ص)بستر  پر سو جائیں گے تو ان کو قتل کردیں گے ۔ خداوند عالم نے پیغمبر اکرم (ص) کو ان کے اس ارادہ سے باخبر کردیا اور یہ آیت:«وَ إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَ يَمْكُرُونَ وَ يَمْكُرُ اللَّهُ وَ اللَّهُ خَيْرُ الْماكِرين»۔(۱) نازل ہوئی اور پیغمبر اکرم (ص) کو حکم ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر سلا کرمکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کریں۔
پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ آج کی رات آپ میرے بستر پر سوئیں اور میں یہاں سے چلا جاؤں،حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا:یا رسول اللہ (ص) اگر میں آپ کے بستر پر سوجاؤں تو کیا آپ کی جان بچ جائے گی؟ فرمایا: جی ہاں! اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا:«الحمد للہ الذی جعل نفسی وقاء لنفس رسول اللہ » اور سجدہ شکر ادا کیا،رسول اکرم (ص) آپ سے مل کر بہت روئے۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور رسول اکرم (ص) کا ہاتھ پکڑ کر ان کو گھر سے باہر لے گئے۔ پیغمبر کرم (ص) نے اس آیت:«وَ جَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْديهِمْ سَدًّا وَ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْناهُمْ فَهُمْ لا يُبْصِرُون»۔(۲)کی تلاوت فرمائی اور گھر سے نکل گئے اس کے بعد غار ثور میں تشریف لے گئے اور تین دن تک وہاں رہے، چوتھے دن مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور ۱۲ ربیع الاول کو مدینہ پہنچے (۳)۔
.............................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ سورہ انفال، آیت ۳۰۔
۲۔سوره یس ، آیت ۹۔
۳۔حوادث الایام، ص ۷۷۔


 




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20