Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184832
Published : 30/12/2016 18:17

2017 ء میں شام میں جاری جنگ ختم ہونے کی دس وجوہات

لبنانی اخبار ’’الاخبار‘‘ نےاپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہےکہ حلب میں ہونے والی شامی افواج اوراس کے اتحادیوں کی کامیابی نےشام میں جاری دہشت گردی کےخلاف جنگ کےمستقبل کےحوالے سےکئی سوالات کوجنم دیتے ہیں،اخبار کا کہنا ہےکہ ایسی 10 وجوہات ہیں جن سےمعلوم ہوتا ہےکہ شام میں جاری جنگ 2017ء میں ختم ہوجائے گی۔


ولایت پورٹل:
لبنانی اخبار ’’الاخبار‘‘ نےاپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہےکہ حلب میں ہونے والی شامی افواج اوراس کے اتحادیوں کی کامیابی نےشام میں جاری دہشت گردی کےخلاف جنگ کےمستقبل کےحوالے سےکئی سوالات کوجنم دیتے ہیں،اخبار کا کہنا ہےکہ ایسی 10 وجوہات ہیں جن سےمعلوم ہوتا ہےکہ شام میں جاری جنگ 2017ء میں ختم ہوجائے گی۔جو قارئین کےپیش خدمت ہیں۔
1۔ دہشت گردوں کےحوصلے پست ہونا:
حلب میں شکست سےدوچار ہونے کےبعد دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں جس کی وجہ سےدہشت گرد تنظیموں کےدرمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
2۔دہشت گردوں کی ہمت اورقدرت اورامکانیت میں کمی:
حلب میں شکست سےدوچار ہونے کےبعد دہشت گرد کمزور پڑگئے ہیں، کیونکہ جن مقاصد کےلیے ان دہشت گردوں نےجنگ شروع کی تھی وہ پورے ہو نہیں پارہےہیں،اس کے علاوہ دہشت گردتنظیموں کوحمایت اورمدد کرنےوالے ممالک بھی اب پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
3۔شامی افواج اوراس کےاتحادیوں کےحوصلوں میں اضافہ:
حلب میں دہشت گردوں کوشکست دینےکےبعد شامی افواج اوراس کے اتحادیوں کےحوصلے کافی حدتک بلند ہوئے ہیں،جس کا یقینی طورپر جاری جنگ پرکافی اثر پڑے گا اورانہیں شام کےدیگر علاقوں میں دہشت گردوں کوختم کرنے میں مدد کرےگا۔
4۔دہشت گردوں کےزیر قبضہ علاقوں کارقبہ آزاد کرائےگئے علاقوں سےکم ہے:
شام میں اب دہشت گردوں کےزیر قبضہ علاقوں کارقبہ آزاد کرائےگئے علاقوں سے کم ہے، یہی نہیں بلکہ آزاد کرائے گئے علاقوں کاجغرافیائی پس منظر مقبوضہ علاقوں سےمشکل تھا،یعنی شامی افواج اوران کے اتحادیوں نےاب ایسے علاقوں کوآزاد کرانا ہے جہاں جغرافیائی لحاظ سےجنگ لڑنا مشکل نہیں۔
5۔باقی رہنے والے دہشت گردوں کی تعداد اورمہارت کم ہے:
شام میں اب باقی رہنے والے دہشت گردوں کی تعداد پہلے سےکم ہے، نیز ان دہشت گردوں کی مہارت بھی،کیونکہ اب تک کی لڑی جانے والی جنگوں میں بہت سے دہشت گردمارے گئے جن میں اہم کمانڈرز اورمہارت رکھنے والے دہشت گرد شامل ہیں۔
6۔دہشت گردوں کا اپنے نقصانات کی تلافی نہ کرپانا:
شام میں سرگرم دہشت گرد اب اپنے نقصانات کی تلافی نہیں کرپارہے ہیں، جس کی اہم وجہ اردنی اورترکی سرحدوں کی بندش ہے۔ پہلے تویہ دہشت گرد بہت جلد اپنےنقصانات کی تلافی کرجاتے تھے کیونکہ اردن اورترکی سے ان کےلیے نفری اورہتھیار بھیج دیئے جاتے تھے جواب نہیں ہوپارہا۔
7۔شام میں طاقت کےتوازن میں تبدیلی پیدا ہونا جوشامی افواج کےحق میں تھا:
شام میں شامی حکومت کےحق میں روسی فوجی مداخلت نے شام میں طاقت کےتوازن میں تبدیلی پیدا کی جوشامی حکومت کےحق میں تھا۔اس مداخلت کی وجہ سےدہشت گردوں کےحمایتی ممالک کودہشت گردوں کومدد فراہم کرنے میں کافی مشکلات پید ا ہو رہی اور یقیناً یہ صورت حال جاری رہے گی۔
8۔ حلب میں دہشت گردوں کو شکست اوران کےمقاصد پورے نہ ہونا:
حلب میں دہشت گردوں کوشکست حاصل ہونے کےبعد اس کےاثرات مرتب ہوں گے اور دہشت گرد مذاکرات کوترجیح دیں گے۔
9۔دہشت گردوں کاافزائشی ماحول کھونا:
شام میں دہشت گردوں نےاپنا افزائشی ماحول کھودیا جس کی اہم وجہ ان دہشت گردوں کااسلام سےتعلق نہ رکھنے والاسلوک ہے۔
10۔مغربی ممالک کےپاس شام میں دہشت گردوں کی مدد کرنے کےلیے کوئی بہانہ نہ ہونا:
مغربی ممالک کےپاس اب شام میں دہشت گردوں کی مدد کرنےکےلیے کوئی بہانہ نہیں رہا، کیونکہ شام میں اب دہشت گرد تنظیمیں وہی رہ چکی ہیں جنہیں اقوام متحدہ نےدہشت گرد تنظیمیں قرار دےرکھا ہے یعنی داعش، النصرہ فرنٹ(فتح الشام فرنٹ) اوراحرار الشام۔
الوقت نیوز


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23