Monday - 2018 April 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184887
Published : 2/1/2017 19:56

مولانا محمد عسکری امروہوی

مولانا عسکری صاحب نے بھی وہی راستہ اختیار کیا،والد اور دیگر معاصر علماء سے پڑھ کر لکھنؤ گئے،اور تفسیر و حدیث،فقہ و اصول ،طب و فلسفہ ،ہئیت و ہندسہ و منطق میں کمال حاصل کرکے سلطان العلماء و سید العلماء سے اجازے لیکر وطن واپس آئے۔


ولایت پورٹل:
جناب مولانا سید محمد عسکری بن حجۃ الاسلام سید محمد سیادت امروہوی تقریباً سن ۱۲۳۲ ہجری میں امروھہ میں پیدا ہوئے ،والد اور جد بزرگوار عالم،عابد،فقیہ و علم معقولات میں مشہور زمانہ شخصیات  تھے،مولانا عسکری صاحب نے بھی وہی راستہ اختیار کیا،والد اور دیگر معاصر علماء سے پڑھ کر لکھنؤ گئے،اور تفسیر و حدیث،فقہ و اصول ،طب و فلسفہ ،ہئیت و ہندسہ و منطق میں کمال حاصل کرکے سلطان العلماء و سید العلماء سے اجازے لیکر وطن واپس آئے ،طب سے بیماروں اور فقہ سے مؤمنین کی خدمت کی ،والد اور دادا کی طرح مسجدوں کی تعمیر و آبادی کی سعی و کوشش کرتے رہے ،سن ۱۲۸۴ ہجری میں دلدار حسین مستری کو لکھنؤ سے بلواکر قدیم مسجد کی توسیع میں مدد کی ،یہ تعمیر پانچ سال میں مکمل ہوئی،پھر سن ۱۳۰۰ ہجری میں بہت عمدہ استرکاری کی گئی ،مسجد کے کتبے افضل العلماء سید اولاد حسین صاحب کے قلم خورشید سے رقم ہیں۔
وفات
علم و عمل کا یہ خورشید تابناک سن ۱۲۸۹ ہجری میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا لیکن سالکان راہ سعادت کے لئے اپنے نقش پا چھوڑ گیا۔
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 April 23