Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184906
Published : 3/1/2017 19:1

حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیھاکے فضائل و مناقب(۱)

اسلامی تہذیب میں سچے محدثوں کی ایک خاص عزت و حرمت رہی ہے، راویوں اور محدثوں نے گنجینہ معارف اسلامی اور مکتب تشیع کے گرانقدر ذخیروں نیز اسلام کے غنی فرہنگ کی حفاظت کی خاطر ایک نمایاں کردار پیش کیا یہ افراد اسرار آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ اور امانت الٰہی کے امین و محافظ تھے۔


ولایت پورٹل:
ائمہ طاہرین اور اولیاء دین کی معرفت ان کے نفسانی فضائل و کمالات کی معرفت حاصل کرنا ہے نہ یہ کہ فقط اجمالی زندگی کی آشنایی ہی پر اکتفا کیا جائے لہٰذا کریمہ اہل بیت علیہم السلام کی زندگی کے اجمالی خاکے کو بیان کرنے کے بعد آپ کے بعض فضائل و مناقب پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
خاندانی شرافت
آپ کی فضیلتوں میں سے ایک بہت بڑی فضیلت بیت وحی اور کاشانہ رسالت و امامت سے آپ کا نتساب ہے،آپ دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ، دختر ولی خدا، خواہر ولی اللہ، عمہ (پھوپی ) ولی اللہ ہیں اور یہ امر خود تمام فضائل و کمالات معنوی و روحانی کا سر چشمہ ہے کہ آپ کی زندگی ائمہ معصومین علیہم السلام کے جوار میں گزری ہے،مثلا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام اور ایسے راہ نور و سعادت کے رہنماوٴں کی تعلیمات سے بہرہ مند ہونا خود آپ کی بلندی روح اور مقام علمی و رفعت علمی کے لئے ایک اساسی عامل ہے،اس بنیاد پر ہم آپ کو فضائل اہلبیت علیہم السلام کا نمونہ کہہ سکتے ہیں۔
آپ کی عبادت
قرآن مجید کی صریح آیت «وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون»۔(۱) ہم نے جن و انس کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے،تاکہ اس راہ میں کمال حاصل کر کے ہم سے نزدیک ہوں )کے پیش نظر ہدف خلقت انسان فقط عبادت الٰہی ہے وہ حضرات جو اس ہدف کی حقیقت سے روشناس ہیں وہ مرتبہ عالی تک پہنچنے کے لئے جو اطمینان و نفس مطمئنہ کا حصول ہے کسی بھی زحمت کو زحمت نہیں سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی کے بہترین لمحات کو بارگاہ ایزدی میں عبادت و راز و نیاز کا زمانہ سمجھتے ہیں، رات کے سناٹے میں اپنے محبوب کی دہلیز پر سر نیاز خم کردیتے ہیں اور زبان دل سے ہم کلام ہوکر والہانہ انداز میں محو راز و نیاز ہوتے ہیں نیز ہمیشہ اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ نماز و راز و نیاز کی حالت میں اس سے ملاقات کریں تا کہ اس آیہ کریمہ:«یا ایتها النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة»۔ (۲)کے مصداق قرار پائیں۔
بندگی اور عبادت الٰہی کا ایک عالی ترین نمونہ کریمہ اہل بیت فاطمہ معصومہ علیہا السلام ہیں، وہ ۱۷ دنوں کا قیام اور دختر عبد صالح یعنی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی لخت جگر کی وہ یادگار عبادت، خضوع و خشوع، شب زندہ داریہ تمام چیزیں آپ کی بندگی و عبادت کا ایک گوشہ ہیں وہ بیت النور اور معبد و محراب اس صفیۃ اللہ کی عبادتوں کی یادگار ہے، اسی راز و نیاز کی برکتوں سے لخت جگر باب الحوائج نے قیامت تک کے لئے عاشقان عبادت و ولایت کی ہدایت کی راہیں کھول دیں ۔
آپ کی عبادت گاہ موسیٰ بن خزرج کے دولت سرا میں تھی اور آج بھی یہ حجرہ میدان میر خیابان چہار مردان نزدیک مدرسہ ستیہ موجود ہے کہ جو محبان اہلبیت علیہم السلام کی زیارت گاہ ہے۔
عالمہ و محدثہ اہل بیت علیہم السلام
اسلامی تہذیب میں سچے محدثوں کی ایک خاص عزت و حرمت رہی ہے، راویوں اور محدثوں نے گنجینہ معارف اسلامی اور مکتب تشیع کے گرانقدر ذخیروں نیز اسلام کے غنی فرہنگ کی حفاظت کی خاطر ایک نمایاں کردار پیش کیا یہ افراد اسرار آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ اور امانت الٰہی کے امین و محافظ تھے۔
ایک بلند ترین عنوان کہ جو آپ کے علمی مرتبے اور آپ کی معرفت کا شاہکار وہ یہ ہے کہ آپ کو «محدثہ» کہا جاتا ہے بزرگان علم حدیث بلا جھجھک آپ سے منقول احادیث کو قبول فرماتے ہیں اور اس سے استناد کرتے ہیں،کیونکہ آپ مورد وثوق و اطمینان افراد کے علاوہ کسی دوسرے سے حدیث نقل نہیں فرماتی تھیں، ہم مناسب موقع پر ان احادیث میں سے بعض کو بعنوان نمونہ ذکر کریں گے۔
آپ معصومہ ہیں
اگر چہ مقام عصمت ( گناہوں سے محفوظ رہنا در حالیکہ اس کی قدرت رکھتا ہو)ایک خاص رتبہ ہے جو انبیاء کرام اور ان کے اوصیاء و خصوصا چہاردہ معصومین علیہم السلام سے مختص ہے ۔ لیکن بہت سارے ایسے افراد تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں جنھوں نے خداوند عالم کی مخلصانہ بندگی و اطاعت نیز صدق و طہارت کی راہ پر گامزن ہونے کی وجہ سے تقویٰ اور وحی طہارت حاصل کرکے گناہ اور اخلاقی برائیوں سے دوری اختیار کرلی اور اپنی روح کے دامن کو ناپا کی کے دھبے سے بچالیا۔
فاطمہ معصومہ (س) جو مکتب ائمہ (ع) کی تربیت یافتہ اور صاحبان آیت تطہیر کی یادگار ہیں ، طہارت و پاکیزگی نے اس منزل معراج کو طے کیا کہ خاص ۔(۳)و عام نے آپ کو معصومہ کا لقب دیدیا، یہاں تک کہ بعض بزرگ علماء آپ کو طہارت ذاتی کا حامل اور تالی تلو معصومین علیہم السلام سمجھتے ہیںچنانچہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:«من زار المعصومة بقم فقد زارنی»۔(۴)
یعنی جو قم میں فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے اس نے گویا میری زیارت کی ہے نیز زیارت دوم جو آپ کے لئے وارد ہوئی ہے اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے:«السلام علیک ایتها الطاهرۃ الحمیدۃ البرۃ الرشیدۃ التقیة و النقیة»۔(۵) یعنی سلام ہو آپ پر اے پاکیزہ و ستائش شدہ، نیک کردار، ہدایت یافتہ، پرہیزگار اور با صفا خاتون۔
..................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ سورہ ذاریات:آیت۵۷۔
۲۔سورہ فجر :آیت۲۷۔۲۸۔
۳۔ آیت اللہ حسن زادہ آملی کا حضرت فاطمہ معصومہ(س) کی شخصیت کے سلسلے میں منعقد ایک کانفرنس سے خطاب۔
۴۔ ناسخ التواریخ، ج ۷ ،ص ۳۳۷ ۔
۵۔ انوار المشعشعین، شیخ محمد علی قمی، ص ۲۱۱ ۔
mahdimission


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19