Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184880
Published : 2/1/2017 18:28

بیوی پر شوہر کےحقوق(۵)

حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:جوعورت اپنے شوہر کو تکلیف دے اور اُسے غمزدہ کرے تو وه رحمت خداسے دور ہوتی ہے اورجو عورت اپنے شوہر کا احترام کرے اور اُسے اذیت نہ پہونچائے اور اس کی فرمانبرداری کرے تو وه عوت خوشبخت اور سعادت مند ہوتی ہے۔

ولای
ت پورٹل:بیوی اور شوہر زندگی کے وہ دو محکم ستون ہیں اگر ان میں میں سے کسی ایک کو لرزہ طاری ہوا تو گھرانے کی پوری عمارت کا اپنی جگہ پر قائم رہنا محال ہے لہذا بیوی کو اپنے شوہر کی دل آزاری سے پرہیز کرتے ہوئے ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیئے آج ہماری گفتگو ایک اہم حق پر ہے لہذا اس موضوع سے متصل ہونے کے لئے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کیجئے!
بیوی پر شوہر کےحقوق(۱)
بیوی پر شوہر کےحقوق(۲)
بیوی پر شوہر کےحقوق(۳)
بیوی پر شوہر کےحقوق(۴)
اپنے شوہر کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا

جو شخص خوش اخلاق ہو ،لوگوں کی ساتھ اچھا  سلوک رکھے ،نرم اور میٹھے لہجہ میں  بات کرے ،حادثات اور مشکلات کے مقابل  صبر کرے تو وه سب کے نزدیک  محترم ہوتا ہے،اس کے دوست زیاده ہوتے ہیں اور سب یہی چاہتے ہیں کہ اس کے ساتھ زیادہ میل جول رکھیں، چونکہ عزیز  و  محترم ہوتا ہے لہذا نفسیاتی  اور روحی بیماری  میں مبتلا نہیں  ہوتاہے،زندگی میں پیش آنے والی تمام  مشکلات اور دشوار یوں  پر فائق رہتا ہے،وہ زندگی کی نعمت سے  لطف اندوز ہوتا ہے نیز اس کے ساتھ رہنے والے بھی خوشی کا احساس کرتے ہیں۔
چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:«کوئی بھی  زندگانی خوش اخلاقی سے  زیاده پسندیده اور خوش آیند نہیں ہوا  کرتی ہے»۔(۱)
لیکن جو شخص بد اخلاق ہوتا ہے،چہرا   بگاڑ کر لوگوں سے  ملاقات کرتا ہے، حادثات اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں ،بغیر سبب کے لڑتا جھگڑتا پھرتا ہے  اور اگر  بد اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ تند مزاج  اور  بدزبان بھی  ہو تو اس کی زندگی اور بھی تلخ اور ناگوار بن جاتی ہے ،خود بھی ہمیشہ ناراض رہتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے والے بھی عذاب  میں گرفتار رہتے ہیں ،دوسرے لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں اور  اپنے اس سے گریزاں اور بیزار  رہتے ہیں ،نہ خود چین کا پانی پیتا ہے نہ گھر والوں کو سکون لینے دیتا، لہذا نہ اچھا کھانا کھا پاتا ہے اور نہ سکون سے سو سکتا ہے، غرض ! ایسا انسان طرح طرح کی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتا ہے، ہمیشہ پریشانی اور  آه وزاری  میں مبتلا رہتا ہے  اس کے دوست کم ہوتے ہیں اور وہ کسی کا بھی محبوب نہیں ہوتا ہے۔
چنانچہ پیغمبر اسلام(ص)ارشاد فرماتے ہیں:«بداخلاق شخص ہمیشہ اپنے نفس کو رنج و عذاب میں  مبتلارکھتا ہے»۔(۲)
پس خوش اخلاقی  سب کیلئے  لازمی ہے خاص کر میاں اور بیوی کیلئے نہایت ہی  ضروری ہوتی ہے  کیونکہ وہ دونوں ہمیشہ ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک ساتھ زندگی گذارنے پر مجبور بھی ہیں۔
اے محترم خاتون!اگر تم ،تمہارا شوہر اور تمہارے بچے خوش رہنا چاہتے  ہوں تو  تم اپنے  اخلاق  کو درست کرو،ہمیشہ خوش و خرم  رہو،لڑائی جھگڑا مت کرو ،اچھے اخلاق اور میٹھی زبان سے پیش آؤ ، تم اچھے  اخلاق کے ذریعہ اپنے گھر کو  خلد بریں کی طرح بناسکتی ہو، لہذا کیا یہ افسوس کی بات نہیں ہے  کہ تم  بداخلاقی کے ذریعے اپنے گھر کو جلا ڈالنے  والی جہنم میں تبدیل کردو ؟اور تم اپنے آپ ، اپنے  شوہراور اپنی اولاد کو اس عذاب میں  مبتلا کردو؟تم  رحمت کا فرشتہ بن سکتی ہو، گھر کے ماحول کو پرسکون  اور نورانی بنا سکتی ہو تو کیوں  اُسے  تاریک قید خانہ بنا رکھا ہے ؟تمہاری مسکراہٹ اورحسن تکلم تمہارے  شوہر اور اولاد کے  دلوں کو مسرور کرسکتی ہے اورغم و اندوہ  کو اسے  دور کرسکتی ہے، کیا تم یہ بات  جانتی ہو کہ تمہاری اولاد جو اسکول یا کام پر  جاتی ہیں  اگر تم ایک مسکراہٹ کے ساتھ ان کو الوداع کہو، ان کی روح اور نفسیات پر اس کے بہت مثبت اثرات ظاہر ہوں گے ،پس اگر تمہیں  اپنی زندگی اور شوہر سے کوئی ہمدردی ہے  تو بداخلاقی مت کرو !کیونکہ نیک اخلاق ازدواجی زندگی میں بهترین مدد گار اور معاون  ہواکرتا ہے  اور اکثر طلاق کامسئلہ میاں بیوی کے  برے سلوک اور نا ھماہنگی کی وجہ سے پیش آتاہے اورطلاق کے اعداد و  شمار  ہماری اس بات کی تصدیق کرتے ہیں، خاندانی اختلافات کو وجود میں لانے والی سب سے پہلی علت  اخلاقی اختلاف ہوتا ہے۔
اے  محترم خاتون !خوش اخلاقی کے سبب  اپنے شوہر کے عشق و محبت کو اپنی طرف مبذول کرو تاکہ وہ  اپنی  زندگی اور اپنے کبنہ کے ساتھ ہمدردی کرنے لگے  اور شوق و ذوق کے ساتھ اپنے کاروبار پر دھیان لگائے اور تمہارے  آرام و آسائش کےاسباب  فراهم کرے اگر تم اس کے ساتھ  خوش اخلاقی سے پیش آتی رہی  تو وه رات کو جلد گھر لوٹ کر آئے گا اور بے کار  عیاشی اور آوارگی کی طرف رُخ  تک نہیں کرے  گا۔
ازدواجی زندگی کی اکثر مشکلات کو ہو شیاری اور خوش اخلاقی سےحل کیا جاسکتا ہے، اگر تمہارا  شوہر تم سے محبت نہیں کرتا  اگر  وہ گھر اور خاندان سے لا تعلق ہے، اگر وہ عیاشیوں کے چکر میں رہتا ہے اگر دیر میں گھر لوٹتا ہے، اگر دوپہر یا رات کا کھانا گھر سے باہر کھاتا ہے اگر تمہارے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، اگر تمہارے ساتھ لڑتا جھگڑتا ہے اگر بار بار طلاق کی دھمکی دیتا ہے غرض ! اس طرح کی بہت سی مشکلات کو اچھے برتاؤ اور خوش اخلاقی کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے، تم اپنے  اخلاق اور برتاؤ  کو بد لو اور پھر  اپنی آنکھوں سے خوش  اخلاقی  کی  شان معجزنمائی کا تماشا  دیکھنا !
چنانچہ حضرت امام جعفر  صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:«خدا  اچھے اخلاق  والے شخص کو جهاد کا ثواب عطا کرتا ہے اور خداوندعالم کی جانب سے ہر  صبح  و شام  اس کیلئے  ثواب نازل ہوتاہے»۔(۳)
حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:«جوعورت اپنے شوہر کو تکلیف دے اور اُسے  غمزدہ کرے تو وه رحمت خداسے دور ہوتی ہے اورجو عورت  اپنے شوہر کا احترام کرے  اور اُسے اذیت نہ پہونچائے اور اس کی فرمانبرداری کرے تو وه عوت خوشبخت اور سعادت مند  ہوتی ہے»۔(۴)
حضرت ختمی مرتبت(ص) کی خدمت میں عرض کیا گیا:«فلاں  عورت  بڑی ہی نیک ہے وہ  دنوِں میں  روزه رکھتی ہے  اور  رات بھر عبادت میں مصروف رہتی ہے  لیکن وہ  بداخلاق ہے اور اپنے  پڑوسیوں کو ستاتی ہے ،آنحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا :«اس کے اندر کوئی نیکی اور بھلائی نہیں پائی جاتی اور وه اهل دوزخ سے ہے»۔(۵)
.....................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔بحار الانوار ،ج 71 ، ص 389 ۔
۲۔بحار الانوار، ج 73 ، ص 298 ۔
۳۔بحار الانوار ، ج 71 ، ص 377 ۔
۴۔بحار الانوار ، ج 103، ص 253 ۔
۵۔بحار الانوار ، ج 103، ص 253 ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20