Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184821
Published : 29/12/2016 17:13

حضرت معصومہ قم(ع) کون ہیں اور آپ کے حرم کی تاریخ کب سے شروع ہوئی؟

آپ کی قبر شریف پر ٹاٹ کا ایک سائبان کھڑا کیا اور اس کے بعد زینب بنت امام جواد (ع) نے ۲۵۶ ھ میں اپنی پھوپِی کی قبر مبارک پر پہلا گنبد تعمیر کیا،اس کے بعد سالھا سال سے آج تک حضرت معصومہ(ع) کی قبر شریف شیعوں اورعاشقان اھل بیت(ع) کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے اور اس کی کئی بار تعمیر نو ہوئی ہے اور اس کو وسعت دے کر مکمل کیا جاتا رہا ہے آج اس قبر مطھر پر خوبصورت ضریح اور گنبد کے علاوہ کئی رواق، ایوان، صحن، اور کئی گلدستے موجود ہیں۔


ولایت پورٹل:
حضرت معصومہ (ع) شیعوں کے ساتویں امام موسی بن جعفر(ع)  کی بیٹی ہیں،ان کی والدہ گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں، حضرت معصومہ (ع) اول ذیقعدہ  ۱۷۳ ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔
۲۰۰ ہجری میں، مامون عباسی کے اصرار اور دھمکیوں کے نتیجہ میں امام رضا(ع)  کا مرو کی جانب جلا وطنی کا سفر انجام پایا  اور حضرت اپنے خاندان میں سے کسی فرد کی ہمراھی کے بغیر خراسان کی طرف روانہ ہوئے۔
حضرت امام رضا (ع)  کی مرو کی جانب  اس جلا وطنی کے مانند مسافرت کے ایک سال بعد ۲۰۱ ھ میں حضرت معصومہ (ع) قم نے اپنے بھائی  کے دیدار کے شوق سے اور دین و ولایت کے پیغام کو پہنچانے کی غرض سے اپنے بعض بھائیوں اور بھتیجوں کے ہمراہ خراسان کی طرف عزیمت کی اور ہر شھر و علاقہ میں لوگوں کی طرف سے ان کا والھانہ استقبال کیا گیا،شہر ساوہ میں کچھ اھل بیت(ع) کے دشمن تھے اور ان کو حکومتی کارندوں کی حمایت حاصل تھی، انھوں نے اس کاروان کو روکا اور حضرت معصومہ(ع)  کے ساتھیوں سے جنگ کی،  اس جنگ کے نتیجہ میں اس کا روان  کے تقریبا تمام مرد شھید کئے گئے اور ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ(ع)  کو بھی مسموم کیا گیا۔
بھر حال حضرت فاطمہ معصومہ(ع)  یا اس غم و اندوہ کی وجہ سے یا زھر جفا کی مسمومیت کی وجہ سے بیمار ہوئیں اور چونکہ خراسان کی طرف ان کا سفر جاری رہنا ممکن نہیں تھا اس لئے انھوں نے شہر قم کی طرف رخت سفر باندھا ، تقریبا ۲۳ ربیع الاول ۲۰۱ ھ میں قم میں داخل ہوئیں اور آج کے«میدان میر» نامی محلے میں «موسی بن خزرج»کے گھر میں داخل ہوکر انھیں اپنی میزبانی کا شرف بخشا۔
حضرت معصومہ )ع( نے ۱۷ دن تک اس محلے میں زندگی بسرکی، آپ کی عبادت گاہ مدرسہ ستیہ میں «بیت النور»نامی پر جگہ تھی اور یہ جگہ اس وقت بھی حضرت معصومہ قم کے عقیدتمندوں کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔
سر انجام ۱۰ ربیع الثانی، ایک قول کے مطابق ۱۲ ربیع الثانی ۲۰۱ ھ کو اپنے بھائی  کا دیدار کرنے سے پہلے  اپنے مالک حقیقی سے جا ملیں ، حضرت معصومہ (ع)  کی رحلت کے بعد موسی بن خزرج نے آپ کی قبر شریف پر ٹاٹ کا ایک سائبان کھڑا کیا اور اس کے بعد زینب بنت امام جواد (ع) نے ۲۵۶  ھ میں اپنی پھوپِی  کی قبر مبارک پر پہلا گنبد تعمیر کیا،اس کے بعد سالھا سال سے آج تک حضرت معصومہ(ع) کی قبر شریف شیعوں اورعاشقان اھل بیت(ع)  کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے اور اس کی کئی بار تعمیر نو ہوئی ہے اور اس کو وسعت دے کر مکمل  کیا جاتا رہا ہے آج اس قبر مطھر پر خوبصورت ضریح اور گنبد کے علاوہ کئی رواق، ایوان، صحن، اور کئی گلدستے موجود ہیں۔
مرقد مطھر
خاندان آل مظفر کے سرپرست«امیر مظفر احمد بن اسماعیل» کے حکم سے ۶۰۵ ھ میں اس زمانہ کے سب سے بڑے کاشی کاری کے استاد «محمد بن ابی طاھر کاشی قمی»کے ھاتھوں رنگ برنگ کاشیوں سے اس مرقد کی تعمیر نو کی اور اس کام کو مکمل کرنے میں آٹھ سال لگ گئے، اس کے بعد ۱۳۷۷ ھ ۔ ش ۱۹۹۸ مین اس مرقد مطھر کی کاشی اور پتھروں سے تعمیر نو کی گئی اور اس کی اندرونی دیواروں کو سبز سنگ مرمر سے مزین کیا گیا۔
ضریح
۹۶۵ ھ میں شاہ طھماسب صفوی نے مرقد مطھر کے چاروں طرف ایک ضریح بنائی جو سات رنگ کی کاشیوں سے مزین تھی اور اس میں معرق کتبے لگے ہوئے تھے اس کے اطراف میں پنجرہ کاری تھی جن کے سوراخوں میں سے مرقد مطھر دکھائی دیتا تھا اور زائرین اپنی نذر ونیاز کو ان ہی پنجروں سے ضریح کے اندر ڈالتے تھے۔
۱۲۳۰ ھ میں فتح علی شاہ نے اس ضریح پر چاندی لگادی لیکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضریح فرسودہ ہوگئی  اور ۱۲۸۰ ھ میں ضریح کی سابقہ چاندی اور خزانہ میں موجود چاندی سے ایک نئی ضریح بنائی گئی اور اسے پرانی ضریح کی جگہ پر نصب کیا گیا۔
اس ضریح کی کئی بار تعمیر نو اور مرمت کی گئی اور سالھا سال تک مرقد پر باقی رہی، یہاں تک کہ ۱۳۶۸ ھجری شمسی میں اس زمانہ  کے متولی کے حکم سے ضریح کی شکل کو تبدیل کیا گیا، اور اس کی جگہ پر ایک نفیس اور ہنرمندی کی ایک شاھکار ضریح کو نصب کیا گیا جو ابھی تک باقی ہے، اور ۱۳۸۰ ھ، شمسی میں اس کی مرمت کی گئی۔
islamquest


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15