Friday - 2018 April 27
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184803
Published : 28/12/2016 16:55

مولانا علی نقی سامانی

سامانہ ضلع پٹیالہ پنجاب کا ایک اہم قصبہ شمار ہوتا ہے کہ جہاں سادات و مؤمنین کی ایک بڑی تعداد سکونت پذیر تھے لیکن انقلاب ہند میں یہ بستی بلکل اجڑ گئی،لیکن اب چند برسوں سے وہاں موجود ایک امام زادے کے سبب اس سرزمین کی بہار لوٹنے لگی اور مؤمنین از سر نو سامانہ کی طرف رجوع کرنے لگے۔

ولایت پورٹل:
میر علی نقی سامانہ (پٹیالہ) کے سادات علماء میں تھے،نواب علی مردان خان کے بیٹے نواب ابراہیم خان نے سن ۱۱۲۳ ہجری میں اہل سنت کے اعتراضات کے جواب اور فقہ و تاریخ پر ایک ضخیم کتاب کے لئے بورڈ بنایا تھا ،اس بورڈ کے رکن عبد المجید سامانی اور علی نقی صاحب رکن تھے اور ان لوگوں نے بیاض ابراہیمی مکمل کی مولانا علی نقی نے اصول کافی پر حاشیہ بھی لکھا تھا جو کتب خانہ ناصریہ لکھنؤ میں موجود ہے۔
مولانا نے اس وقت پنجاب میں تشیع اور مذہب اہل بیت(ع) کی بڑی خدمات انجام دیں،اپ کی تاریخ وفات کے بارے میں دقیق اطلاع تو موجود نہیں لیکن معتبر کتب سیر میں سن ۱۱۳۰ ہجری مطابق ۱۷۱۷ عیسوی کو ہی آپ کا سال وفات تصور کیا جاتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 April 27