Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184428
Published : 1/12/2016 19:15

بیوی پر شوہر کےحقوق(۲)

اے محترم خاتون !اگر تمهارا شوهر یہ جان لے که تم اس کو نهیں چاهتی هو تو اس کا دل تمہاری بنسبت تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہے ، اور اس کا دل زندگی اور کسب معاش میں نہیں لگے گا اور پھر وہ پریشانیوں اور نفسیاتی بیماریوں میں گرفتار هوجا ئے گا ،گھر اور زندگی سے کترانے لگے گا اور زندگی کے میدان میں حیران و سرگراں نظر آئے گا ، نیز یہ بھی ممکن هے کہ وہ مجبوری کے تحت فتنه اور فساد کے مراکز کی طرف رخ کرلے، اور اپنے تئیں یہ فکر پروان چڑھائے که میں کیوں تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کروں اور اپنی محنت کی کمائی کو ایسے افراد کے حوالہ کردوں جو مجھے نہیں چاہتے؟


ولایت پورٹل:
خداوندعالم نے عورت اور مرد کے وجود کو ایک دوسرے کے لئے لازم قرار دیا ہے کہ جن کے سبب یہ قافلہ انسانیت اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور اس طویل سفر میں ایک دوسرے کے ذمہ کچھ حقوق اور فرائض رکھے ہیں لہذا ہم اس سیریز میں خواتین کے ذمہ شوہر کے حقوق پر مشتمل اپنی گفتگو کے دوسرے مرحلے میں سب سے اہم جزء کا تذکرہ کررہے ہیں،ہماری گفتگو کی پہلی کری کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بیوی پر شوہر کےحقوق(۱)
۲۔محبت
سب لوگ دوستی اورمحبت کے  پیاسے ییں ، اور دوسروں کی  نظروں میں محبوب اور عزیز بن کر رہنا چاہتے ہیں، محبت ہی کے سبب انسان کا دل زنده هے ، اور اگر  کوئی  یہ جان لے کہ وه کسی کا  بھی محبوب نہیں بن سکا  تو وه خود کوتنها اور بے کس محسوس کرتا هے اور  همیشه افسردہ اور غمزدہ رہتا ہے،محترم خاتون !آپ کا میاں بھی  اس فطری احساس سے خالی نهیں ہے ، وه بھی  عشق و محبت کا پیاسا هے. شادی سے  پهلے تو وه اپنے  والدین کی والہانہ شفقتوں کے سایہ میں رہتا تھا لیکن جب سے آپ کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا  عهد وپیمان کیا هے  اس نے اپنے  وجود کو  آپ کے حوالہ کردیا ہے  نیز  آپ سے یہ توقع  رکھتا ہے که اسے اس کے  والدین کی کمی کا احساس نہ ہونے دیں  اور اپنے  دل کی تمام  گهرائیوں   کے ساتھ اس  سے  محبت کریں ، اس نے دوسروں سے رشتہ توڑ کر آپ کے ساتھ ناتہ جوڑا ہے اوریہ توقع رکھتا ہے  که آپ تنہا اسے سب   اقرباء کے برابر پیار کریں،  وه دن رات آپ کی  راحت اور بھلائی کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتا ہے اور اپنے  هاتھوں  کی تمام  کمائی کو اخلاص  کے ساتھ آپ کے سامنے لاکر رکھ دیتا ہے،وه  آپ کی زندگی کا  شریک ، حقیقی مونس و غمخوار هے، بلکہ آپ کے ماں باپ سے زیادہ وہ آپ کی سعادت اور خوشی کاخواہشمند ہے  لہذا  اس کی قدر کر یں  اور دل کی گهرائی سے  اس سے  محبت کریں ، اگر آپ نے اس اس سے  محبت کی  تو وه بھی آپ کو کبھی نہیں بھولے گا   کیونکه محبت،  دو طرفه رابطہ کا نام ہے کہ جو دو دلوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے ، کسی کے ساتھ ہمدردی اور اس کی بنسبت محبت کا اظہار  کرنا در حقیقت معجزہ کا کام کرتا ہے۔
ایک بیس سالہ دیہاتی  جوان جو پڑھنے کے لئے تهران آیا تھا  اپنی  انتالیس (39) ساله مکان مالکن (کہ جو ایک بیوہ  خاتون تھی)سے محبت کرنے لگا، کیونکه اس خاتون نے  اپنی مهربانیوں کے سبب اس کے دل میں   ماں کا مقام حاصل کرلیا تھا اور ماں سے جدائی کے خلاء کو پر کردیا تھا۔(۱)
اگر محبت کا رشتہ دونوں طرف سے هو تو ازدواجی زندگی کی بنیاد مزید مستحکم و  مضبوط هوجاتی هے  اور جدائی کا خطره ٹل جاتا هے اے محترم خاتون ! تم  کبھی یہ غرور مت کرنا که میرا شوہر پہلی  ہی نظر سے مجھے پسند کرتا ہے اور اس کا عشق همیشه پائیدار رهے گا ، کیونکه جو عشق ایک نگاه سے  آجاتا هے  وه همیشه نهیں رہتا ، اور  اگر یہ  چاهتی هو که اس کا عشق پائیدار رهے تو دائمی محبتوں کے ذریعہ اس کی حفاظت کرو اور اگر تم اپنے شوہر سے دوستی اور محبت  کرلو تو همیشه اس کا دل  شاد و آباد رہے گا ،کسب  معاش کا جذبہ اور زندگی سے  لگاؤ بڑھے گا  اور تمام کاموں میں اسے کامیابی ملے گی  اگروہ یه جان لے  که وہ اپنی بیوی کی نظروں میں واقعی محبوب ہے تو وه جانثاری کی حد تک اپنے خاندان کے لئے  بھلائی اور سعادت  فراہم کرنے کی  کوشش کرنے  کو تیار هوجاتا هے اور  جس مردکو قلت  محبت کا احساس نه هو تو وہ بهت هی کم،  کسی روحی اور نفسیاتی بیماری میں مبتلا هوتا ہے۔
اے محترم  خاتون !اگر تمهارا شوهر یہ  جان لے که تم اس کو  نهیں چاهتی هو تو اس کا دل تمہاری بنسبت  تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہے ، اور اس کا دل  زندگی اور کسب معاش  میں نہیں لگے گا  اور پھر وہ پریشانیوں اور نفسیاتی بیماریوں میں  گرفتار هوجا ئے گا ،گھر اور زندگی سے کترانے لگے گا  اور زندگی کے  میدان میں حیران و  سرگراں نظر آئے گا ، نیز یہ بھی ممکن هے کہ وہ مجبوری کے تحت فتنه اور فساد کے  مراکز کی طرف  رخ کرلے، اور اپنے تئیں یہ فکر پروان چڑھائے که میں کیوں تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کروں اور اپنی محنت کی کمائی کو ایسے افراد کے حوالہ کردوں جو مجھے نہیں چاہتے؟  لهٰذا میرے لئے  بهتر یہ ہے  که میں عیاشی اور آوارگی کروں اور اپنے  لئے حقیقی دوست  تلاش کروں، اے  محترم  خاتون! محبت کی ڈور کو  اپنے شوهر کی کمر پر ڈال دو اور اسی کے  ذریعه اسے گھر اور خاندان کی طرف راغب کرو ! ممکن هے تم  اپنے  شوهر کو دل سے چاهتی هو لیکن تنہا دل سے محبت کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ زبان کے ذریعہ اس مخفی محبت کا اظہار لازمی ہے اور بلکہ تمہاری  رفتار ، گفتار اور حرکات  و سکنات سے عشق و محبت کے  آثار نمایاں هونے چاہیئے ، بھلا اس بات میں کیا قباحت ہے کہ جو تم کبھی کبھی اس سے یہ کہہ دو : میرے ہم سفر واقعاً میں آپ کو  دل سے چاہتی ہوں ؟ اگر وہ سفر سے واپس آئے تو نیا لباس یا کوئی گل دسته اس کو تحفہ میں پیش کرو اور کهو:اچھا  هوا که آپ لوٹ آئے  کیونکه میرا دل آپ کی طرف سے بہت بے چین تھا ، اور  جب  وہ سفر میں  هو تو اسے خط لکھو اور اس کی جدائی اور فراق میں دل تنگی کا اظهار کرو . اور اگر تمہارے  شوهر کے  کام کرنے کی جگه ٹیلیفون هو  تو کبھی کبھی ٹیلیفون  پر اس کی خیریت معلوم کرلو  لیکن یہ عمل زیادہ مقدار میں نہ ہو بلکہ جب وہ کبھی دیر تک کام میں مشغول ہو اور دیر میں گھر پہونچے تو اس کے سامنے یہ اظهار کرو: کہ میں آپ کا بڑا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی اور آپ کے  دیر میں گھر لوٹنے کو لے کر پریشان تھی۔
اس کی غیر موجودگی میں ، دوستوں  اور رشته داروں کے سامنے اس کی تعریف کرو  اور کہو :واقعاً  میرا شوهر بہت  اچھا انسان  ہےمیں  اسے دل سے  چاهتی هوں  اگر کوئی اس میں عیب نکالے تو تم اس کا  دفاع کرو ،تم  جتنا اس سے  اظهار عشق و محبت کروگی اتنا زیاده اسے تم سے محبت هوگی ، جس کے  نتیجه میں  تمهاری ازدواجی زندگی کا عهد و پیمان زیاده مضبوط هوگا اورتمہارا گھرانہ مزید خوشیوں سے بھر جائے گا۔
شکسپیر کا کهنا هے: عورت کی جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا اور میرے  دل کو مسخر کیا ہے  وه اس کی مہربانی اور محبت ہے نه اس کی خوبصورتی،میں اس عورت کو زیاده پسند کرتا هوں جو زیاده مہربان ہو،  
میان بیوی کی درمیان موجود محبت و دوستی کو الله تعالیٰ نے اپنی  نشانیوں میں سے قرار دیا ہے  اور اس کی طرف اشاره کرتے ہوئے  قرآن  مجید میں ارشاد فرماتا هے:اور خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے  تمہاری جنس ہی میں سے  تمہارا جوڑا پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبان فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں»۔(۲)
حضرت امام علی رضا علیہ السلام ارشاد  فرماتے هیں :«بعض خواتین کا وجود  اپنےشوہروں کے لئے بهترین غنیمت هے جو خواتین شوہروں سے  عشق و محبت کا اظهار کرتی هیں»۔(۳)
اورپیغمبر اکرم(ص)کا فرمان هے :«تم میں  بهترین خواتین وه هیں کہ  جن میں  عشق و محبت پائی جائے»۔(۴)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:«اگر تم کسی کو چاہتے ہو تو اسے خیر پہونچاؤ»۔(۵)
...........................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ اطلاعات 20، اسفند  1348، شمارہ ، 13140 ۔
۲۔ سورہ روم، آیت 21۔
۳۔ مستدرک ج 2 ، ص 532۔
۴۔ بحارالانوار ج 103 ، ص 235۔
۵۔ بحار الانوار ج 74 ، ص 181 ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19