Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184489
Published : 7/12/2016 17:11

مغربی ممالک انسانی حقوق کے صرف دعویدار(ایک تجزیہ)

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مئے نے بحرین کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ انسانی حقوق کے مسائل خلیج فارس کے عرب ملکوں سے برطانیہ کے تجارتی تعلقات کو متاثر نہیں کرتے۔

ولایت پورٹل:برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مئے نے بحرین کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ انسانی حقوق کے مسائل خلیج فارس کے عرب ملکوں سے برطانیہ کے تجارتی تعلقات کو متاثر نہیں کرتے،برطانوی وزیراعظم سے یہ کہا گیا تھا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک انسانی حقوق پرعمل کرنے کے سلسلے میں اچھا ریکارڈ نہیں رکھتے ہیں،تھریسا مئے منگل کو خلیج فارس کے عرب ملکوں کی تعاون کونسل کے سالانہ  سربراہی اجلاس  میں شرکت کرنے منامہ آئی ہیں۔ انہوں نے کہا ان کے اس دورے کا مقصد خلیج فارس کے عرب ملکوں سے برطانیہ کے تعلقات میں فروغ لانا ہے۔ترزا مئے کے دورہ بحرین کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کو خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ باہمی  قریبی تجارتی تعلقات  کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ہیومن رائٹس واچ، ریپرائیو نامی تنظیم اور بحرین کی انسانی حقوق اور جمہوریت کی حامی تنظیم نے برطانوی وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ حکومت بحرین کو مذاکرات اور اصلاحات کی ترغیب دلانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں آل خلیفہ کی حکومت پر اپنے اثر و رسوخ سے کام لیتے ہوئے اس کی تشدد آمیز پالیسیوں کو فوری طور پر رکوانا چاہیے،برطانوی وزیر اعظم نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبےکے جواب میں کہا کہ ایسے عالم میں کہ لندن یورپی یونین کو چھوڑنے والا ہے خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ہاتھوں انسانی حقوق سے غلط فائدہ اٹھایا جانا ان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں فروغ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ترزا مئے نے ان پر ہونے والی تنقیدوں کے باوجود خلیج فارس کے عرب ملکوں سے اپنے ملک کے تعلقات میں فروغ لانے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں سے تعلقات ان کی تائید کرنے کے معنی میں نہیں ہیں بلکہ لندن ان سے تعاون کے ساتھ ساتھ انہیں اصلاحات کی ترغیب دلانا چاہتا ہے،خلیج فارس تعاون کونسل کے اکثر اراکین عوامی احتجاج کو بڑی شدت سے کچلتے ہیں اس کے باوجود برطانوی وزیر اعظم ان سے تعلقات بڑھانے کی فکر میں ہیں۔ مثال کے طور پر بحرین کی حکومت مغربی اور عرب حکومتوں جیسے سعودی عرب اور برطانیہ کی حمایت سے پانچ برسوں سے بحرین کی قوم کی پرامن تحریک کو کچل رہی ہے، آل خلیفہ کی حکومت نے ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا ہے ان کی شہریت سلب کرلی جاتی ہے یا انہیں کام سے نکال دیا جاتا ہے۔بحرین کی حکومت حال ہی میں برطانیہ سے ہتھیار خریدنے والی ایک بڑی حکومت بن گئی ہے ۔ برطانیہ نے بحرین میں ایک بڑا فوجی اڈا بھی قائم کیا ہے تا کہ خلیج فارس میں بدستور بحران پیدا کرتا رہے۔ سعودی عرب کے ہاتھوں اپنے ہتھیار فروخت کرنا اور اس سے تیل خریدنا لندن اور ریاض کے تعلقات میں فروغ آنے کا ایک سبب ہے برطانیہ ہتھیاروں کی تجارت کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور سعودی عرب بھی اس کا سب سے بڑا خریدار ہے، واضح رہے سعودی عرب یمن کے نہتے عوام کے سروں پر برطانوی ساخت کے میزائل اور گولے  برسارہا ہے۔برطانیہ کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں سعودی عرب کے ہاتھوں ہتھیار فروخت کرنے پر عالمی تنقیدوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے اور یمن کے عوام پر سعودی حملوں کے بارے میں یہ دعوی کیا ہے کہ برطانیہ نے جنگی جرائم کا ا رتکاب نہیں کیا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی عرب کو یمن میں دسیوں ہزار افراد کے قتل عام کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ اور برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب کو ہتھیارفروخت کرنا بند کردے۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18