Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184437
Published : 3/12/2016 19:15

امریکہ ہرگز قابل اعتماد نہیں ہے(ایک تجزیہ)

ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیوں میں توسیع سے عالمی برادری کی نظر میں امریکی حکومت بے اعتبار ہوگئی ہے۔


ولایت پورٹل
:ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیوں میں توسیع سے عالمی برادری کی نظر میں امریکی حکومت بے اعتبار ہوگئی ہے،یہ بات اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے آج صبح دہلی پہنچ کر کہی،محمد جواد ظریف نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیوں میں توسیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جامع ایٹمی معاہدے کے برخلاف عمل کررہا ہے۔ واضح رہے امریکہ کی سینیٹ نے جمعرات کو ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون میں مزید دس برس کی توسیع کردی ہے،ایک نقطہ نظر سے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں طے پانے والا ایٹمی معاہدہ جامع مشترکہ ایکشن پلان ایک موقع ہے لیکن یہ موقع ایران کی اپنے حقوق اور اصولی مواقف سے پسپائی کے معنی میں نہیں ہوسکتا،جامع مشترکہ ایکشن پلان کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ یہ ایک معاہدہ ہے جس میں کچھ مبہم اور اسٹرکچرل نقائص ہیں اور ایسے مسائل اس میں پائے جاتے ہیں کہ اگر ہر لمحہ اور باریک بینی سے ہوشیاری نہ برتی گئی تو یہ ایران کے حال اور مستقبل میں اسکے لئے بڑے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔ جس وقت ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان جامع مشترکہ ایکشن پلان پرچودہ جولائی دوہزار پندرہ کو دستخط کئے گئے تھے رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے خط کے جواب میں فرمایا تھا کہ ایٹمی مذاکرات کے فریق مقابل کے چھے ملکوں میں سے  بعض ممالک ناقابل اعتماد ہیں، اس امرکے پیش نظر آپ نے تاکید فرمائی تھی کہ یہ ضروری ہے کہ نہایت باریک بینی سے اس معاہدے کا جائزہ لیا جائے اور جو قانونی ادارے ہیں وہ اس کا جائزہ لیں اور اس کے بعد اگر اس کو منظوری دی جاتی ہے تو بڑی ہوشیاری سے مد مقابل کی بدعھدیوں کا کاراستہ بند کیا جائے،اس وقت امریکی حکومت اور کانگریس نے ایک بار پھر ظاہر کردیا ہے کہ یہ لوگ موقع کی تلاش میں ہیں تا کہ ایران کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی یا میزائلی طاقت پر تشویش اور دہشتگردی کی حمایت کے الزامات لگا کر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ امریکہ پہلے ہی سے یہ ارادہ رکھتا تھا کہ پابندیوں کو ختم کرنے کے  بجائے انہیں معطل کردے لیکن جامع مشترکہ ایکشن پلان کے مطابق ایٹمی مسئلے سے متعلق ساری پابندیاں ہٹادی گئیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس اس سلسلے میں پہلا قدم تھا جو ایران کے خلاف ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تیار کئے جانے والے جعلی سناریو کے خاتمے اور ظالمانہ پابندیوں کے ہٹائے جانے کا سبب بنا لیکن اس راہ کو جاری رکھنا چندان آسان نہیں ہے اور فریق مقابل کی بہانہ بازیوں اور بدعھدیوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس قرارداد میں بھی پابندیوں کو فورا پلٹانے کا میکنیزم موجود ہے جسے ٹریگر میکینزم کا نام دیا گیا ہے،اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایران کے جامع مشترکہ ایکشن پلان کے قانونی اثرات اور داخلی اور عالمی سرمایہ کاری کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر کسی کو امریکہ کے اھداف و کارکردگی پر شک ہو تو یہ بات بے جا نہیں ہے کیونکہ ایران کے تعلق سے امریکہ کی پالیسی صحیح پالیسی نہیں ہے۔ جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع ہوئے ایک سال ہوگیا ہے اور ایرانی بینکوں کو مغربی حکومتوں بالخصوص امریکہ کے بینکوں اور مالی اداروں کی جانب سے گیرنٹی نہ دینے کی وجہ سے ایران کے بینکنگ معاملات ہنوز ابھامات کا شکار ہیں،جس طرح سے رہبرانقلاب اسلامی نے فوج کے یوم تاسیس کی سالگرہ کی مناسبت سے فوجی کمانڈروں اور عھدیداروں سے ملاقات میں فرمایا ہے ایک پابندی کو شروع کرنے اور اس کے وقت کے خاتمے کے بعد اسے دوبارہ شروع کرنےمیں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ دوسرا اقدام بھی پابندیوں کے زمرے میں آتا ہے اور مد مقابل کی جانب سے پہلے سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ جامع مشترکہ ایکشن پلان کی خلاف ورزی کرنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کو ایران نظر انداز کردے گا۔ ان اقدامات کا ایران کی پارلیمنٹ اور حکام قریب سے جائزہ لے رہے ہیں اور یقینا ضروری اقدامات کریں گے۔امریکہ کے اقدامات سے پتہ چلتا ہےکہ ایٹمی موضوع پر اتفاق کے باوجود ایران کے خلاف دھمکیاں اور مخاصمانہ اقدامات جاری ہیں،اس دشمنی کی وجوہات واضح ہیں۔ دراصل یہ امریکہ کی سازشیں اور بہانے ہیں جو مختلف طریقوں سے ایک دن کانگریس میں دیکھنے کو ملتے ہیں تو دوسرے دن صیہونی حکومت کی لابیوں کے مرکز ایپک میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس رویے کا جاری رہنا اس معنی میں ہے کہ ایران اور عالمی برادری کے امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کی متعدد وجوہات پائی جاتی ہیں۔  
سحر



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19