Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184908
Published : 3/1/2017 19:36

پوروپ میں خواتین کے اقدار کی پامالی:

پوروپ میں جنسی آزادی کے نام پرمقدس تعلقات کی حدود شکنی ہوئی ہے:رہبر انقلاب

میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ یوروپی و مغربی ممالک کے تمام مرد و خواتین بے راہ روی کے شکار ہیں،نہیں! ہمارا نہ تو یہ دعویٰ ہے اور نہ ہم یہ تہمت لگا سکتے ہیں اور ایسا ہے بھی نہیں،یقینًا ان کے درمیان بہت سے پاکدامن مرد اور عورتیں بھی موجود ہیں،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مغربی دنیا میں جنسی آزادی عام ہے، یہ وہاں کی تہذیب میں شامل ہے، مغربی تہذیب میں جنسی خواہشات و شہوات کی آزادی ایک مباح اورجائز امر ہے اور اس میں کسی طرح کی کوئی قید و شرط نہیں۔

ولایت پورٹل:
موجودہ یوروپ پر قدیم رومی ثقافت حاکم ہے،وہ دو تین چیزوں کے علاوہ ہر چیز سے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں،ان میں سے ایک جو شاید سب سے اہم ہو وہ زن و مرد کے تعلقات کے درمیان فاصلوں اور حدوں کا قائم رہنا ہے،وہ جنسی آزادی کے نام پر ان حدود کی بقا کے شدید مخالف ہیں۔اس کے علاوہ کچھ بھی کیجئے کوئی بات نہیں،ان کے وہم و گمان میں پسماندہ وہ ہے جو ان فاصلوں کو باقی رکھنے کا قائل ہو،اب اگر کسی ملک میں خواتین کو بعض حدود کے ذریعہ مردوں سے فاصلہ پر رکھا جائے تو یہ بات ان کی نظر میں خلاف تمدن ہوگی!! بے چارے ٹھیک ہی کہتے ہیں،قدیم رومی تمدن کے کھنڈر پر قائم ہونے والا ان کا یہ تمدن اس کے علاوہ اور بھی کیا سکھا سکتا ہے؟!
لیکن یہ بات قدروں کی دنیا میں غلط مانی جائے گی۔
٭آج کی ایرانی خاتون علم و سیاست، فن و ہنر اور دیگر مختلف میدانوں میں گذشتہ کی نسبت کہیں زیادہ سرگرم عمل نظر آتی ہے،لیکن مغربی نقطہ نگاہ اور صہیونی و سامراجی رسم و آئین کے مطابق اس بات کو ثانوی حیثیت حاصل ہے،ان کی نظر میں پہلی حیثیت اس چیز کو حاصل ہے جس کا اسلامی جمہوریہ ایران شدید مخالف ہے،یعنی زن و مرد کے تعلقات میں حدود شکنی، عورت کی ہتک حرمت اور اسے محض لذت جوئی اور خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھنا یا پھر اسے پرزرق و برق مصنوعات کے استعمال کی مشین کی حد تک شمار کرنا۔(۱)
٭مغرب میں عورت و مرد کے بلا قید و شرط تعلقات، بے پردگی اور آپسی رشتوں میں کسی طرح کے فاصلوں اور حدوں کا نہ ہونا ایک عام بات ہے، میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ یوروپی و مغربی ممالک کے تمام مرد و خواتین بے راہ روی کے شکار ہیں،نہیں! ہمارا نہ تو یہ دعویٰ ہے اور نہ ہم یہ تہمت لگا سکتے ہیں اور ایسا ہے بھی نہیں،یقینًا ان کے درمیان بہت سے پاکدامن مرد اور عورتیں بھی موجود ہیں،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مغربی دنیا میں جنسی آزادی عام ہے، یہ وہاں کی تہذیب میں شامل ہے، مغربی تہذیب میں جنسی خواہشات و شہوات کی آزادی ایک مباح اورجائز امر ہے اور اس میں کسی طرح کی کوئی قید و شرط نہیں۔(۲)
......................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔شورائے اجتماعی فرہنگی زنان کے اعضاء ،اسپشلسٹ خواتین ڈاکٹر اور حجاب اسلامی کانگریس کے عہدیداروں سے خطاب۔۲۵ دسمبر سن ۱۹۹۱ ء۔
۲۔خطبہ نماز جمعہ،۳۰ مارچ سن ۱۹۹۰ ء۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18