Monday - 2018 july 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184850
Published : 31/12/2016 19:33

پوروپ میں خواتین کے اقدار کی پامالی:

مغربی تہذیب نے ہمیشہ خواتین کو دوسرے درجہ کا شہری شمار کیا:رہبر انقلاب

مغربی تہذیب کو ان کے نعروں سے نہیں سمجھا جا سکتا،مغربی تہذیب کو مغربی ادب کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے،جو لوگ یوروپی شعر و ادب،افسانوں اور داستانوں سے آشنا ہیں وہ بخوبی واقف ہیں کہ مغربی تہذیب میں قرون وسطیٰ سے لے کر موجودہ صدی کے وسطی دور تک، عورت دوسرے درجہ کی شہری مانی گئی ہے! اب وہ اس کے برخلاف جو بھی دعویٰ کریں وہ غلط ہے۔

ولایت پورٹل:عورت کا دوسرے درجہ کے شہری ہونے کا رتبہ

مغربی تہذیب کو ان کے نعروں سے نہیں سمجھا جا سکتا،مغربی تہذیب کو مغربی ادب کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے،جو لوگ یوروپی شعر و ادب،افسانوں اور داستانوں سے آشنا ہیں وہ بخوبی واقف ہیں کہ مغربی تہذیب میں قرون وسطیٰ سے لے کر موجودہ صدی کے وسطی دور تک، عورت دوسرے درجہ کی شہری مانی گئی ہے! اب وہ اس کے برخلاف جو بھی دعویٰ کریں وہ غلط ہے۔
مغربی تہذیب میں مرد آقا اور عورت پیروکار
آج بھی جب عورت شادی کرکے اپنے شوہر کے گھر جاتی ہے تو اس کا خاندانی (فیملی پکارے جانے والا)نام تک تبدیل کردیا جاتا ہے اور اسے شوہر کے خاندانی پکارے جانے والے نام کو اپنے نام کے آگے جوڑنا پڑتا ہے، عورت صرف اس وقت تک اپنے خاندانی نام کے ساتھ جیتی ہے جب تک اس کی شادی نہ ہو، شادی ہوتے ہی اس کے نام کے آگے شوہر کے خاندانی نام کو جوڑ دیا جاتا ہے، یہ ایک مغربی رسم ہے،ہمارے ملک میں ایسا ہرگز نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے،عورت اپنی خاندانی شخصیت شناخت کو بدستور باقی رکھتی ہے چاہے اس کی شادی ہی کیوں نہ ہوگئی ہو،مغرب کی یہ رسم وہاں کی پرانی تہذیب کی حکایت کرتی ہے جس میں مرد کو سروری وسالاری حاصل تھی۔
پوروپی کلچر میں جب عورت اپنی تمام جائداد و املاک کے ساتھ شادی کرتی تھی،اور شوہر کے گھر (سسرال)جاتی تھی تو نہ صرف اس کا جسم اس کے شوہر کے اختیار میں ہوتا تھا بلکہ اس کے آباء  و   اجداد اور خاندان کی طرف سے ملنے والی جائیداد و املاک بھی اس کے شوہر کی ہوجاتی تھی اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ اہل مغرب جس کا انکار نہیں کرسکتے۔(۱)
حوالہ جات:
۱۔جشن میلاد کوثر کے عنوان سے آزادی اسٹیڈیم میں منعقدہ خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب۔۲۲ اکتوبر سن ۱۹۹۷ ء۔  


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 july 16