Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184471
Published : 6/12/2016 16:22

دہشتگردی اور انتہا پسندی ایک ایسا موذی مرض ہے جو کہیں بھی سرایت کر سکتا ہے:ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بیجنگ یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ایران چین تعلقات اور دہشتگردی کا مشترکہ مقابلہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کو کسی کی ہار یا جیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔


ولایت پورٹل:ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جو ہندوستان دورے کے بعد چین کے دورے پر ہیں، نے بیجنگ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے دہشتگردی اور انتہاپسندی کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا:  دہشتگردوں کے ساتھ جنگ اور شام کی تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر، ممکن ہے کہ مسائل موذی مرض کی طرح دیگر علاقوں میں بھی سرایت کر جائیں جیسا کہ ملائیشاء میں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کا کسی دوسرے ملک میں انتقال کی روک تھام مشکل ہے کیونکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی ایک ایسا موذی مرض ہے جو کہیں بھی سرایت کر سکتا ہے اور اب یہ سارے مسائل دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں تاہم ہمیں یہ درک کرنا چاہئے کہ سامراجی رجحانات مزید کامیاب نہیں ہوسکتے،انہوں نے شام جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ شام جنگ کو ہار جیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اگرپورے نظام سے ایک شخص (بشار اسد) کی جانے پر تاکید کریں تو اس کے بھی حامی موجود ہیں اور مخالفین کے لئے بھی یہی صورتحال ہے،لیکن اگر ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس میں طرفین کو مدنظر رکھا جائے تو اس صورت میں کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی جاتا ہے۔
تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16