Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184877
Published : 2/1/2017 7:7

سعودی عرب میں2016 کے دوران 153 افراد کے سر قلم کیے گئے:ایک رپورٹ

انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے قبل ازیں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں سال 2015 کے دوران 158 افراد کو سزائے موت دی گئی،جو دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب میں سال 2016 کے دوران 153 افراد کو سزائے موت دی گئی،غیر ملکی خبر رساں ایجنسی«اے ایف پی» کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار سرکاری طور اعلان کردہ ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تھوڑے کم ہیں،رواں سال کے دوران قتل اور منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم میں زیادہ تر افراد کے سر قلم کیے گئے،تاہم جنوری کا ایک مہینہ ایسا بھی تھا جس کہ ایک ہی روز میں دہشت گردی کے الزام میں 47 افراد کے سر قلم کیے گئے۔
ان میں مشہور عالم دین شیخ نمر النمر بھی شامل تھے، جس کے بعد ایران میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور مشتعل افراد کی جانب سے تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کرنے کی بھی کوشش کی گئی، جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے تھے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مسلح ڈکیتی، ریپ اور اسلامی تعلیمات کے تحت قائم اصولوں سے انکار پر سزائے موت دی جاتی ہے،انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے قبل ازیں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں سال 2015 کے دوران 158 افراد کو سزائے موت دی گئی،جو دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔
ابلاغ




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21