Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184822
Published : 29/12/2016 17:15

بشار اسد حکومت کو گرانے کی باتیں ہمیشہ کیلئے دفن ہوگئیں(ایک رپورٹ)

شام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کوئی بھی بشار اسد حکومت کو گرانے کی بات نہیں کرسکتا اور اگر کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال سے مکمل طور پر غافل ہے۔


ولایت پورٹل:روزنامہ السفیر نے نقل کیا ہے کہ سال 2016 ایسی حالت میں ختم ہونے جا رہا ہےکہ مزید کوئی بھی شامی صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کی بات نہیں کر رہا اور یہ موضوع مزید ختم ہوچکا ہے اور اگر کوئی اس بات پر تبصرہ کرنا چاہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خطے اور بین الاقوامی سشپ پر سیاسی پیش رفت سے مکمل طور پیچھے رہ گیا ہےاسی ضمن میں ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریہ زاخاراف نے ہمیشہ کی طرح وضاحت دی: مزید کوئی بھی شخص بشار اسد حکومت کے گرنے کی بات نہیں کررہا سوائے انتہا پسندوں یا دہشتگردوں کے جو اس حکومت کے سخت مخالف ہیں،اس موضوع کو عربی اور یورپی سطح پر بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے،یورپی اور عربی ممالک کی حالیہ گفتگو کے پیش نظر جو قاہرہ میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوئی، سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کا موقف شام کے سرکاری موقف کے بالکل نزدیک ہوگیا ہے،اس سلسلے میں  مصر کے ایک اعلی عہدیدار نے تاکید کی کہ مشترکہ اعلامیہ میں ایک بند کو دہشتگردوں اور ان کے حامیوں کی مذمت سے مختص کیا جائے،انہوں نے کہا: وہ عناصر جو حلب آزادی پر آنسو بہا رہے ہیں، کو چاہئے تھا کہ دہشتگردوں کی حمایت نہ کرتے اور ان کو حلب میں تعینات نہ کرتے،مصر کی جانب سے یہ موقف جو الجزائر اور عراق کی مانند بعض دیگر عرب ممالک کا موقف بھی تھا، مکمل طور پر قطر اور سعودی عرب کے موقف کے خلاف ہے،دوسری جانب یورپی یونین شام جنگ سے مرتبط ممالک کے نمائندوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کی تیاری کر رہا ہے جن میں ترکی، ایران، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن اور لبنان شامل ہیں،ان اجلاسوں کا مقصد ذکر شدہ ممالک کی ریڈ لائینز کا تعین کرنا ہے جن کے آپس میں مشترکہ نکات بھی ہیں جو سیاسی راہ حل میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
تسنیم






آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12