Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184844
Published : 31/12/2016 17:13

توحید کے متعلق شیعہ عقیدہ(۳)

اہلبیت عصمت وطہارت(ع) کی پیروی کرتے ہوئے مذہب شیعہ تنزیہہ کا قایل اور تجسیم وتشبیہ کے بطلان کا عقیدہ رکھتا ہے،شیعی عقائد کے مطابق مذکورہ آیات اور انہیں کے مانند دیگرمتشابہ آیات کے بارے میں غور وخوض سے ان کے حقیقی معنی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔«ید»قدرت الٰہی کا کنایہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ خدا کی قدرت ہی سب سے بڑی طاقت و قدرت ہے۔«وجہ» سے مراد ذات الٰہی ہے یعنی ذات خدا کے علاوہ ہر چیز فانی ہے ۔ «استوی علی العرش» تدبیر کائنات میں خدا کے علم وقدرت کے احاطہ کا کنایہ ہے۔

ولایت پورٹل:پچھلے دو مضمون میں ہم نے شیعہ عقائد کا تعرف شروع کیا اور اس مرحلہ میں عقیدہ توحید سے متعلق تشیع کے عقیدے کے کچھ اہم جزئیات قارئین کرام کی نظر کئے،آج ہم تنزیہ اور تشبیہ کے متعلق صحیح نظریہ کو پیش کررہے ہیں لہذا پچھلی گفتگو سے مرتبط ہونے کے لئے ان لنکس پر کلک کیجئے!
توحید کے متعلق شیعہ عقیدہ(۱)
توحید کے متعلق شیعہ عقیدہ(۲) 
تنزیہہ وتشبیہ

تنزیہہ وتشبیہ کی بحث کا تعلق صفات خداوند ی سے ہے،صفات خداکی دو قسمیں «صفات ثبوتیہ»اور«صفات سلبیہ»ہیں۔
صفات ثبوتیہ ان صفات کو کہا جاتا ہے جو کسی کمال پر دلالت کرتے ہیں اور وہ صفات خدا میں پائے جاتے ہیں۔
صفات سلبیہ ان صفات کو کہا جاتا ہے جو نقص و عیب پر دلالت کرتے ہیں اور وہ خدا میں نہیں پائے جاتے،ایک اور لحاظ سے خدا کے صفات کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں ۱۔صفات ذاتیہ ۲۔صفات فعلیہ۔
صفات ذاتیہ سے مراد وہ صفات ہیں جو خدا کے فعل سے قطع نظر اس کی ذات پر بولے جاتے ہیں مثلا حیات ،علم ،قدرت کہ خدا کے حی،عالم،قدیر ہونے میں کسی کو خلق کرنے یا کوئی اور فعل انجام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب کہ صفات فعلیہ ان صفات کو کہا جاتا ہے جن کا تعلق خدا کے فعل یا ایجاد سے ہوتا ہے مثلا رازق،خالق،غافر،محیی،ممیت کہ خدا کو ان صفات سے اسی وقت متصف کیا جا سکتا ہے جب وہ کسی کو خلق کرے،رزق عطا کرے وغیرہ وغیرہ۔
چونکہ خدا کی ذات میں کسی نقص وعیب کا امکان نہیں ہے اس لئے صفات سلبیہ کا مطلب یہ ہے کہ اس سے«نقص»کو سلب کیا جاتا ہے نہ کہ«کمال» کو اس طرح صفات سلبیہ ذات خداوندی کی نقص سے تنزیہہ وتقدیس کی جانب اشارہ کرتے ہیں،وہ صفات سلبیہ خواہ صفات ذاتیہ ہوں یاصفات فعلیہ ـــــــ «تنزیہہ» کے مقابل «تشبیہ» ہے یعنی خدا کے لئے ایسے صفات کا اثبات کرنا جو صفات ممکنات سے مخصوص ہیں،ادیان ومذاہب کی تاریخ میں ایسے افرادبھی پائے جاتے ہیں جو صفات الٰہی کے مسئلہ میں جادۂ حق سے منحرف ہو کر «تشبیہ»کے قایل ہو گئے۔
تشبیہ کا رجحان عالم اسلام میں بھی نظر آتا ہے چنانچہ ملل ونحل کی کتابوں میں«مجسمہ» اور «مشبہہ» کو بھی اسلامی فرقوں کی شاخ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے،یوں تو تشبیہ خدا کے تمام صفات کے بارے میں پائی جاتی ہے لیکن جن صفات کے بارے میں آیات متشابہ موجود ہیں ان صفات کے بارے میں تشبیہ کا رواج زیادہ ہے،بعض مسلمان «ید اللّه فوق ایدیھم»ـ «الرحمٰن علی العرش استویٰ»ــ«جاء ربک» اور «کل شیء ھالک الاوجھه» جیسی آیات کے ظواہر سے استناد کرتے ہوئے خدا کی جسمانیت کے قائل ہوگئے اور اس کے لئے ہاتھ ،پاؤں ،چہرہ جیسے اعضاء اور چلنے پھرنے،بیٹھنے جیسے انسانی صفات کا اثبات کرنے لگے۔
اہلبیت عصمت وطہارت(ع) کی پیروی کرتے ہوئے مذہب شیعہ تنزیہہ کا قایل اور تجسیم وتشبیہ کے بطلان کا عقیدہ رکھتا ہے،شیعی عقائد کے مطابق مذکورہ آیات اور انہیں کے مانند دیگرمتشابہ آیات کے بارے میں غور وخوض سے ان کے حقیقی معنی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔«ید»قدرت الٰہی کا کنایہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ خدا کی قدرت ہی سب سے بڑی طاقت و قدرت ہے۔«وجہ» سے مراد ذات الٰہی ہے یعنی ذات خدا کے علاوہ ہر چیز فانی ہے ۔ «استوی علی العرش» تدبیر کائنات میں خدا کے علم وقدرت کے احاطہ کا کنایہ ہے۔
مذکورہ صفات (جنھیں «صفات خبریہ» کہا جاتا ہے)ہی نہیں بلکہ تمام صفات الٰہی میں تنزیہہ کا عقیدہ رکھنا چاہئے ۔مثلا علم خدا کو علم حصولی،زائد بر ذات یا محدود نہیں ماننا چاہئے بلکہ علم خدا عین ذات ،حضوری اور لا محدود ہے اسی طرح سے قدرت ،حیات اور ارادۂ الٰہی کو بھی ماننا چاہئے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ صفات خدا کے باب میں «کمال» کو خدا کے لئے ثابت کرنا چاہئے اورہر طرح کے نقص وعیب والی صفت کی ذات خدا سے نفی کرنا چاہئے باب توحید میں یہی صراط مستقیم ہے،چنانچہ امام رضا(ع)فرماتے ہیں:
«للناس فی التوحید ثلاثة مذاهب :نفی وتشبیه واثبات بغیر تشبیه ،فمذهب النفی لا یجوز ومذهب التشبیه لا یجوز والسبیل فی الطریقة الثالثة ’’اثبات بلا تشبیه»۔
ترجمہ:توحید کے سلسلہ میں تین مذاہب ہیں : ۱۔نفی  ۲۔تشبیہ  ۳۔بغیر اثبات تشبیہ   ـــــــــــــــــ  نفی وانکار کا مذہب صحیح نہیں ہے،تشبیہ کا مذہب بھی درست نہیں ہے،صحیح راستہ تیسرا راستہ ہے کہ تشبیہ کے بغیر صفات کو تسلیم کیا جائے۔(۱)
...................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
(۱)توحید شیخ صدوق،باب۷،حدیث۸۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21