Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184814
Published : 28/12/2016 19:59

توحید کے متعلق شیعہ عقیدہ(۱)

یوں تو ہر مسلمان اپنے کو موحد ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے اور اپنے ہر عقیدے کی صحت پر قرآن مجید کی کسی آیت یا رسول اللہ(ص) کی کسی حدیث سے استناد کرتا ہے،اگر مسئلہ یہیں پہ ختم ہوجاتا تو شاید کوئی بات نہیں تھی لیکن ساتھ ہی وہ دوسرے مسلمانوں پر الزام و اتہام کا ایک انبار لگا دیتا ہے ،کبھی کسی کو کافر قرار دیکر اس کا خون مباح سمجھا جاتا ہے اور مسالمت آمیز زندگی کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہتک حرمت پر اتر آتا ہے،جب کے اسلامی فرقوں میں اس فرقہ کے عقاید سب سے بہتر ہیں کہ جو نقلی تأویلات کے ساتھ ساتھ عقلی معیار پر بھی پورے اترتے ییں ،لہذا شیعہ عقاید عقلی اور نقلی معیارات پر پورے اترتے ہیں، چونکہ انہوں نے ان عقائد کو ان معصوم پیشواؤں سے لیا ہے کہ جو الہی نمائندے ہونے کے ساتھ ساتھ مظہر عقل کل بھی ہیں۔


ولایت پورٹل:
توحید اسلا م کا بنیادی عقیدہ ہے،توحید کا اقرار اور شرک سے انکار انبیاء الٰہی کی بعثت کا ایک اہم مقصد تھا:«وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنْ اُعْبُدُوا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ»۔(۱)
ترجمہ:اوریقینًا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے تا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔
اگرچہ توحید کا اقرار اور شرک سے انکار تمام اسلامی مذاہب کا متفقہ مسئلہ ہے اس کے باوجود توحید کی تشریح و تبیین کے سلسلہ میں مختلف اقوال و نظریات پائے جاتے ہیں،ا س مقام پر ہم دوسروں کے اقوال و نظریات سے صرف نظر کرتے ہوئے توحید وشرک کے اقسام ومراتب کے بارے میں صرف شیعہ امامیہ کا عقیدہ بیان کریں گے۔
عام طور پر توحید کی چار قسمیں توحید ذاتی،توحید صفاتی،توحید افعالی،توحید عبادی بیان کی جاتی ہیں لیکن کبھی توحید افعالی کے بجائے توحید در خالقیت اور توحید در ربوبیت کہا جاتا ہے،موخر الذکر اصطلاح کتاب وسنت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے چنانچہ ہم نے بھی  اسی اصطلاح کو اختیار کیا ہے۔
(۱)توحید ذاتی:توحید ذاتی سے مراد یہ ہے کہ خدا کا کوئی مثل ونظیر نہیں ہے،یعنی اس کی ذات واجب الوجود ہے،اپنے وجود اور کمالات میں دوسروں سے بے نیاز صرف خداوند عالم کی ذات ہے،اس طرح خدا کے علاوہ تمام موجودات ممکن الوجود اور محتاج ہیں،چونکہ ہر ممکن الوجود مرکب ہوتا ہے (چاہے اجزاء عقلیہ وذہنیہ سے مرکب ہو یا اجزاء خارجی سے)لہٰذا واجب الوجود کے ایک ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ اس کی ذات بسیط ہے اور اس کی ذات میں کسی قسم کی ترکیب کا امکان نہیں ہے،یہ دونوں باتیں ائمہ اہل بیت(ع) کے اقوال میں مکرر و مؤکد طریقہ سے بیان ہوتی ہیں،لہذا ہم یہاں امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے قول پر ہی اکتفاء کرتے ہیں:
ایک شخص نے مولائے کائنات(ع) سے خدا کی وحدت کے بارے میں دریافت کیا آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:«وحدت کے مختلف معانی ہوتے ہیں، کبھی وحدت اور توحید سے «عدد» اور «مفہوم»کی وحدت مراد ہوتی ہے،(مثلا کہا جاتا ہے کہ ایران دنیا کے ممالک میں سے ایک ملک ہے یا انسان حیوانات کی ایک قسم ہے )خدا کے بارے میں ایسی وحدت کا تصور صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ وحدت کثرت کے ساتھ بھی جمع ہو سکتی ہے،اور کبھی وحدت سے مراد «مثل ونظیر اور اجزاء عقلی و وہمی وخارجی کا نہ ہونا ہوتا ہے،خدا کی وحدت سے یہی مراد ہے»۔(۲)
(۲)توحید صفاتی:توحید صفاتی کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے ذاتی صفات مثلا علم،قدرت و حیات، مفہوم کے لحاظ سے اگر چہ مختلف ہیں لیکن مصداق کے اعتبار سے ان میں کوئی اختلاف یا کثرت نہیں ہے اور ان سب کا مصداق خدا کی ذات بسیط ہے،بصورت دیگر ذات الٰہی میں اختلاف اور کثرت پائی جائے گی جو کہ توحید ذاتی کی بنا پر قابل قبول نہیں ہے اس طرح توحید ذاتی کا لازمہ توحید صفاتی ہے،اگر خدا کے صفات اس کے عین ذات نہ ہوں تو اس سے ذات الٰہی میں اختلاف وکثرت کے علاوہ واجب الوجود کا متعدد ہونا بھی لازم آئے گا،کیونکہ خدا کے صفات کو ممکن الوجود تسلیم نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ ممکن ہونے کا لازمہ احتیاج ہے لہٰذا اگر خدا کے صفات ممکن الوجود ہوں گے تو ذات الٰہی میں امکان واحتیاج پایا جائے گا۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام،صفات زائد بر ذات کے انکار کوکمال توحید کی علامت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:«کمال توحیدہ الاخلاص له وکمال الاخلاص له نفی الصفات عنه۔۔۔۔۔فمن وصف اللہ سبحانه فقد قرنه ومن قرنه فقد ثناہ ومن ثنّاہ فقد جزّاہ ومن جزّاہ فقد جھله»۔(۳)
ترجمہ:توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد برذات صفات کی نفی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اوراجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے۔
......................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ نحل:آیت۳۶۔
۲۔کتاب التوحید، شیخ صدوق،باب۳،حدیث۳۔
۳۔نہج البلاغہ، خطبہ اول۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10